مختصر تفسیر ِعتیق : سورۃ فصلت


مکی سورت ہے۔ اس میں چون آیتیں اور چھ رکوع ہیں۔

 قرآن کریم کے رحمان و رحیم کا کلام ہونے کی خبر کے ساتھ ماننے والوں کا انجامِ خیر اور نہ ماننے والوں کا انجام بد مذکور ہے اور زکوٰۃ کی ادائیگی نہ کرنے والے کو مشرکین کی صف میں کھڑا کیا ہے۔ اس کے بعد آسمان و زمین کو چھ دن کے اندر مکمل کرنے کا بیان ہے۔ دو دن میں زمین بنائی اور دو دن میں اس کے اندر خزانے ودیعت کر کے چار دن میں اس سے فارغ ہو گئے اور پھر مزید دو روز کے اندر آسمان کو دھوئیں سے بنایا۔ اس کی زینت اور حفاظت کے لئے ستاروں کو پیدا کر کے کل کائنات کی تخلیق چھ روز میں مکمل کر دی۔

 اگر یہ لوگ پھر بھی اللہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے تو انہیں قوم عاد و ثمود کی تاریخ سے درس عبرت حاصل کرنے کی تلقین کرو۔ ان کے پاس توحید کا پیغام لے کر رسول آتے رہے قوم عاد تو کہنے لگی کہ ہم بہت طاقتور لوگ ہیں۔ ہم سے زیادہ طاقت والا دنیا میں اور کوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس اللہ نے تمہارے جیسے طاقت ور پیدا کئے وہ تم سے بھی زیادہ طاقتور ہے، مگر انہیں یہ بات سمجھ میں نہ آئی تو اللہ نے شدید آندھی ان پر مسلط کر کے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ثمود کے انکار پر انہیں بھی ذلت آمیز کڑک سے دوچار کر کے ہلاک کر دیا اور ایمان و تقویٰ والوں کو نجات عطاء فرما دی۔

 پھر قیامت میں اٹھائے جانے اور حساب و کتاب کے لئے ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء کی گواہی اور کافروں کے تعجب کو ذکر کر کے بتایا کہ جس اللہ نے تمہاری زبان کو قوت گویائی دی تھی۔ اس کے لئے دوسرے اعضاء کو بلوانا کوئی مشکل نہیں ہے۔ پھر حق کے مقابلہ میں کفر کا ایک بھونڈا انداز کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اتنا شور مچاؤ کہ ان کی آواز دب جائے اور تم غالب آ جاؤ۔ ایسے کافروں اور اللہ کے دشمنوں کے لئے جہنم کا ذلت آمیز ٹھکانہ ہو گا۔ اللہ کو رب مان کر استقامت کا مظاہرہ کرنے والوں کی دلجوئی اور تسلی کے لئے فرشتے اتریں گے اور انہیں ہر قسم کے خوف اور غم سے نجات کی بشارت سنائیں گے۔ جنت میں ان کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ یہ غفور رحیم کی مہمانی ہو گی۔ 

بہترین انسان وہ ہے جو اعلیٰ کردار اور بہترین عملی زندگی کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہو اور دوسروں کو بھی اچھی زندگی اپنانے کی دعوت دیتا ہو۔ ایسے لوگ برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کر کے اپنے دشمن کا دل بھی موہ لیتے ہیں۔ یہ لوگ صبر و شکر کی زندگی گزارنے والے ہوتے ہیں اور یہ خوبیاں بڑے نصیب والوں کو ہی ملا کرتی ہیں۔ 

اللہ کی قدرت کی نشانیاں دن رات، سورج چاند ہیں۔ لہٰذا انہیں سجدہ کرنے کی بجائے ان کے پیدا کرنے والے کو سجدہ کرو۔ بنجر و ویران زمین بھی اس کی نشانی ہے کہ جیسے ہی پانی برستا ہے تو وہ لہلہانے اور نشو و نما پانے لگ جاتی ہے، جس ذات نے اسے زندہ کر دیا وہ مردوں کو بھی زندہ کر دے گا۔ قرآن کریم میں ترمیم و تنسیخ کے خواب دیکھنے والے ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں ہو سکتے اور قرآن کریم پر باطل کسی طرح بھی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ قرآن کریم کو ہم نے عجمی نہیں بلکہ عربی بنایا ہے اس میں ایمان والوں کے لئے ہدایت اور شفاء ہے۔ جو نیکی کرے گا تو اپنا ہی فائدہ کرے گا اور برائی کرے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ تیرا رب بندوں پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا کرتا۔  

قیامت کے وقت کو اللہ ہی جانتے ہیں۔ کونپلوں سے کیسا پھل برآمد ہو گا۔ شکمِ مادر میں کیا ہے اور کب جنے گی اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں؟ وہ خود کہیں گے کہ ہم ان سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ انسان خیر طلب کرنے سے کبھی نہیں اکتاتا لیکن جیسے ہی تکلیف یا مصیبت میں مبتلا ہو جائے تو بہت جلد مایوسی اختیار کر لیتا ہے۔ جب آرام و راحت مل جائے تو قیامت کو ایک دم بھول کر ہر فائدہ کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے۔

 تکلیف آ جائے تو لمبی لمبی دعاؤں میں لگ جاتا ہے اور آرام و راحت کے وقت  ’’کنّی‘‘ کترا کے نکل جاتا ہے۔ ہم آفاق کے اندر اپنی آیتیں آپ کو دکھلا کر چھوڑیں گے تاکہ حق ظاہر ہو جائے کیا یہ کافی نہیں ہے کہ تیرا رب ہر چیز پر گواہ ہے اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے ملاقات کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ سنو! اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے۔ 
٭٭٭

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں