🤍✨🕌📿⭐️سیرت النبی ﷺ قدم بقدم🌴𝟐𝟕🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
پہلے ان سے ان نوجوانوں کے بارے میں سوال کرو جو پچھلے زمانے میں کہیں نکل گئے تھے۔ یعنی اصحاب کہف کے بارے میں پوچھو کہ ان کا کیا واقعہ تھا۔ اس لئے کہ ان کا واقعہ نہایت عجیب و غریب ہے، ہماری پرانی کتابوں کے علاوہ اس واقعے کا ذکر کہیں نہیں ملے گا...اگر وہ نبی ہیں تو اللہ تعالٰی کی طرف سے خبر پاکر ان کے بارے میں بتادیں گے...ورنہ نہیں بتا سکیں گے۔
پھر ان سے یہ پوچھنا کہ سکندر ذو القرنين کون تھا، اس کا کیا قصہ ہے۔ پھر ان سے روح کے بارے میں پوچھنا کہ وہ کیا چیز ہے۔ اگر انہوں نے پہلے دونوں سوالوں کا جواب دے دیا اور ان کا واقعہ بتادیا اور تیسرے سوال یعنی روح کے بارے میں بتادیا تو تم لوگ سمجھ لینا کہ وہ سچے نبی ہیں، اس صورت میں تم ان کی پیروی کرنا۔"
یہ لوگ یہ تین سوالات لے کر واپس مکہ آئے اور قریش سے کہا:
"ہم ایسی چیز لے کر آئے ہیں کہ اس سے ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا۔"
اس کے بعد انہوں نے ان سب کو تفصیل سنائی۔ اب یہ مشرکین حضور نبی کریم ﷺ کے پاس آئے۔ انہوں نے آپ سے کہا:
"اے محمد! اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو ہمارے تین سوالات کے جوابات بتادیں،
ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ اصحاب کہف کون تھے؟ دوسرا سوال ہے کہ ذوالقرنین کون تھے؟ اور تیسرا سوال ہے کہ روح کیا چیز ہے؟"
آپ نے ان کے سوالات سن کر فرمایا:
"میں ان سوالات کے جوابات تمہیں کل دوں گا۔"
نبی اکرم ﷺ نے اس جملے میں ان شاءاللہ نہ فرمایا، یعنی یہ نہ فرمایا، ان شاءاللہ میں تمہیں کل جواب دوں گا۔ قریش آپ کا جواب سن کر واپس چلے گئے۔ آنحضرت ﷺ وحی کا انتظار کرنے لگے، لیکن وحی نہ آئی۔ دوسرے دن وہ لوگ آگئے، آپ انہیں کوئی جواب نہ دے سکے، وہ لوگ لگے باتیں کرنے۔ انہوں نے یہ تک کہہ دیا:
"محمد کے رب نے انہیں چھوڑدیا۔"
ان لوگوں میں ابو لہب کی بیوی ام جمیل بھی تھی۔ اس نے بھی یہ الفاظ کہے:
"میں دیکھتی ہوں کہ تمہارے مالک نے تمہیں چھوڑ دیا ہے اور تم سے ناراض ہو گیا ہے۔"
نبی اکرم ﷺ کو قریش کی یہ باتیں بہت شاق گزریں ۔ آپ بہت پریشان اور غمگین ہو گئے۔ آخر جبرئیل علیہ السلام سورہ کہف لے کر نازل ہوئے۔ اللہ تعالٰی کی طرف سے آپ کو ہدایت کی گئی:
"اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ اس کو کل کردوں گا مگر اللہ کے چاہنے کو ملا لیا کیجئے (یعنی ان شاءاللہ کہا کیجئے) آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کیا کیجئے اور کہہ دیجئے کہ مجھے امید ہے میرا رب مجھے (نبوت کی دلیل بننے کے اعتبار سے) اس سے بھی نزدیک تر بات بتادے گا۔" (سورہ کہف)
مطلب یہ تھا کہ جب آپ یہ کہیں کہ آئندہ فلاں وقت پر میں یہ کام کروں گا تو اس کے ساتھ ان شاءاللہ ضرور کہا کریں ۔ اگر آپ اس وقت اپنی بات کے ساتھ ان شاءاللہ ملانا بھول جائیں اور بعد میں یاد آجائے تو اس وقت ان شاءاللہ کہہ دیا کریں ۔ اس لئے کہ بھول جانے کے بعد یاد آنے پر وہ ان شاء اللہ کہہ دینا بھی ایسا ہے جیسے گفتگو کے ساتھ کہہ دینا ہوتا ہے۔
اس موقعے پر وحی میں دیر اسی بنا پر ہوئی تھی کہ آپ نے ان شاء اللہ نہیں کہا تھا۔ جب جبرئیل علیہ السلام سورہ کہف لے کر آئے تو آپ نے ان سے پوچھا تھا:
"جبرئیل! تم اتنی مدت میرے پاس آنے سے رکے رہے، اس سے تشویش پیدا ہونے لگی تھی۔"
جواب میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:
"ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہ ایک زمانے سے دوسرے زمانے میں داخل ہو سکتے ہیں ،نہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں ، ہم تو صرف اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ، اور یہ جو کفار کہہ رہے ہیں کہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑ دیا ہے تو آپ کے رب نے آپ کو ہرگز نہیں چھوڑا بلکہ یہ سب اس کی حکمت کے مطابق ہوا ہے۔"
پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کو اصحاب کہف کے بارے میں بتایا۔ ذوالقرنین کے بارے میں بتایا اور پھر روح کے بارے وضاحت کی۔
اصحاب کہف کی تفصیل تفسیر ابن کثیر کے مطابق یوں ہے:
"وہ چند نو جوان تھے، دین حق کی طرف مائل ہوگئے تھے اور راہ ہدایت پر آگئے تھے۔ یہ نوجوان پرہیزگار تھے۔ اپنے رب کو معبود مانتے تھے یعنی توحید کے قائل تھے۔ ایمان میں روز بروز بڑھ رہے تھے اور یہ لوگ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین پر تھے۔ لیکن بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے پہلے کا ہے، اس لئے کہ یہ سوال یہودیوں نے پوچھے تھے اور اس کا مطلب ہے کہ یہودیوں کی کتابوں میں یہ واقعہ موجود تھا۔ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسٰی علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔
قوم نے ان کی مخالفت کی۔ ان لوگوں نے صبر کیا۔ اس زمانے کے بادشاہ کا نام دقیانوس تھا۔ وہ مشرک تھا،اس نے سب کو شرک پر لگا رکھا تھا۔ تھا بھی بہت ظالم۔ بت پرستی کراتا تھا۔ وہاں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ یہ نوجوان اپنے ماں باپ کے ساتھ اس میلے میں گئے۔ وہاں انہوں نے بت پرستی ہوتے دیکھی۔ یہ وہاں سے بیزار ہو کر نکل آئے اور سب ایک درخت کے نیچے جمع ہوگئے۔ اس سے پہلے یہ لوگ الگ الگ تھے۔ ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔ آپس میں بات چیت شروع ہوئی تو معلوم ہوا، یہ سب بت پرستی سے بیزار ہو کر میلے سے چلے آئے ہیں ۔ اب یہ آپس میں گھل مل گئے۔ انہوں نے اللہ کی عبادت کے لئے ایک جگہ مقرر کرلی۔ رفتہ رفتہ مشرک قوم کو ان کے بارے میں پتا چل گیا، وہ انہیں پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ نے ان سے سوالات کئے تو انہوں نے نہایت دلیری سے شرک سے بری ہونے کا اعلان کیا۔ بادشاہ اور درباریوں کو بھی توحید کی دعوت دی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا، ہمارا رب وہی ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور یہ ناممکن ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت کریں ۔
ان کی اس صاف گوئی پر بادشاہ بگڑا۔ اس نے انہیں ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ اگر یہ باز نہ آئے تو میں انہیں سخت سزا دوں گا۔
بادشاہ کا حکم سن کر ان میں کوئی کمزوری پیدا نہ ہوئی، ان کے دل اور مضبوط ہوگئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے محسوس کرلیا کہ یہاں رہ کر وہ اپنی دین داری پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔ اس لئے انہوں نے سب کو چھوڑ کر وہاں سے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔ جب یہ لوگ اپنے دین کو بچانے کے لئے قربانی دینے پر تیار ہوگئے تو ان پر اللہ تعالٰی کی رحمت نازل ہوئی۔ ان سے فرما دیاگیا:
"جاؤ تم کسی غار میں پناہ حاصل کرو تم پر تمہارے رب کی رحمت ہوگی اور وہ تمہارے کام میں آسانی اور راحت مہیا فرماوے گا۔"
پس یہ لوگ موقع پاکر وہاں سے بھاگ نکلے اور ایک پہاڑ کے غار میں چھپ گئے۔ قوم نے انہیں ہر طرف تلاش کیا، لیکن وہ نہ ملے...اللہ تعالٰی نے انہیں ان کے دیکھنے سے عاجز کردیا...بالکل اسی قسم کا واقعہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ پیش آیا تھا جب آپ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے ساتھ غار ثور میں پناہ لی تھی، لیکن مشرکین غار کے منہ تک آنے کے باوجود آپ کو نہیں دیکھ سکے تھے ۔
اس واقعے میں بھی چند روایات میں تفصیل اس طرح ہے کہ بادشاہ کے آدمیوں نے ان کا تعاقب کیا تھا اور غار تک پہنچ گئے تھے، لیکن غار میں وہ ان لوگوں کو نظر نہیں آئے تھے۔ قرآن کریم کا اعلان ہے کہ اس غار میں صبح و شام دھوپ آتی جاتی ہے۔
یہ غار کس شہر کے کس پہاڑ میں ہے، یہ یقینی طور پر کسی کو معلوم نہیں ...پھر اللہ تعالٰی نے ان پر نیند طاری کردی۔ اللہ تعالٰی انہیں کروٹیں بدلواتے رہے۔ ان کا کتا بھی غار میں ان کے ساتھ تھا۔
اللہ تعالٰی نے جس طرح اپنی قدرت کاملہ سے انہیں سلادیا تھا، اسی طرح انہیں جگادیا۔ وہ تین سو نو سال تک سوتے رہے تھے۔ اب تین سو نو سال بعد جاگے تو بالکل ایسے تھے جیسے ابھی کل ہی سوئے تھے۔
ان کے بدن، کھال، بال، غرض ہر چیز بالکل صحیح سلامت تھی ۔یعنی جیسے سوتے وقت تھے، بالکل ویسے ہی تھے ۔ کسی قسم کی کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی ۔ وہ آپس میں کہنے لگے: " کیوں بھئی! بھلا ہم کتنی دیر تک سوتے رہےہیں ؟
ایک نے جواب دیا:
ایک دن یا اس سے بھی کم "
یہ بات اس نے اس لیے کہی تھی کہ وہ صبح کے وقت سوئے تھے اور جب جاگے تو شام کا وقت تھا ۔اس لیے انہوں نے یہی خیال کیا کہ وہ ایک دن یا اس سے کم سوئے ہیں ۔پھر ایک نے یہ کہہ کر بات ختم کردی
اس کا درست علم تو اللہ کو ہے "
اب انہیں شدید بھوک پیاس کا احساس ہوا ۔انہوں نے سوچا، بازار سے کھانا منگوانا چاہیے ۔ پیسے ان کے پاس تھے ۔ان میں سے کچھ وہ الله کے راستے میں خرچ کرچکے تھے، کچھ ان کے پاس باقی تھے ۔ایک نے کہا:
ہم میں سے کوئی پیسے لے کر بازار چلاجائے اور کھانے کی کوئی پاکیزہ اور عمدہ چیز لے آئے اور جاتے ہوئے اور آتے ہوئے اس بات کا خیال رکھے کہ کہیں لوگوں کی نظر اس پر نہ پڑ جائے ۔ سودا خریدتے وقت بھی ہوشیاری سے کام لے ۔ کسی کی نظروں میں نہ آئے ۔ اگر انہیں ہمارے بارے میں معلوم ہوگیا تو ہماری خیر نہيں ۔ دقیانوس کے آدمی ابھی تک ہمیں تلاش کرتے پھررہے ہوں گے ۔
چنانچہ ان میں سے ایک غار سے باہر نکلا، اسے سارا نقشہ ہی بدلا نظر آیا۔ اب اسے کیا معلوم تھا کہ وہ تین سو نو سال تک سوتے رہےہیں ۔ اس نے دیکھا کوئی چیز اپنے پہلے حال پر نہيں تھی ۔ شہر میں کوئی بھی اسے جانا پہچانا نظر نہ آیا ۔ یہ حیران تھا، پریشان تھا اور ڈرے ڈرے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا ۔ اس کا دماغ چکرارہا تھا، سوچ رہاتھا، کل شام تو ہم اس شہر کو چھوڑ کر گئےہیں، پھر یہ اچانک کیا ہوگیا ہے ۔ جب زیادہ پریشان ہوا تو اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا، مجھے جلد از جلد سودا لےکر اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ جانا چاہیے ۔آخر وہ ایک دکان پر پہنچا، دکان دار کو پیسے دیے اور کھانے پینے کا سامان طلب کیا ۔ دکان دار اس سکے کو دیکھ کر حیرت زده رہ گیا ۔ اس نے وہ سکہ ساتھ والے دکان دار کو دکھایا اور بولا:
بھائی ذرا دیکھنا! یہ سکہ کس زمانے کا ہے؟
اس نے دوسرے کو دیا ۔ اس طرح سکہ کئی ہاتھوں میں گھوم گیا ۔ کئی آدمی وہاں جمع ہوگئے ۔آخر انہوں نے اس سے پوچھا:
تم یہ سکہ کہاں سے لائے ہو؟ تم کس ملک کے رہنے والے ہو؟
جواب میں اس نے کہا:
میں تو اسی شہر کا رہنے والا ہوں ، کل شام ہی کو تو یہاں سے گیا ہوں ، یہاں کا بادشاہ دقیانوس ہے ۔ وہ سب اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور بولے:
یہ تو کوئی پاگل ہے، اسے پکڑ کر بادشاہ کے پاس لے چلو ۔
آخر اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا ۔وہاں اس سے سوالات ہوئے ۔اس نے تمام حال کہہ سنایا ۔
بادشاہ اور سب لوگ اس کی کہانی سن کر حیرت زدہ رہ گئے ۔آخر انہوں نے کہا: اچھا ٹھیک ہے ۔ تم ہمیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے چلو....وہ غار ہمیں بھی دکھاؤ ۔
چنانچہ سب لوگ اس کے ساتھ غار کی طرف روانہ ہوئے ۔ان نوجوانوں سے ملے اور انہیں بتایا کہ دقیانوس کی بادشاہت ختم ہوئے تین صدیاں بیت چکی ہیں اور اب یہاں الله کے نیک بندوں کی حکومت ہے ۔بہرحال ان نوجوانوں نے اپنی بقیہ زندگی اسی غار میں گزاری اور وہیں وفات پائی ۔بعد میں لوگوں نے ان کے اعزاز کے طور پر پہاڑ کی بلندی پر ایک مسجد تعمیر کی تھی ۔ایک روایت یہ بھي ہے کہ جب شہر جانے والا پہلا نوجوان لوگوں کو لےکر غار کے قریب پہنچا تو اس نے کہا:
تم لوگ یہیں ٹھہرو، میں جاکر انہيں خبر کردوں ۔
اب یہ ان سے الگ ہوکر غار میں داخل ہوگیا ۔ ساتھ ہی الله تعالٰی نے ان پر پھر نیند طاری کردی...بادشاہ اور اس کے ساتھی اسے تلاش کرتے رہ گئے...نہ وہ ملا اور نہ ہی وہ غار انہیں نظر آیا، الله تعالٰی نے ان کی نظروں سے غار کو اور ان سب کو چھپادیا ۔
ان کے بارے میں لوگ خیال ظاہر کرتے رہے کہ وہ سات تھے، آٹھواں ان کا کتا تھا، یا وہ نو تھے، دسواں ان کا کتا تھا ۔ بہرحال ان کی گنتی کا صحیح علم الله ہی کو ہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے ارشاد فرمایا:
ان کے بارے میں زیادہ بحث نہ کریں اور نہ ان کے بارے کسی سے دریافت کریں۔ (کیونکہ ان کے بارے میں لوگ اپنی طرف سے باتیں کرتے ہیں ۔ کوئی صحیح دلیل ان کے پاس نہیں۔) مشرکین کا دوسرا سوال تھا، ذوالقرنین کون تھا۔
ذوالقرنین کے بارے تفصیلات یوں ملتی ہیں "ذوالقرنین ایک نیک، خدا رسیدہ اور زبردست بادشاہ تھا۔ انہوں نے تین بڑی مہمات سر کیں ، پہلی مہم میں وہ اس مقام تک پہنچے، جہاں سورج غروب ہوتا ہے، یہاں انہیں ایک ایسی قوم ملی جس کے بارے میں اللہ نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو اس قوم کو سزا دیں ، چاہیں تو ان کے ساتھ نیک سلوک کریں ۔
ذولقرنین نے کہا کہ
" جو شخص ظالم ہے، ہم اسے سزا دیں گے اور مرنے کے بعد الله تعالیٰ بھی اسے سزا دیں گے، البتہ مومن بندوں کو نیک بدلہ ملے گا۔"
دوسری مہم میں وہ اس مقام تک پہنچے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے، وہاں انہیں ایسے لوگ ملے، جن کے مکانات کی کوئی چھت وغیرہ نہیں تھی۔ تیسری مہم میں وہ دو گھاٹیوں کے درمیان پہنچے، یہاں کے لوگ ان کی بات نہیں سمجھتے تھے۔انہوں نے اشاروں میں یا ترجمان کے ذریعے یاجوج ماجوج کی تباہ کاریوں کا شکوہ کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ ان کے اور یاجوج ماجوج کے درمیان بند بنادیں ۔ذوالقرنین نے لوہے کی چادریں منگوائیں ۔ پھر ان سے ایک دیوار بنادی۔ اس میں تانبا پگھلا کر ڈالا گیا۔ اس کام کے ہونے پر ذوالقرنین نے کہا:
" یہ الله کا فضل ہے کہ مجھ سے اتنا بڑا کام ہوگیا ۔"
قیامت کے قریب یاجوج ماجوج اس دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ذوالقرنین کے بارے میں مختلف وضاحتیں کتابوں میں ملتی ہیں ۔ قرنین کے معنی دو سمتوں کے ہیں ۔ ذوالقرنین دنیا کے دو کناروں تک پہنچے تھے اس لئے انہیں ذوالقرنین کہا گیا۔
بعض نے قرن کے معنی سینگ کے لیے ہیں ، یعنی دو سینگوں والے۔ ان کا نام سکندر تھا۔لیکن یہ یونان کے سکندر نہیں ہیں جسے سکندراعظم کہا جاتا ہے۔ یونانی سکندر کافر تھا جبکہ یہ مسلم اور ولی الله تھے۔ یہ سام بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ خضر علیہ السلام ان کی فوج کا جھنڈا اٹھانے والے تھے۔
تیسرے سوال یعنی روح کے بارے میں الله تعالٰی نے ارشاد فرمایا:
" یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہے، آپ فرمادیجیے کہ روح میرے رب کے حکم سے قائم ہے، یعنی روح کی حقیقت اسی کے علم میں ہے، اس کے سوا اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔
روح کے بارے میں یہودیوں کی کتابوں میں بھی بالکل یہی بات درج تھی کہ روح الله کے حکم سے قائم ہے۔ اس کا علم الله ہی کے پاس ہے اور اس نے اپنے سوا کسی کو نہیں دیا۔ یہودیوں نے مشرکوں سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے روح کے متعلق کچھ بتایا تو سمجھ لینا، وہ نبی نہیں ہیں ۔ اگر صرف یہ کہا کہ روح الله کے حکم سے قائم ہے تو سمجھ لینا کہ وہ سچے نبی ہیں ۔ آپ نے بالکل یہی جواب ارشاد فرمایا۔
لگے ہاتھوں یہاں ایک واقعہ بھی سن لیں ، جب مسلمانوں نے ہندوستان فتح کیا تو ہندو مذہب کا ایک عالم مسلمان عالموں سے مناظرہ کرنے کے لیے آیا۔ اس نے مطالبہ کیا۔
میرے مقابلے میں کسی عالم کو بھیجو، اس پر لوگوں نے امام رکن الدین کی طرف اشارہ کیا۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں