🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴51🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴51🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

غزوہ بدر — عبیدہ بن حارث کی شہادت اور مشرکین پر فتح


⚔️ عبیدہ بن حارثؓ کی شہادت

دونوں کے درمیان کچھ دیر تک تلواروں کے وار ہوتے رہے، یہاں تک کہ دونوں زخمی ہو گئے۔ اس وقت تک حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما اپنے اپنے دشمن (مقابل) کا صفایا کر چکے تھے — لہٰذا وہ دونوں ان کی طرف بڑھے اور عتبہ کو ختم کر دیا۔

پھر زخمی عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر لشکر میں لے آئے — انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لٹا دیا گیا۔ انہوں نے پوچھا:

"اے اللہ کے رسول! کیا میں شہید نہیں ہوں؟"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"میں گواہی دیتا ہوں کہ تم شہید ہو۔"

اس کے بعد صفراء کے مقام پر حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا — انہیں وہیں دفن کیا گیا، جب کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ منورہ کی طرف لوٹ رہے تھے۔


🗡️ سواد بن غزیہؓ کا واقعہ — رسول کے جسم سے مس کرنے کی سعادت

جنگ سے پہلے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفوں کو ایک نیزے کے ذریعے سیدھا کیا تھا۔ صفوں کو سیدھا کرتے ہوئے حضرت سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے — یہ صف سے قدرے آگے بڑھے ہوئے تھے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تیر سے ان کے پیٹ کو چھوا اور فرمایا:

"سواد! صف سے آگے نہ نکلو — سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔"

اس پر حضرت سواد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

"اللہ کے رسول! آپ نے مجھے اس تیر سے تکلیف پہنچائی — اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے حق اور انصاف دے کر بھیجا ہے — لہٰذا مجھے بدلہ دیں۔"

آپ نے فوراً اپنا پیٹ مبارک کھولا اور ان سے فرمایا:

"لو! تم اب اپنا بدلہ لے لو۔"

حضرت سواد آگے بڑھے اور آپ کے سینے سے لگ گئے اور آپ کے شکم مبارک کو بوسہ دیا۔

اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا:

"سواد! تم نے ایسا کیوں کیا؟"

انہوں نے عرض کیا:

"اللہ کے رسول! آپ دیکھ رہے ہیں — جنگ سر پر ہے — اس لیے میں نے سوچا — آپ کے ساتھ زندگی کے جو آخری لمحات بسر ہوں — وہ اس طرح بسر ہوں کہ میرا جسم آپ کے جسم مبارک سے مس کر رہا ہو — (یعنی اگر میں اس جنگ میں شہید ہو گیا تو یہ میری زندگی کے آخری لمحات ہیں)۔"

یہ سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔

ایک روایت میں آتا ہے:
"جس مسلمان نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چھو لیا — آگ اس جسم کو نہیں چھوئے گی۔"

ایک روایت میں یوں ہے:
"جو چیز بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو لگ گئی — آگ اسے نہیں جلائے گی۔"


🛡️ جنگ سے پہلے ہدایات اور خطبہ

پھر جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوں کو سیدھا کر دیا — تو فرمایا:

"جب دشمن قریب آ جائے تو انہیں تیروں سے پیچھے ہٹانا — اور اپنے تیر اس وقت تک نہ چلاؤ جب تک کہ وہ نزدیک نہ آ جائیں — (کیونکہ زیادہ فاصلے سے تیراندازی اکثر بے کار ثابت ہوتی ہے اور تیر ضائع ہوتے رہتے ہیں) — اسی طرح تلواریں بھی اس وقت تک نہ سونتنا جب تک کہ دشمن بالکل قریب نہ آ جائے۔"

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خطبہ دیا:

"مصیبت کے وقت صبر کرنے سے اللہ تعالیٰ پریشانیاں دور فرماتے ہیں — اور غموں سے نجات عطا فرماتے ہیں۔"

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سائبان میں تشریف لے گئے — اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے — سائبان کے دروازے پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کچھ انصاری مسلمانوں کے ساتھ ننگی تلواریں لیے کھڑے تھے — تاکہ دشمن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھنے سے روک سکیں — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وہاں سواریاں بھی موجود تھیں — تاکہ ضرورت کے وقت آپ سوار ہو سکیں۔


🎯 پہلی شہادت اور صحابہ کا جذبہ

مسلمانوں میں سب سے پہلے مہجع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے — یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام تھے — عامر بن حضرمی نے انہیں تیر مار کر شہید کر دیا۔

ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سائبان میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے میں گر کر یوں دعا کر رہے تھے:

"اے اللہ! اگر آج مومنوں کی جماعت ہلاک ہو گئی — تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔"

پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سائبان سے نکل کر صحابہ کے درمیان تشریف لائے اور انہیں جنگ پر ابھارنے کے لیے فرمایا:

"قسم ہے اس ذات کی — جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے — جو شخص بھی آج ان مشرکوں کے مقابلے میں صبر اور ہمت کے ساتھ لڑے گا — ان کے سامنے سینہ تانے جمّا رہے گا اور پیٹ نہیں پھیرے گا — اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا۔"

⚡ عمیر بن حمامؓ کا جذبہ

حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے — یہ الفاظ سن کر کھجوریں ہاتھ سے گرا دیں اور بولے:

"واہ واہ! تو — میرے اور جنت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے کہ ان کافروں میں سے کوئی مجھے قتل کر دے۔"

یہ کہتے ہی تلوار سونت کر دشمنوں سے بھڑ گئے — اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

⚡ عوف بن عفراءؓ کا جذبہ

حضرت عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:

"اللہ کے رسول! بندے کے کس عمل پر اللہ کو ہنسی آتی ہے؟" (یعنی اس کے کس عمل سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں)

جواب میں آپ نے فرمایا:

"جب کوئی مجاہد زرہ بکتر پہنے بغیر دشمن پر حملہ آور ہو۔"

یہ سنتے ہی انہوں نے اپنے جسم پر سے زرہ بکتر اتار کر پھینک دی — اور تلوار سونت کر دشمن پر ٹوٹ پڑے — یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

حضرت معبد بن وہب رضی اللہ عنہ دونوں ہاتھوں میں تلوار لے کر جنگ میں شریک ہوئے — یہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم زلف تھے — یعنی ام المومنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہ کی بہن کے خاوند تھے۔


🪨 کنکریوں کا معجزہ — اللہ کی طرف سے نصرت

جنگ کے دوران حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکریوں کی اٹھائی اور مشرکوں پر پھینک دی — ایسا کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کہا تھا۔

کنکریوں کو مٹھی میں پھینکتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"یہ چہرے خراب ہو جائیں۔"

ایک روایت کے مطابق یہ الفاظ آئے ہیں:

"اے اللہ! ان کے دلوں کو خوف سے بھر دے — ان کے پاؤں اکھاڑ دے۔"

اللہ کے حکم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے کوئی کافر ایسا نہ بچا جس پر وہ کنکریاں نہ پڑی ہوں — ان کنکریوں نے کافروں کو بدحواس کر دیا — آخر نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شکست کھا کر بھاگے — مسلمان ان کا پیچھا کرنے لگے — انہیں قتل اور گرفتار کرنے لگے۔

کنکریوں کی مٹھی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

"اور اے نبی! کنکریوں کی مٹھی آپ نے نہیں بلکہ ہم نے پھینکی تھی۔"
(سورۃ الانفال: آیت 17)


⛓️ گرفتاریاں اور حضرت ابوعبیدہؓ کا اپنے باپ کو قتل کرنا

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں کے شکست کھا جانے کے بعد اعلان فرمایا:

"مسلمانوں میں سے جس نے جس کافر کو مارا ہے — اس کا سامان اسی مسلمان کا ہے — اور جس مسلمان نے جس کافر کو گرفتار کیا — وہ اسی مسلمان کا قیدی ہے۔"

وہ کافر جو بھاگ کر نہ جا سکے — انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اس جنگ میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کیا — پہلے خود باپ نے بیٹے پر وار کیا تھا — لیکن یہ وار حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بچا گئے اور خود اس پر وار کیا — جس سے وہ مارا گیا۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

"جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں — آپ انہیں نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسول کے خلاف ہیں — اگرچہ وہ ان کے بیٹے یا بھائی یا خاندان میں سے کیوں نہ ہوں۔"
(سورۃ المجادلہ: آیت 23)


😢 امیہ بن خلف کی گرفتاری اور حضرت بلالؓ کا انتقام

اس جنگ میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے کو قیدی بنا لیا — اسلام سے پہلے مکہ میں یہ شخص حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا دوست رہا تھا — اور یہی وہ امیہ بن خلف تھا جو حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر بے تحاشہ ظلم کرتا رہا تھا۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان دونوں کو لیے میدان جنگ سے گزر رہے تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نظر امیہ بن خلف پر پڑ گئی


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں