منافقت: ظاہری لبادہ اور باطنی حقیقت


 

منافقت: ظاہری لبادہ اور باطنی حقیقت

"منافق وہ ہے جو بظاہر دین دار ہو مگر اندر سے بے دین ہو"

سبق نمبر 32

آیاتِ مبارکہ

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ﴿١٤٠﴾ الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلَن يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا ﴿١٤١﴾ (سورۃ النساء: آیات ۱۴۰ تا ۱۴۱)


ترجمہ

اور اللہ کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کر چکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے، تو تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ ورنہ تم بھی انہی جیسے ہو جاؤ گے۔ بے شک اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک ساتھ جمع کرنے والا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جو تمہاری تاک میں رہتے ہیں، پھر اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح حاصل ہو تو کہتے ہیں: "کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟" اور اگر کافروں کو کچھ فائدہ ملے تو ان سے کہتے ہیں: "کیا ہم تم پر غالب نہ آ گئے تھے؟ اور کیا ہم نے تمہیں مومنوں سے بچایا نہ تھا؟" تو قیامت کے دن اللہ تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا، اور اللہ کبھی بھی کافروں کو مؤمنوں پر غلبہ دینے کا راستہ نہیں بنائے گا۔


تشریح و بصیرت

اللہ کی پکار جب بھی کسی انسانی گروہ میں اٹھتی ہے تو اتنی مضبوط بنیادوں پر اٹھتی ہے کہ دلیل کے ذریعہ اس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔

  • استہزاء کا سبب: جو لوگ اسے ماننا نہیں چاہتے، وہ اس کا مذاق اُڑا کر اسے بے وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • سنجیدگی کا فقدان: ایسے لوگ اپنے رویے سے یہ بتاتے ہیں کہ وہ حق کے معاملے کو سنجیدہ نہیں سمجھتے۔ جب آدمی کسی معاملے میں سنجیدہ نہ ہو، تو اُس سے بحث کرنا بے کار ہوتا ہے۔

  • حق کے لیے غیرت: جس مجلس میں اللہ کی آیات کا مذاق اُڑایا جائے، وہاں بیٹھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ آدمی کے دل میں حق کے لیے غیرت نہیں ہے۔


منافق کا کردار اور مفاد پرستی

منافق اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اصول پسندی کا تقاضا کیا ہے، بلکہ جس چیز میں فائدہ نظر آئے، اسی کی طرف جھک جاتا ہے۔

  1. مفادات کی پیروی: وہ اپنے آپ کو اسی حلقے کے ساتھ جوڑتا ہے جہاں اس کے دنیوی مفادات حاصل ہوں، خواہ وہ اہلِ ایمان کا حلقہ ہو یا غیر مؤمنین کا۔

  2. خوشامد اور مصلحت: وہ جس مجلس میں ہوتا ہے، اسے خوش کرنے والی باتیں کرتا ہے۔

  3. حق سے دشمنی: اہلِ ایمان کا وجود معاشرے میں حق کا پیمانہ بن جاتا ہے، اس لیے جھوٹی دینداری پر کھڑے لوگ چاہتے ہیں کہ ایسے پیمانے ٹوٹ جائیں۔


باطن کی سچائی اور انجام

منافق وہ ہے جو بظاہر دیندار ہو، مگر اندر سے بے دین ہو۔

  • مساوی انجام: ایسے شخص کا انجام کافر کے ساتھ ہونا یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظاہری دینداری اور کھلی ہوئی بے دینی میں کوئی فرق نہیں۔

  • اصل معیار: ظاہر کی پرکھ اللہ کے نزدیک معتبر نہیں، بلکہ اصل قدر دل کے حال اور باطن کی سچائی کی ہے، نہ کہ محض ظاہر کی۔

اہلِ ایمان کے بدخواہ جو کچھ زور لگا سکتے ہیں، وہ صرف دنیا میں لگا سکتے ہیں، آخرت میں وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں