آج کی بات: محبت کو الفاظ نہیں، لہجوں میں تلاش کریں

✨ آج کی بات ✨




💬 "محبت کو الفاظ نہیں، لہجوں میں تلاش کریں — الفاظ تو منافقین کے بھی بہت میٹھے ہوتے ہیں۔"


یہ جملہ صرف ایک شاعرانہ خیال نہیں — یہ حقیقت کا ایک تیز دھار آئینہ ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی دل کے لہجے میں چھپی ہوتی ہے، زبان کے الفاظ میں نہیں۔ 🌿


دنیا میں ہر کوئی "محبت" کے الفاظ بول سکتا ہے:
— "تم میری جان ہو"،
— "میں تمہارے بغیر جی نہیں سکتا"،
— "تمہاری خوشی ہی میری خوشی ہے"…


لیکن کیا یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے نکلتے ہیں؟
یا صرف منہ کی بولی ہوئی ہوا ہیں؟


اسلام کہتا ہے:

"الْمُنَافِقُونَ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِمْ مَا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ"
(سورۃ الفتح: 11)
"منافقین اپنی زبانوں سے وہ کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتا۔"


یعنی میٹھے الفاظ خطرناک ہو سکتے ہیں — اگر وہ عمل، نیت، اور لہجے سے خالی ہوں۔




🌟 لہجہ کیا ہوتا ہے؟ دل کی زبان!

لہجہ صرف آواز کا انداز نہیں —
یہ نگاہوں کی نرمی، ہاتھ کا تھامنا، خاموشی میں بیٹھنا، اور وقت دینا ہے۔
یہ وہ چیز ہے جو بولے بغیر سب کچھ کہہ دیتی ہے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَىٰ صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ"
(صحیح مسلم: 2564)
"اللہ تمہاری صورتوں اور دولت کی طرف نہیں دیکھتا، بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے۔"


یعنی اللہ کو الفاظ سے غرض نہیں — وہ دل کا لہجہ دیکھتا ہے۔
اور جو شخص دل سے محبت کرتا ہے، وہ:**

  • آپ کی غلطی پر ڈانٹ کر نہیں، بلکہ سُدھار کر محبت کرتا ہے،
  • آپ کی خاموشی کو سمجھتا ہے،
  • آپ کی ضرورت کو آپ کے کہے بغیر پہچانتا ہے،
  • اور آپ کے دکھ میں اپنا دل دے کر ساتھ دیتا ہے۔ 💖



📜 تاریخ کی گواہی: حضور ﷺ کا لہجہِ محبت

ایک دفعہ ایک صحابی نے حضور ﷺ سے پوچھا:

"یا رسول اللہ! میں فلاں شخص سے محبت کرتا ہوں، کیا میں اسے بتاؤں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا:
"اگر تم اس سے محبت کرتے ہو، تو ضرور بتاؤ۔"


لیکن جب وہ شخص اپنے دوست کے پاس گیا، تو صرف یہ کہا:

"میں تم سے اللہ کی راہ میں محبت کرتا ہوں۔"


اور دوست نے جواب دیا:

"جس نے تمہیں میری محبت دی، اس سے میری بھی محبت ہے۔"


یہاں کوئی دراز دستی، کوئی میٹھی چاپلوسی، کوئی ڈرامائی اعلان نہیں —
صرف ایک سادہ جملہ، ایک پاکیزہ لہجہ، اور ایک صاف دل۔
اور یہی سچی محبت ہے۔


اسی طرح، حضور ﷺ نے 1۔   حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ،          2۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ۔کے بارے میں فرمایا تھا:

"فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي"
"میرے ماں باپ تُجھ پر قربان!"


لیکن یہ الفاظ صرف لفظی نہیں تھے —
بلکہ آپ ﷺ ہر وقت اپنے صحابہ کی خبر گیری کرتے، اُن کے دکھ میں شریک ہوتے، اور اُن کی خوشی کے لیے ہنس دیتے۔
یہی لہجہِ محبت ہے۔




💭 منافقین کے میٹھے الفاظ: دھوکے کا ہتھیار

منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ ۖ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ ۖ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ﴾
(سورۃ المنافقون: 4)
"اور جب تم انہیں دیکھو تو ان کے جسم تمہیں پسند آتے ہیں، اور جب وہ بولیں تو ان کی بات سن کر تم متاثر ہو جاتے ہو — حالانکہ یہ تو کھڑے کھڑے کھوکھلے درخت ہیں!"


یعنی منافقین کے الفاظ میٹھے، لیکن دل خالی ہوتے ہیں۔
آج بھی کئی لوگ "میں تمہیں بہت چاہتا ہوں" کہہ کر:
— آپ کے راز فاش کر دیتے ہیں،
— آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی ہنسی اُڑاتے ہیں،
— یا آپ کی محبت کو ہتھیار بنا کر استعمال کرتے ہیں۔


لیکن سچا محبت کرنے والا کبھی:
— آپ کو شک کے گھر میں نہیں رکھتا،
— آپ کی عزت کو ہتھیار نہیں بناتا،
— اور آپ کے دکھ کو موقع نہیں سمجھتا۔




💡 عملی رہنمائی: محبت کا لہجہ کیسے پہچانیں؟
  1. عمل دیکھیں، الفاظ نہیں:
    کیا وہ آپ کے دکھ میں ساتھ ہے؟ کیا وہ آپ کی غلطی سُدھارتا ہے؟

  2. خاموشی میں امتحان لیں:
    جب آپ بولیں نہیں، کیا وہ آپ کی ضرورت محسوس کرتا ہے؟

  3. غیر موجودگی میں جانچیں:
    کیا وہ آپ کی عزت کرتا ہے جب آپ نہیں ہوتے؟

  4. دعا کریں:

    "اللّٰهم ارْزُقْنِي مَحَبَّةً صَادِقَةً، وَلُطْفًا فِي الْكَلَامِ، وَرِقَّةً فِي الْمُعَامَلَةِ."
    "اے اللہ! مجھے سچی محبت، بولنے میں نرمی، اور سلوک میں نازک دلی عطا فرما۔" 




🌅 خاتمہ: محبت دل کی زبان ہے، منہ کی نہیں

دنیا کے سب سے میٹھے الفاظ بھی کھوکھلے ہیں اگر دل سے نہ نکلیں۔
لیکن ایک خاموش نگاہ، ایک ہاتھ کا تھامنا، یا ایک دعا کا سلسلہ —
یہ سب لفظوں سے کہیں زیادہ کہہ دیتے ہیں۔


🌟 "الفاظ تو ہر کوئی بول سکتا ہے،
لیکن لہجہ صرف وہی بول سکتا ہے جس کا دل سچا ہو۔
منافقین کے منہ سے شہد بھی نکل سکتا ہے،
لیکن محبت صرف ایمان والوں کی آنکھوں میں چمکتی ہے۔"


🤲 "اے اللہ! ہمیں وہ دل عطا فرما جو الفاظ کے بجائے عمل سے محبت کرے،
اور ہمیں وہ بصیرت دے جو منافقین کے میٹھے بولوں سے بچا سکے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
محبت کو الفاظ نہیں، لہجوں میں تلاش کرنا چاہیے۔"



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں