تاریخی عبرت اور ذکرِ الٰہی کی طاقت


 

تاریخی عبرت اور ذکرِ الٰہی کی طاقت

"دین میں غلو کرنے والا تباہ ہو جاتا ہے"

سبق نمبر 42

آیتِ مبارکہ

أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِي مَسَاكِنِهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِأُولِي النُّهَى (سورة طه : آیت ۱۲۸)


ترجمہ

"کیا لوگوں کو اس بات سے سمجھ نہ آئی کہ ان سے پہلے ہم نے کتنے گروہ ہلاک کر دیئے۔ یہ اُن کی بستیوں میں چلتے ہیں، بے شک اس میں اہلِ عقل کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔"


تشریح و بصیرت

تاریخِ انسانی میں قوموں کے عروج و زوال کا ایک اٹل قانون موجود ہے۔

  • تجاوز کا انجام: کسی قوم کو زمین پر عروج حاصل ہو اور پھر وہ ہلاک یا مغلوب کر دی جائے، تو اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ اس نے بندگی کی حد سے تجاوز کیا۔

  • درسِ عبرت: ہر تباہ شدہ قوم اپنے بعد والوں کے لیے ایک کھلی کتاب اور سبق ہوتی ہے، مگر اس سے فائدہ صرف وہی اٹھاتے ہیں جو اہلِ عقل (صحیح سوچ رکھنے والے) ہوں۔


سخت حالات میں مؤمن کی ڈھال

اس سبق میں تسبیح اور نماز کی جو تلقین کی گئی ہے، اس کا پس منظر مکی دور کے انتہائی صبر آزما حالات ہیں۔

  1. حفاظتی حصار: انکار اور مخالفت کے سخت ترین حالات میں نماز اور اللہ کی یاد مؤمن کے لیے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوتی ہے۔

  2. کامیابی کا راستہ: یہ بظاہر خاموش عمل درحقیقت فتوحات کے دروازے کھولتا ہے اور مشکل راستوں کو ہموار کرتا ہے۔

  3. مقامِ رضا: ذکرِ الٰہی سے انسان کو وہ قلبی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر پوری طرح راضی ہو جاتا ہے اور اسے وہ سب کچھ مل جاتا ہے جس کی اسے تمنا ہوتی ہے۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں