راہنما اور پیروکار: جہنم کا عبرت ناک مکالمہ


 

راہنما اور پیروکار: جہنم کا عبرت ناک مکالمہ

"اس آیت میں اُمت سے مراد گمراہ کرنے والے لیڈر اور اُخت سے مراد گمراہ ہونے والے عوام ہیں"

سبق نمبر 43

آیاتِ مبارکہ

قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ فِي النَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰ إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَٰؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ ۝ وَقَالَتْ أُولَاهُمْ لِأُخْرَاهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ (سورۃ الاعراف: آیات 38، 39)


ترجمہ

"اللہ کہے گا: داخل ہو جاؤ آگ میں جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، جب بھی کوئی گروہ جہنم میں داخل ہوگا، وہ اپنے ساتھی گروہ پر لعنت کرے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اُس میں جمع ہو جائیں گے تو اُن کے پچھلے اپنے اگلوں کے بارے میں کہیں گے: اے ہمارے رب! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا، پس تو اُن کو آگ کا دہرا عذاب دے۔ اللہ کہے گا: سب کے لیے دہرا ہے، مگر تم نہیں جانتے۔ اور اُن کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے: تم کو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، پس اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزہ چکھو۔"


تشریح و بصیرت

آخرت میں جب بے راہ قائدین اور ان کے بے راہ عوام جہنم میں اکٹھے ہوں گے، تو وہ رشتہ جو دنیا میں فدائیت اور خیرخواہی پر مبنی تھا، شدید نفرت میں بدل جائے گا۔

  • مصنوعی پردوں کا ہٹنا: دنیا میں عوام اپنے لیڈروں کو ہیرو مانتے تھے اور لیڈر عوام کی ہر خواہش کا احترام کرتے تھے۔ جہنم کی آگ میں یہ تمام مفاد پرستی کے پردے چاک ہو جائیں گے اور ہر کوئی دوسرے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھے گا۔

  • پیروؤں کا شکوہ: پیروی کرنے والے اپنے قائدین پر لعنت کریں گے کہ تمہاری قیادت نے ہمیں چند دن کے جھوٹے تماشے دکھا کر اتنی بڑی تباہی میں ڈال دیا۔


قائدین کا جواب اور حقیقتِ جرم

جب عوام اپنے رہنماؤں کے لیے دگنے عذاب کا مطالبہ کریں گے، تو قائدین یہ حقیقت واضح کریں گے:

  1. مشترکہ جرم: تم اپنی خواہش کے مطابق دین چاہتے تھے اور ہمیں ایسا ہی پاتے ہوئے ہمارے پیچھے دوڑ پڑے۔

  2. سچی دعوت سے اعراض: جب خدا کے بندے تمہیں سچے راستے کی طرف بلا رہے تھے، تم نے ان کی پکار سنی مگر اسے نظر انداز کر دیا۔

  3. برابری کا درجہ: رہنما کہیں گے کہ تم ہم سے بہتر نہیں ہو؛ ہم نے اپنی خواہش کی خاطر قیادت کھڑی کی اور تم نے اپنی خواہش کی خاطر ہمارا ساتھ دیا۔


دہرے عذاب کی حقیقت

اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک کے لیے عذاب دہرا ہے، مگر تمہیں اس کا احساس نہیں:

  • محرومی کا احساس: جہنم میں ہر شخص کو اپنی تکلیف اتنی شدید معلوم ہوگی کہ اسے لگے گا کہ اس سے زیادہ مصیبت میں کوئی دوسرا نہیں ہے۔

  • دوستی سے دشمنی تک: آج کے مفاد پرست دوست، جن کے پاس ایک دوسرے کے لیے عمدہ الفاظ ہیں، کل ایک دوسرے کو شدید ترین عذاب میں دھکیلنے کی کوشش کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں