🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴49🌴


 🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴49🌴

سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*

غزوہ بدر — پہلی جنگ میں مسلمانوں کی تیاریاں اور اللہ کی مدد


📊 لشکر کی تعداد اور سامانِ سفر

روحاء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو گننے کا حکم دیا — گننے پر معلوم ہوا مجاہدین کی تعداد 313 ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا:

"یہ وہی تعداد ہے جو طالوت کے ساتھیوں کی تھی — جو ان کے ساتھ نہر تک پہنچے تھے۔"
(طالوت بنی اسرائیل کے ایک نیک مجاہد بادشاہ تھے — ان کی قیادت میں 313 مجاہدوں نے جالوت نامی کافر بادشاہ کی فوج کو شکست دی تھی)

لشکر میں گھوڑوں کی تعداد صرف پانچ تھی — اونٹ ستر کے قریب تھے — اس لیے ایک ایک اونٹ تین تین یا چار چار آدمیوں کے حصے میں دیا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں جو اونٹ آیا — اس میں دو اور ساتھی بھی شریک تھے — آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس اونٹ پر اپنی باری کے حساب سے سوار ہوتے — اور ساتھیوں کی باری پر انہیں سوار ہونے کا حکم فرماتے — اگرچہ وہ اپنی باری بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کی خواہش ظاہر کرتے — وہ کہتے:

"اے اللہ کے رسول! آپ سوار رہیں — ہم پیدل چل لیں گے۔"

جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:

"تم دونوں پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ مضبوط نہیں ہو — اور نہ میں تمہارے مقابلے میں اس کی رحمت سے بے نیاز ہوں۔"
(یعنی میں بھی تم دونوں کی طرح اجر کا خواہش مند ہوں)


🐪 اونٹ کا معجزاتی طور پر تندرست ہو جانا

روحاء کے مقام پر ایک اونٹ تھک کر بیٹھ گیا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاس سے گزرے تو پتا چلا — اونٹ تھک کر بیٹھ گیا ہے اور اٹھ نہیں رہا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پانی لیا — اس سے کلی کی — کلی والا پانی اونٹ والے کے برتن میں ڈالا اور اس کے منہ میں ڈال دیا — اونٹ فوراً اٹھ کھڑا ہوا — اور پھر اس قدر تیز چلا کہ لشکر کے ساتھ جا ملا — اس پر تھکاوٹ کے کوئی آثار باقی نہ رہے۔


🕊️ حضرت عثمانؓ کا مدینہ میں ٹھہرنا اور حضرت ابولبابہؓ کا قائم مقام ہونا

اس غزوہ کے موقع پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ ہی میں ٹھہرنے کا حکم فرمایا — وجہ اس کی یہ تھی کہ ان کی زوجہ محترمہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

"تمہیں یہاں ٹھہرنے کا بھی اجر ملے گا اور جہاد کرنے کا اجر بھی ملے گا۔"

اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنایا۔


🕵️ جاسوسی کا نظام اور قریش کی آمد کی اطلاع

طلحہ بن عبید اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو جاسوسی کی ذمے داری سونپی — تاکہ یہ دونوں لشکر سے آگے جا کر قریش کے تجارتی قافلے کی خبر لائیں — نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ منورہ سے ہی روانہ فرما دیا تھا۔

روحاء کے مقام سے اسلامی لشکر آگے روانہ ہوا — عرق ظبیہ کے مقام پر ایک دیہاتی ملا — اس سے دشمن کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو سکا۔

اب لشکر پھر آگے بڑھا — اس طرح اسلامی لشکر ذفران کی وادی تک پہنچ گیا — اس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ قریش مکہ ایک لشکر لے کر اپنے قافلے کو بچانے کے لیے مکہ سے کوچ کر چکے ہیں۔


🗣️ صحابہ کرام سے مشورہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اطلاع ملنے پر تمام لشکر کو ایک جگہ جمع فرمایا اور ان سے مشورہ کیا — کیونکہ مدینہ منورہ سے مسلمان صرف ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لیے روانہ ہوئے تھے — کسی باقاعدہ لشکر کے مقابلے کے لیے نہیں نکلے تھے۔

اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باری باری اپنی رائے دی:

1. حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی تقریر

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

"اے اللہ کے رسول! آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے — اس کے مطابق عمل فرمائیے — ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں کہیں گے — جس طرح موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ 'آپ اور آپ کا رب جا کر لڑ لیجیے — ہم تو یہیں بیٹھے ہیں' — بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں — ہم آپ کے ساتھ ہیں — ہم آپ کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں لڑیں گے — آخر دم تک لڑیں گے۔"

حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے — حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو دعا دی۔

2. حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی تقاریر

حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی تقاریر کیں — ان کی تقاریر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری حضرات کی طرف دیکھا — کیونکہ ابھی تک ان میں سے کوئی کھڑا نہیں ہوا تھا۔

اب انصاری بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ سمجھ گئے — چنانچہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا:

"اے اللہ کے رسول! شاید آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے — تو عرض ہے کہ ہم ایمان لا چکے ہیں — آپ کی تصدیق کر چکے ہیں اور گواہی دے چکے ہیں — ہم ہر حال میں آپ کا حکم مانیں گے — فرماں برداری کریں گے۔"

ان کی تقریر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے — چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اب اٹھو — کوچ کرو — تمہارے لیے خوش خبری ہے — اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ہمیں فتح دے گا۔"


🕵️ قریش کے لشکر کی معلومات

ذفران کی وادی سے روانہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے مقام پر پہنچے — اس وقت تک قریشی لشکر بھی بدر کے قریب پہنچ چکا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قریش کے لشکر کی خبریں معلوم کرنے کے لیے بھیجا — انہیں دو ماشکی (پانی بھرنے والے) ملے — وہ قریشی لشکر کے ماشکی تھے۔

ان دونوں سے لشکر کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں — انہوں نے لشکر میں شامل بڑے بڑے سرداروں کے نام بھی بتا دیے — اس پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

"مکہ نے اپنا دل اور جگر نکال کر تمہارے مقابلے کے لیے بھیجے ہیں۔"
(یعنی اپنے تمام معزز اور بڑے بڑے لوگ بھیج دیے ہیں)


🛡️ قافلہ بچ گیا — لشکر مقابلے پر آمادہ

اس دوران ابوسفیان رضی اللہ عنہ قافلے کا راستہ بدل چکے تھے — اور اس طرح ان کا قافلہ بچ گیا — جب کہ اس قافلے کو بچانے کے لیے جو لشکر آیا تھا — اس سے اسلامی لشکر کا آمنا سامنا ہو گیا۔

ادھر ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ قافلہ تو اب بچ گیا ہے — اس لیے انہوں نے ابوجہل کو پیغام بھیجا کہ واپس مکہ کی طرف لوٹ چلو — کیونکہ ہم اسلامی لشکر سے بچ کر نکل آئے ہیں — لیکن ابوجہل نے واپس جانے سے انکار کر دیا۔


💧 بارش — مسلمانوں کے لیے رحمت، کافروں کے لیے زحمت

قریشی لشکر نے بدر کے مقام پر اس جگہ پڑاؤ ڈالا، جہاں پانی نزدیک تھا — دوسری طرف اسلامی لشکر نے جس جگہ پڑاؤ ڈالا — پانی وہاں سے فاصلے پر تھا — اس سے مسلمانوں کو پریشانی ہوئی۔

تب اللہ تعالیٰ نے وہاں بارش برسائی — اور ان کی پانی کی تکلیف رفع ہو گئی — جب کہ اسی بارش کی وجہ سے کافر پریشان ہوئے — وہ اپنے پڑاؤ سے نکلنے کے قابل نہ رہے۔

مطلب یہ کہ بارش مسلمانوں کے لیے رحمت اور کافروں کے لیے زحمت ثابت ہوئی۔


🗣️ جنگ سے پہلے خطبہ اور خباب بن منذرؓ کی رائے

صبح ہوئی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا:

"لوگو! نماز کے لیے تیار ہو جاؤ۔"

چنانچہ صبح کی نماز ادا کی گئی — پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خطبہ دیا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"میں تمہیں ایسی بات کے لیے ابھارتا ہوں، جس کے لیے تمہیں اللہ نے ابھارا ہے — تنگی اور سختی کے موقعوں پر صبر کرنے سے اللہ تعالیٰ تمام تکالیف سے بچا لیتا ہے اور تمام غموں سے نجات عطا فرماتا ہے۔"

اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کو لے کر آگے بڑھے — اور قریش سے پہلے پانی کے قریب پہنچ گئے۔

مقام بدر پر پانی کا چشمہ تھا — آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں رکتے دیکھ کر حضرت خباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:

"اے اللہ کے رسول! قیام کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ہے — میں اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہوں — آپ وہاں پڑاؤ ڈالیں جو دشمن کے پانی سے قریب ترین ہو — ہم وہاں ایک حوض بنا کر پانی اس میں جمع کر لیں گے — اس طرح ہمارے پاس پینے کا پانی ہوگا — ہم پانی کے دوسرے گڑھے اور چشمے پاٹ دیں گے — اس طرح دشمن کو پانی نہیں ملے گا۔"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو بہت پسند فرمایا — ایک روایت کے مطابق اسی وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا پیغام لائے اور بتایا کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی رائے بہت عمدہ ہے۔

اس رائے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کو لے کر آگے بڑھے — اور اس چشمے پر آ گئے جو اس جگہ سے قریب ترین تھا جہاں قریش نے پڑاؤ ڈالا تھا — مسلمانوں نے یہاں قیام کیا — اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسرے گڑھے بھرنے کا حکم دیا۔


*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں