🌸 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع، سبق نمبر 12الف


 سورۃ انعام کا خلاصہ 

رکوع نمبر ١۱ کا خلاصہ: قرآنِ کریم دعوتِ توحید ہے
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آسمانی کتابوں میں آخری کتاب ہے، جو صاف ستھری اور نکھری ہوئی توحید کی دعوت دیتا ہے۔ یہ قرآن اصولی طور پر گزشتہ تمام امتوں کی دعوت کے ساتھ متحد ہے، لہٰذا قرآنِ کریم ایک متفق علیہ دعوتِ توحید ہے۔

رکوع نمبر ۱۲ کا خلاصہ: دعوتِ توحید کے دلائل
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کی مختلف نشانیاں اور قدرت کے کرشمے دکھا کر فرمایا جا رہا ہے کہ جس خدا کی طرف ہم تمہیں دعوت دے رہے ہیں، اس خدا کی قدرت کے کرشموں کو دیکھ کر تو یہ چاہیے تھا کہ تم اس پر ایمان لاتے اور سبقِ توحید میں پختہ کار ہوتے، لیکن اس کے بجائے تم اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تجویز کرتے ہو! یہ کیسی احمقانہ بات ہے؟

رکوع نمبر ۱۳ کا خلاصہ: اسبابِ بصیرت دکھانے کے بعد اصل ذمہ داری انسان پر
اللہ تعالیٰ کی جانب سے اسبابِ بصیرت دکھا دیے گئے، دلائل سمجھا دیے گئے، راستہ واضح کر دیا گیا۔ اب بھی اگر کوئی نہ مانے تو یہ اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔ ویسے بھی حضورِ اقدس ﷺ کی ذمہ داری صرف راستہ دکھانا ہے، چلانا نہیں۔

رکوع نمبر ۱۴ کا خلاصہ: انبیاء علیہم السلام کی تعلیم پر دو قسم کے گروہ
دنیا میں ہر نبی کے کچھ نہ کچھ دشمن ضرور ہوئے ہیں۔ چنانچہ جب کسی نبی کو بھیجا جاتا ہے تو اس وقت انسان دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں:
ایک وہ جن کی طبیعتیں نبی کی تعلیم کے موافق ہوتی ہیں،
اور دوسرے وہ جن کی طبیعتیں نبی کی تعلیم کے مخالف ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی عادات و اطوار پر زد پڑتی ہے۔
یوں وہ انبیاء کے دشمن بن جاتے ہیں۔
صحیح تعلیم پر یقین کی دولت حاصل ہو جانا سعادت کی علامت ہے، اور اس صحیح تعلیم کی مخالفت کرنا شیطنت کا ایک مظہر ہے۔ جس کو جو گروہ پسند ہو، وہ اسی میں شامل ہو جائے۔

رکوع نمبر ۱۵ کا خلاصہ: توحید کے مخالف و موافق یکساں نہیں ہو سکتے
جس طرح نور و ظلمت، روشنی و اندھیرا، دن و رات، چاند و سورج، سیاہی و سفیدی، عالم و جاہل، بینا و نابینا برابر نہیں ہو سکتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل اور اس کا منکر دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔
توحید کے قائل ہمیشہ کے عیش و آرام میں ہوں گے، اور توحید کے منکرین ہمیشہ کی رسوائی اور ذلت میں گرفتار ہوں گے۔

رکوع نمبر ۱۶ کا خلاصہ: مخالفینِ توحید کا احساسِ حق
قیامت کے دن منکرینِ توحید کے سامنے جب ان کی غلطی واضح ہو جائے گی تو اس وقت وہ اپنی کفر و شرک کی زندگی پر خود ہی اظہارِ نفرت کریں گے۔
یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ وہ سزا دینے سے پہلے غلطی کا احساس کرا دیتے ہیں۔
تاہم ان کا موجودہ مسلک و عقیدہ عقل و نقل دونوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول نہیں۔
عقلاً اس طرح کہ جب کوئی چیز اللہ کے نام کی دیتے ہیں تو وہ اللہ کے بجائے ان کے معبودانِ باطلہ کو پہنچ جاتی ہے، لیکن جو ان کے معبودانِ باطلہ کے نام پر ہو، وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں پہنچتی۔
ایک جانور کا گوشت مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام؟ یہ کیسی احمقانہ حرکتیں ہیں! نقل سے بھی اس کا بطلان ظاہر ہے۔

رکوع نمبر ۱۷ اور ۱۸ کا خلاصہ: قانونِ خداوندی ہر طرح سے درست ہے
اس سے قبل رکوع میں یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ کفار کا اشیاء کو حلال و حرام قرار دینا عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔
اب بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے جو اشیاء حلال و حرام مقرر کی ہیں وہ ہر طرح معقول ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ مالکِ کل ہیں۔ وہ جس چیز کو چاہیں حلال قرار دیں اور جس چیز کو چاہیں حرام۔
حرام چیزوں کی ایک فہرست بیان کی جا رہی ہے جن سے مسلمانوں کو مکمل اجتناب لازم ہے، ہاں حلال و طیب چیزیں کھاؤ جو اعمالِ صالحہ کی ادائیگی میں تمہیں قوت دیں۔

رکوع نمبر ۱۹ کا خلاصہ: قانونِ اسلام کا خلاصہ
اوپر ماکولات (کھانے پینے کی چیزوں) کا حکم بیان کیا گیا۔
اب اس رکوع میں بقیہ قانونِ اسلام کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے کہ:
شرک نہ کرنا، تعلق باللہ کو درست رکھنا، اور تعلق بالمخلوق بھی درست رکھنا۔

اس کی دو صورتیں ہیں:
(۱) بالا دستوں کے ساتھ — جیسے والدین کے ساتھ۔
انسان کی خوبی کا امتحان یہ ہے کہ جو بے طمع محسن ہیں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے ساتھ برائی کا وہم بھی دل میں نہ آنے دے۔
(۲) ماتحتوں کے ساتھ — جیسے اولاد کے ساتھ۔
انہیں بھوک یا پیاس کے خوف سے قتل نہ کیا جائے، ان کی اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے، برائی کے قریب نہ جایا جائے، ناحق کسی کو قتل نہ کیا جائے، یتیم کا مال نہ کھایا جائے، وعدہ پورا کیا جائے، ناپ تول میں کمی بیشی نہ کی جائے، انصاف سے بات کی جائے اور کسی گمراہ فرقے کی اتباع نہ کی جائے۔

 رکوع نمبر ۲۰ کا خلاصہ: قرآنِ کریم کی اتباع کی دعوت 
مشرکین اور کفار کے تمام دعووں اور اعتراضات کے جواب میں قرآنِ کریم نازل کیا گیا تاکہ وہ یہ عذر نہ پیش کریں کہ پہلی کتابیں عبرانی اور سریانی زبان میں تھیں، ہم ان سے ناواقف تھے۔
یہ عذر بھی قابلِ قبول نہیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی کتاب آتی تو ہم اس کی قدر کرتے — اب تو کتاب آ چکی ہے!
لہٰذا اس کی اتباع کرو تاکہ اس کے انوار و برکات سے مستفید ہو سکو۔
ورنہ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت سخت ہے۔
جب وہ آ گیا تو پھر لاکھ توبہ کرو، وہ قبول نہ ہوگی، اور نہ کوئی نفع دے سکے گا۔
اس لیے آج ہی توبہ کر کے توحید کے قائل ہو کر ملتِ ابراہیمی پر گامزن ہو جاؤ۔

"آج الحمدللہ سورة الانعام کی 20 رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورۃ الأعراف  شروع کرینگے۔"
🌼🤲♥️🌸🌹

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں