سنجیدگی: فہمِ حق کی پہلی شرط


 

سنجیدگی: فہمِ حق کی پہلی شرط

"کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے"

سبق نمبر 35

آیاتِ مبارکہ

﴿كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ، وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ، وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ الذاریات: آیات 17-19)


ترجمہ

"وہ رات کو کم سوتے تھے، اور سحر کے وقت معافی مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حق ہوتا تھا۔"


تشریح و بصیرت

کسی بات کو سمجھنے کے لیے سب سے ضروری شرط سنجیدگی ہے۔

  • فہم سے محرومی: جو لوگ کسی بات کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہوں، وہ اس کے قرائن و دلائل پر دھیان نہیں دیتے، اس لیے وہ اس کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔

  • غیر سنجیدہ رویہ: وہ حق کا مذاق اُڑا کر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس قابل ہی نہیں کہ اس کو سنجیدہ غور و فکر کا موضوع سمجھا جائے۔

  • انجامِ کار: ایسے لوگوں کو منوانا ممکن نہیں؛ وہ صرف اس وقت اعتراف کریں گے جب ان کی غلط روش ایک ایسے عذاب کی صورت میں ان پر ٹوٹ پڑے گی جس سے چھٹکارا ناممکن ہوگا۔


سنجیدہ لوگوں کا طرزِ عمل

سنجیدہ لوگوں کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے:

  1. احتیاط اور عجز: ان کی سنجیدگی انہیں محتاط بنا دیتی ہے اور ان کے اندر سے سرکشی کا مزاج رخصت ہو جاتا ہے۔

  2. شب بیداری: ان کا بڑھا ہوا احساسِ ذمہ داری انہیں راتوں کو بیدار رہنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کے اوقات اللہ کی یاد میں بسر ہوتے ہیں۔

  3. مال کی حقیقت: وہ اپنے مال کو اپنی ذاتی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کا عطیہ سمجھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مال میں دوسروں (سائل اور محروم) کا بھی حق ویسے ہی سمجھتے ہیں، جس طرح وہ اس میں اپنا حق سمجھتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں