لمبا دھاگہ اور لمبی زبان ہمیشہ الجھ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔


 آج کی بات

💬 "لمبا دھاگہ اور لمبی زبان ہمیشہ الجھ جاتی ہے — اس لیے دھاگہ لپیٹ کر، اور زبان سمیٹ کر رکھیں۔"

یہ جملہ محاورے کی شکل میں ایک گہری اخلاقی اور روحانی حکمت چھپائے ہوئے ہے۔ یہ صرف دھاگے اور زبان کی بات نہیں کرتا — یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زیادہ بولنا، فضول باتیں، اور غیر ضروری تفصیلات رشتوں، معاملات، اور یہاں تک کہ ایمان کو بھی الجھا دیتی ہیں۔ 🌿

دھاگہ اگر بکھرا ہوا ہو، تو کام کا نہیں رہتا — اُلجھ جاتا ہے، ٹوٹ جاتا ہے، اور کسی کام آتا نہیں۔
اور زبان اگر لمبی ہو — یعنی بے لگام، بے سوچے سمجھے، یا غیبت، جھوٹ، اور فضول باتوں سے بھری ہو — تو وہ رشتوں کو کاٹ دیتی ہے، عزتیں چُرا لیتی ہے، اور دلوں میں نفرت بُن دیتی ہے۔

لہٰذا، دھاگہ سنبھالو — اور زبان بھی!


📖 اسلام میں زبان کی ذمہ داری

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

﴿مَا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾
(سورۃ ق: 18)
"کوئی شخص کوئی بات نہیں کہتا مگر اس کے پاس ایک نگران اور تیار (فرشتوں کا) ہوتا ہے۔"

یعنی ہر لفظ لکھا جا رہا ہے — چاہے وہ دوستی کا ہو یا غیبت کا، نیکی کا ہو یا چغلی کا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ"
(صحیح بخاری: 6475)
"جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ یا تو بھلائی بولے، یا خاموش رہے۔"

اور ایک دوسری حدیث میں:

"کَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ، أَوْ يَشْغَلَ نَفْسَهُ بِمَا لَا يَعْنِيهِ"
(ترمذی: 2317)
"انسان کے لیے گناہ کافی ہے کہ وہ اپنے وہن کو ضائع کرے، یا ایسے کام میں لگ جائے جو اسے کچھ بھی نہیں دیتا — خاص طور پر فضول باتیں۔"

یعنی زبان سمیٹنا صرف خاموشی نہیں — یہ عبادت ہے، حفاظت ہے، اور ایمان کی نشانی ہے۔


📜 تاریخ کی گواہی: صحابہ کی زبانیں "لپیٹی" ہوئی تھیں

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

"عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ، أَلَا فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ"
"سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی گفتگو زیادہ ہوگی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی غلطیاں زیادہ ہوں گی اس کے گناہ بھی زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ دوزخ کا زیادہ مستحق ہے۔ سنو! جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 372]۔"

اور ایک اللہ والے فرماتے تھے:

"زبان کو قید رکھو، ورنہ یہ تمہیں جہنم تک پہنچا دے گی۔"

وہ لوگ جو اللہ کے نبی ﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے،
سالوں تک خاموش رہتے — صرف سنتے رہتے،
کیونکہ وہ جانتے تھے: ہر بولے گئے لفظ کا حساب ہوگا۔

آج ہم وہی زبان جو سوشل میڈیا، چائے کی چپّو، اور گپ شپ میں ضائع کر دیتے ہیں،
کل قیامت کے دن اپنے خلاف گواہ بن کر کھڑی ہوگی۔


💭 نفسیات اور رشتوں کی تباہی

ماہرین کہتے ہیں کہ زیادہ بولنا اکثر:

  • غلط فہمیوں کا سبب بنتا ہے،
  • لوگوں کو پریشان کرتا ہے،
  • اور سُننے کی صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے۔

اور جو شخص ہمیشہ بولتا رہے، وہ کبھی دوسرے کے دل کی آواز نہیں سُن پاتا۔
لیکن جو شخص زبان سمیٹ کر رکھے،
وہ نہ صرف معنی خیز چیزیں بولتا ہے،
بلکہ دوسرے کو سننے کا موقع بھی دیتا ہے۔

خاموشی = احترام
کم بولنا = دانائی
ضابطے سے بولنا = وفاداری


💡 عملی رہنمائی: زبان کیسے "سمیٹیں"؟

  1. بولنے سے پہلے سوچیں:
    "کیا یہ بات ضروری ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟ کیا یہ نرمی سے کہی جا سکتی ہے؟"
  2. غیبت، چغلی، اور طعنے سے مکمل پرہیز کریں:
    یہ وہ "لمبا دھاگہ" ہے جو رشتوں کو ہمیشہ کے لیے الجھا دیتا ہے۔
  3. دن میں کم از کم 5 منٹ خاموشی کا وقت نکالیں:
    صرف سوچیں، دعا کریں، یا اللہ کو یاد کریں — بغیر بولے۔
  4. دعا کریں:

    "اللّٰهم احْفَظْ لِسَانِي مِنَ الْغِيبَةِ، وَقَلْبِي مِنَ الْحَسَدِ، وَعَيْنِي مِنَ النَّظَرِ الْحَرَامِ."
    "اے اللہ! میری زبان کو غیبت سے، دل کو حسد سے، اور آنکھ کو حرام نگاہ سے بچا۔"


🌅 خاتمہ: لمبی زبان = الجھن، سمیٹی ہوئی زبان = سکون

دنیا کہتی ہے: "بولو، ورنہ تمہاری آواز دب جائے گی!"
لیکن اسلام کہتا ہے:

"تمہاری آواز وہ ہے جو دل سے نکلے — نہ کہ جو منہ سے بے قابو ہو جائے۔"

دھاگہ اگر لمبا ہو، تو اسے لپیٹ کر رکھنا ہی کام کا ہے۔
زبان اگر بے لگام ہو، تو اسے سمیٹ کر رکھنا ہی عقلمندی ہے۔

🌟 "زبان کا ہر لفظ ایک تیر ہے —
اگر نشانہ لگے، تو شاید ٹھیک ہو،
لیکن اگر کسی کے دل میں لگ جائے،
تو نکالنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس لیے تیر رکھو، اور زبان سمیٹو۔"

🤲 "اے اللہ! ہماری زبانوں کو ضابطے میں رکھ،
ہمارے الفاظ کو نرمی اور سچائی سے بھر دے،
اور ہمیں وہ حکمت عطا فرما جو ہمیں بولنے سے زیادہ سُننے پر مجبور کرے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
لمبا دھاگہ اور لمبی زبان ہمیشہ الجھ جاتی ہے —
اس لیے دھاگہ لپیٹ کر، اور زبان سمیٹ کر رکھیں!"


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں