یہ ذوالقرنین کے دوسرے سفر کا ذکر ہے


ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 سورۃ الکہف آیت 90🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼


حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ

ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 لفظی ترجمہ 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼


حَتّٰٓي : یہاں تک کہ اِذَا بَلَغَ : جب وہ پہنچا مَطْلِعَ : طلوع ہونے کا مقام الشَّمْسِ : سورج وَجَدَهَا : اس نے اس کو پایا تَطْلُعُ : طلوع کر رہا ہے عَلٰي قَوْمٍ : ایک قوم پر لَّمْ نَجْعَلْ : ہم نے نہیں بنایا لَّهُمْ : ان کے لیے مِّنْ دُوْنِهَا : اس کے آگے سِتْرًا : کوئی پردہ

ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 ترجمہ 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼


یہاں تک کہ جب وہ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جسے ہم نے اس (کی دھوپ) سے بچنے کے لیے کوئی اوٹ مہیا نہیں کی تھی۔ (46)

ⲯ🌹﹍︿🕌﹍︿﹍🕋 تفسیر 🕋﹍ⲯ﹍🌹ⲯ🌹﹍︿🕌﹍☼


46: یہ ذوالقرنین کے دوسرے سفر کا ذکر ہے، اس سفر میں وہ دنیا کی انتہائی مشرقی آبادی تک جا پہنچے تھے، یہاں کچھ غیر متمدن لوگ رہتے تھے، ان میں مکان بنانے اور چھتیں ڈالنے کا دستور نہیں تھا، سب کھلے میدان میں رہتے تھے، اس لئے دھوپ سے بچاؤ کے لئے کوئی اوٹ نہیں تھی، بلکہ سورج کی کرنیں ان پر براہ راست پڑتی تھیں۔


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں