حق کا معیار: گروہی تعصب بمقابلہ ضمیر کی آواز


 

حق کا معیار: گروہی تعصب بمقابلہ ضمیر کی آواز

"ہر سینے کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا رکھا ہے"

سبق نمبر 37

آیاتِ مبارکہ

إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللہَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا (سورۃ النساء: آیات 105 تا 108)


ترجمہ

"بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف حق کے ساتھ اُتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھایا ہے۔ اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو۔ اور اللہ سے بخشش مانگو، بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔ اور ان لوگوں کی طرف سے جھگڑا نہ کرو جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں۔ بے شک اللہ اسے پسند نہیں کرتا جو خیانت کرنے والا اور گناہ گار ہو۔ وہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپتے، حالانکہ وہ (اللہ) ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ ایسی باتیں رات کو کرتے ہیں جن سے اللہ راضی نہیں ہوتا، اور اللہ اُن کے تمام اعمال کو گھیرے ہوئے ہے۔"


تشریح و بصیرت

انسان کی ضرورت اسے اجتماعیت سے وابستہ کرتی ہے، مگر اکثر اوقات یہ وابستگی ایک اجتماعی تعصب کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

  • غلط ذہنیت: یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے کہ "میرا گروہ خواہ صحیح ہو یا غلط، مجھے اسی کا ساتھ دینا ہے"۔

  • میزانِ حق کی تبدیلی: لوگ اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنی گروہی مصلحتوں کو معیار بنا لیتے ہیں۔ اپنے حلقے کا آدمی باطل پر ہو تب بھی اس کی حمایت کی جاتی ہے، اور دوسرے کا آدمی حق پر ہو تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔

صحیح رویہ یہ ہے کہ حق اور ناحق کو دیکھا جائے؛ اگر اپنا آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے، اور اگر غیر صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے۔


اپنے آپ سے خیانت اور ضمیر کی آواز

سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے، تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کر چکا ہوتا ہے۔

  1. اندرونی نمائندہ: ہر سینے کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے، جسے انسان کا ضمیر کہتے ہیں۔

  2. تنبیہ: جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے، یہ اندرونی آواز اسے ٹوکتی ہے۔ انصاف کے راستے سے بھٹکنے کے لیے آدمی کو پہلے اس آواز کو دبانا پڑتا ہے۔


دنیوی مصلحت کی قیمت

آدمی جب ناحق میں کسی کا ساتھ دیتا ہے، تو وہ انسانوں کے لحاظ اور دنیوی تعلقات کی بنیاد پر ایسا کرتا ہے۔

  • خوفناک سودا: ناحق کے باوجود کسی شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اللہ کو چھوڑ دے۔

  • انجام: عین اُس وقت جب وہ دنیا میں (ناحق پر مبنی) کسی گروہ یا شخص کا ساتھ دے کر خود کو محفوظ سمجھ رہا ہوتا ہے، آخرت میں وہ اللہ کے ساتھ سے محروم ہو جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں