شیطانی رفاقت اور ہدایت کا فریب


 

شیطانی رفاقت اور ہدایت کا فریب

"شیطان کو اپنا بھائی مت بناؤ"

سبق نمبر 44

آیاتِ مبارکہ

وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ الرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ ۝ وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ (📖 سورۃ الزخرف: آیات 36-37)


ترجمہ

اور جو شخص رحمٰن کی نصیحت سے منہ موڑتا ہے، تو ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں، پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ اور وہ انہیں راہِ حق سے روکتے رہتے ہیں، اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔


تشریح و بصیرت

نصیحت سے اعراض کرنے کی حقیقت یہ ہے کہ انسان حق کو پہچان لینے کے باوجود اسے تسلیم نہ کرے۔

  • مصلحت کی اسیری: جب خدائی حقیقت ناقابلِ تردید دلائل کے ساتھ سامنے آ جائے، مگر آدمی اپنی دنیوی مصلحتوں یا انا کے تحفظ کے لیے اسے نظر انداز کر دے، تو یہ اعراض ہے۔

  • شیطان کا تسلط: یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب شیطان کو انسان پر مستقل قابو پانے کا موقع ملتا ہے۔ وہ اس کی عقل و فکر کو غلط رخ پر ڈال دیتا ہے۔

  • جھوٹی توجیہات: شیطان اسے فرضی دلیلیں اور خود ساختہ تاویلیں سکھاتا ہے، جس سے اسے یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہی عین حق اور ہدایت ہے۔


فریب کا خاتمہ

یہ خوش فہمی اور شیطانی فریب صرف اس وقت ٹوٹتا ہے جب انسان موت کی دہلیز پار کر کے اللہ کے سامنے آخری حساب کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔

  1. دنیا کا معیار: دنیا میں انسان ایسے ہی لوگوں کو اپنا قریب ترین ساتھی (قرین) بناتا ہے جو اس کی غلطیوں کی تائید کریں اور اس کے جھوٹ کو سچ بنا کر دکھائیں۔

  2. آخرت کی حقیقت: آخرت میں جب پردے اٹھیں گے، تو وہی انسان اپنے ان تمام "رفیقوں" پر لعنت کرے گا جنہوں نے اسے حق سے دور رکھا۔

وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس کے شیطانی ساتھی کے درمیان مشرق و مغرب جتنا فاصلہ ہوتا، تاکہ وہ نہ ان کی شکل دیکھ سکے اور نہ ان کی آواز سن سکے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں