🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴52🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
غزوہ بدر — امیہ بن خلف کی ہلاکت، ابوجہل کا انجام، اور معجزات
⚔️ امیہ بن خلف کی گرفتاری اور حضرت بلالؓ کا انتقام
حضرت بلال رضی اللہ عنہ اسے دیکھ کر بلند آواز میں پکارے:
"کافروں کا سردار امیہ بن خلف یہ رہا... اگر امیہ بچ گیا تو سمجھو میں نہیں بچا!"
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امیہ اپنے بیٹے کے ساتھ ادھر ادھر بھاگتا نظر آیا تھا — حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں کئی زرہیں تھیں — یہ مال غنیمت میدان جنگ سے ملا تھا — لیکن جونہی انہیں امیہ اور اس کا بیٹا نظر آیا — انہوں نے زرہیں گرا دیں اور ان دونوں کو پکڑ لیا — اس طرح یہ دونوں اب ان کے قیدی بن گئے۔
یہ انہیں لے جا رہے تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور پکارنے لگے: "یہ رہا امیہ بن خلف!"
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے الفاظ سنتے ہی حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا:
"لیکن یہ دونوں اب میرے قیدی ہیں۔"
حضرت بلال نے پھر وہی الفاظ کہے:
"اگر آج امیہ بچ گیا تو سمجھو میں نہیں بچا!"
ساتھ ہی حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو پکارا:
"اے انصاریو! اے اللہ کے مددگارو! یہ کافروں کا امیہ بن خلف ہے — اگر یہ بچ گیا تو سمجھو میں نہیں بچا!"
یہ سن کر انصاری ان کی طرف دوڑ پڑے — انہوں نے چاروں طرف سے انہیں گھیر لیا — حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تلوار کھینچ لی اور اس پر وار کیا۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امیہ کو بچانے کے لیے اس کے بیٹے کو آگے کر دیا — امیہ جاہلیت کے زمانے میں ان کا دوست تھا — اسی دوستی کے ناتے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اسے قتل ہونے سے بچانا چاہتے تھے — ادھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر اس کے قتل کی دھن پوری طرح سوار تھی۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی تلوار امیہ کے بیٹے کو لگی اور وہ زخمی ہو کر گرا — اسے گرتا دیکھ کر امیہ بھیانک انداز میں چیخا — یہ چیخ حد درجے خوفناک اور ہولناک تھی — ساتھ ہی تلواریں بلند ہوئیں اور امیہ کے جسم میں اتر گئیں۔
امیہ کو بچانے کے سلسلے میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ خود بھی معمولی سے زخمی ہوئے — وہ کہا کرتے تھے:
"اللہ تعالیٰ بلال پر رحم فرمائیں — میرے حصے میں نہ زرہیں آئیں نہ قیدی۔"
🎯 نوفل بن خویلد کا انجام
ایسے میں حضور نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا:
"کسی کو نوفل بن خویلد کا بھی پتہ ہے؟"
جواب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
"اللہ کے رسول! اسے میں نے قتل کیا ہے۔"
یہ سن کر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اللہ اکبر! اللہ کا شکر ہے جس نے اس شخص کے بارے میں میری دعا قبول فرمائی۔"
جنگ شروع ہونے سے پہلے اس نوفل بن خویلد نے بلند آواز میں کہا تھا:
"اے گروہِ قریش! آج کا دن عزت اور سر بلندی کا دن ہے۔"
اس کی بات سن کر آپ ﷺ نے فرمایا تھا:
"اے اللہ! نوفل بن خویلد کا انجام مجھے دکھلا۔"
🔪 ابوجہل کا انجام
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا:
"قتل ہونے والے کافروں میں ابوجہل کی لاش کو تلاش کیا جائے۔"
ابوجہل نے جنگ شروع ہونے سے پہلے کہا تھا:
"اے اللہ! دونوں دینوں (یعنی اسلام اور کفار کے خود ساختہ دین) میں جو دین تیرے نزدیک افضل اور پسندیدہ ہو — اسی کی مدد فرما اور نصرت فرما۔"
🗡️ حضرت معاذ بن عمرو جموحؓ کا عمل
حضرت معاذ بن عمرو جموح رضی اللہ عنہ — جو اس جنگ کے دوران کم سن صحابہ میں شمار ہوتے تھے — کہتے ہیں:
"جنگ کے دوران میں نے دیکھا کہ ابوجہل کو اس کے بہت سے ساتھی حفاظت کے لیے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں اور وہ کہہ رہے تھے: 'اے ابو الحکم (ابوجہل کی کنیت تھی) تم تک کوئی نہیں پہنچ پائے گا۔'
جب میں نے ان کی یہ بات سنی تو ابوجہل کی طرف بڑھا — اور اس پر تلوار کا ایک وار مارا — اس وار سے اس کی پنڈلی کٹ گئی۔
ابوجہل کے بیٹے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ باپ کی مدد کے لیے بڑھے (یہ حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے) — انھوں نے مجھ پر تلوار کا وار کیا — اس سے میرا بازو کٹ گیا — صرف تھوڑی سی کھال کے ساتھ بازو اٹکا رہ گیا۔
میں جنگ میں مصروف رہا، لیکن لٹکنے والے ہاتھ کی وجہ سے لڑنا مشکل ہو رہا تھا — میں تمام دن لڑتا رہا اور وہ بازو لٹکتا رہا — آخر جب اس کی وجہ سے رکاوٹ زیادہ ہونے لگی — تو میں نے اپنا پاؤں اس پر رکھ کر جھٹکا دیا — اس سے وہ کھال بھی کٹ گئی — میں نے اپنے بازو کو اٹھا کر پھینک دیا۔"
ابوجہل زخمی حالت میں تھا کہ اس دوران معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہ اس کے پاس گزرے — انہوں نے اس پر وار کیا — اس وار سے وہ گر گیا اور وہ اسے مردہ سمجھ کر آگے بڑھ گئے — لیکن وہ ابھی زندہ تھا۔
حضرت معوذ رضی اللہ عنہ جنگ کرتے آگے بڑھتے چلے گئے — یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔
🗡️ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا عمل
اتنے میں زخموں سے چور ابوجہل کے پاس سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا — انہوں نے اپنا پیر اس کی گردن پر رکھ کر کہا:
"اے خدا کے دشمن! کیا تجھے خدا نے رسوا نہیں کر دیا؟"
اس کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:
"اے اللہ کے رسول! میں نے ابوجہل کو قتل کیا ہے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"برتری اسی ذات باری تعالیٰ کے لیے ہے — جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمہ تین بار فرمایا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کی تلوار حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دی — اس خوبصورت اور قیمتی تلوار پر چاندی کا کام کیا گیا تھا۔
👼 فرشتوں کی مدد اور دیگر معجزات
بدر کی جنگ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے بھی مدد فرمائی تھی۔
اس روز حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے نہایت سرفروشی سے جنگ کی — ان کے جسم پر بہت بڑے بڑے زخم آئے۔
⚔️ کھجور کی چھڑی سے تلوار
اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی تلوار لڑتے لڑتے ٹوٹ گئی — تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجور کی ایک چھڑی عنایت فرمائی — وہ چھڑی ان کے ہاتھ میں آتے ہی معجزاتی طور پر ایک چمک دار تلوار بن گئی — حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ اس تلوار سے لڑتے رہے — یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی — اس تلوار کا نام 'عون' رکھا گیا — یہ تلوار تمام غزوات میں حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہی — اسی تلوار سے وہ جنگ کیا کرتے تھے — ان کے انتقال کے بعد یہ تلوار ان کی اولاد کو وراثت میں ملتی رہی۔
اسی طرح حضرت سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہ کی تلوار بھی ٹوٹ گئی تھی — حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھجور کی جڑ عطا فرمائی اور فرمایا:
"اس سے لڑو!"
انہوں نے جونہی اس جڑ کو ہاتھ میں لیا — وہ ایک نہایت بہترین تلوار بن گئی — اور اس غزوہ کے بعد ان کے پاس رہی۔
🩺 لعاب دہن سے شفا
حضرت خبیب بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"ایک کافر نے میرے دادا پر تلوار کا وار کیا — اس وار میں ان کی ایک پسلی الگ ہو گئی — حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعاب دہن لگا کر ٹوٹی پسلی اس کی جگہ رکھ دی — وہ پسلی اپنی جگہ پر اس طرح جم گئی جیسے ٹوٹی ہی نہیں تھی۔"
حضرت رفاعہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
"ایک تیر میری آنکھ میں آ کر لگا — میری آنکھ پھوٹ گئی — میں اسی حالت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ میں اپنا لعاب دہن ڈال دیا — آنکھ اسی وقت ٹھیک ہو گئی — اور زندگی بھر اس آنکھ میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔"
🗺️ قتل کی جگہوں کی پیش گوئی کا پورا ہونا
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ مشرکوں کی لاشوں کو ان جگہوں سے اٹھا لایا جائے — جہاں جہاں ان کے قتل ہونے کی نشان دہی کی تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے ایک دن پہلے ہی ہمیں بتا دیا تھا: 'ان شاء اللہ! کل یہ عتبہ بن ربیعہ کے قتل کی جگہ ہوگی — یہ شیبہ بن ربیعہ کے قتل کی جگہ ہوگی — یہ امیہ بن خلف کے قتل کی جگہ ہوگی۔'
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان جگہوں کی نشان دہی فرمائی تھی — اب جب لاشیں جمع کرنے کا حکم ملا اور صحابہ کرام لاشوں کی تلاش میں نکلے — تو کافروں کی لاشیں بالکل انہی جگہوں پر پڑی ملیں۔"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام لاشوں کو ایک گڑھے میں ڈالنے کا حکم فرمایا۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں