سستی نجات کا فریب اور خوش فہمیوں کی تجارت
"سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت کشش رکھتے تھے"
سبق نمبر 38
آیتِ مبارکہ
وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لَا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلَّا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ (سورۃ البقرۃ، آیت: 78)
ترجمہ
اور اُن میں ان پڑھ لوگ بھی ہیں، جو کتاب کو نہیں جانتے مگر آرزوئیں۔ اور وہ محض گمان ہی کرتے ہیں۔
تشریح و بصیرت
"آرزوئیں" (أماني) سے مراد وہ جھوٹے قصے کہانیاں ہیں جو یہود نے اپنے دین کے بارے میں گھڑ رکھی تھیں۔ یہ باتیں ظاہر فریبی کی وجہ سے عوام میں بہت مقبول ہو گئیں۔
خوش فہمی کا خلاصہ: ان قصے کہانیوں کا خلاصہ یہ تھا کہ جہنم کی آگ یہود کو چھو بھی نہیں سکتی۔ ان باتوں کو اپنے بزرگوں سے منسوب کر کے پھیلایا گیا تھا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بنی اسرائیل اللہ کے خاص بندے ہیں۔
طلسماتی اوصاف: یہ تاثر دیا گیا کہ اُن کے دین میں کچھ طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں کہ معمولی اعمال بھی انسان کو جنت میں پہنچا دیں گے۔
دنیوی تجارت اور عوامی مقبولیت
سستی نجات کے یہ مقدس نسخے عوام کے لیے بہت پرکشش تھے کیونکہ:
غیر ذمہ دارانہ زندگی: ان میں انہیں اپنی خوش خیالی کی تصدیق مل جاتی تھی کہ انہیں اپنی زندگی پر کوئی روک ٹوک نہیں چاہیے۔
ٹونے ٹوٹکے: وہ کسی حقیقی جدوجہد کے بغیر صرف کچھ ٹونے ٹوٹکے کے ذریعے جنت پانا چاہتے تھے۔
علما کا کردار: جو یہودی علما یہ کہانیاں سناتے تھے، وہ عوام میں مقبول ہو گئے۔ آخرت کے معاملے کو آسان بنانا ان کے لیے ایک شاندار دنیوی تجارت بن گیا۔ لوگوں نے انہیں مفت دنیا فراہم کر دی اور انہوں نے مفت جنت کا راستہ بتا دیا۔
جو لوگ لذیذ خوابوں میں جیتے ہیں، وہ سچے دین کی دعوت کو گوارا نہیں کرتے، کیونکہ حق کی باتیں ان کی میٹھی نیند کو خراب کر کے انہیں برہنہ حقیقتوں کے سامنے کھڑا کر دیتی ہیں۔
پانچ اہم نصائح
1. واضح گفتگو: گفتگو میں صاف اور واضح الفاظ استعمال کرو، ایسے مشتبہ الفاظ نہ بولو جن میں کوئی منفی مطلب نکل سکتا ہو۔
2. فہم و سماع: کہی گئی بات کو غور سے سنو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔
3. فضول سوالات سے گریز: سوالات کی کثرت آدمی کو سیدھی راہ سے ہٹا سکتی ہے، اس لیے سوال و جواب کے بجائے عبرت اور نصیحت کا ذہن پیدا کروDisposable۔
4. حفاظتِ ایمان: اپنے ایمان کی حفاظت کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی غلطی کے باعث تم اپنے ایمان سے ہی محروم ہو جاؤ۔
5. حسد سے بچاؤ: دنیا میں کسی کے پاس کوئی خیر دیکھو تو حسد اور جلن میں مبتلا نہ ہو، کیونکہ یہ اللہ کا عطیہ ہے جو اس نے اپنے فیصلے کے تحت عطا کیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں