🕊️ محاورہ: "اڑتی چڑیا کے پر گننا / پہچاننا"


 

🕊️ محاورہ: "اڑتی چڑیا کے پر گننا / پہچاننا"

🗣️ تلفظ (Uṛtī chiṛyā kē par ginnā / pahchānnā) 🎙️

📖 معانی و مفہوم یہ محاورہ اس شخص کے لیے استعمال ہوتا ہے جو:

  • حد درجہ ہوشیار، چالاک اور باریک بین ہو۔ 🧐

  • آثار اور قرائن دیکھ کر آنے والے حالات یا کسی کے چھپے ہوئے ارادوں کو بھانپ لے۔

  • کسی کے دل کی بات یا پوشیدہ راز کو محض ایک نظر دیکھ کر سمجھ لے۔

🔹 سادہ الفاظ میں: دور اندیش ہونا اور کسی کے فریب یا چال کو فوراً تاڑ لینا۔ ✨

📍 موقع و محل یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:

  • کوئی اپنی چالاکی سے کسی تجربہ کار شخص کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے۔

  • کسی کی تیز فہمی اور فراست کی تعریف کرنی مقصود ہو۔

  • جب یہ جتانا ہو کہ ہم تمہاری باتوں میں آنے والے نہیں ہیں۔

مثال: "مجھ سے اپنی عیاری چھپانے کی کوشش نہ کرو، میں اڑتی چڑیا کے پر گن لیتا ہوں، تمہاری نظریں تمہارا سارا حال بیان کر رہی ہیں۔" 🤨

📜 تاریخ و پس منظر یہ محاورہ قدیم شکاریوں اور پرندوں کے پارکھوں سے منسوب ہے۔ ایک اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گننا بظاہر ناممکن کام ہے کیونکہ اس کے پر بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ جو شخص اتنی تیزی میں بھی گنتی کر لے یا صرف اڑان دیکھ کر چڑیا کی نسل اور عمر پہچان لے، اسے غیر معمولی بصیرت کا مالک مانا جاتا تھا۔ وہیں سے یہ استعارہ انسانی ذہانت کے لیے مستعمل ہو گیا۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک ریاست کا بادشاہ اپنی ذہانت پر بہت ناز کرتا تھا۔ ایک دن ایک غیر ملکی سفیر دربار میں آیا اور بادشاہ کو دو ایک جیسی نظر آنے والی لکڑیاں دکھا کر پوچھا: "حضور! ان میں سے ایک جڑ کی طرف کا حصہ ہے اور دوسرا ٹہنی کی طرف کا، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کون سا حصہ کون سا ہے؟" 🪵🤔 درباری پریشان ہو گئے، مگر بادشاہ کا ایک بوڑھا وزیر مسکرایا اور بولا: "ان دونوں کو پانی کے ٹب میں ڈالو۔" جب لکڑیاں پانی میں ڈالی گئیں تو ایک سرا ذرا سا نیچے کو جھک گیا اور دوسرا اوپر رہا۔ وزیر نے اشارہ کیا: "جو سرا نیچے ہے وہ جڑ ہے کیونکہ وہ بھاری ہوتی ہے۔" سفیر حیران رہ گیا، وزیر نے ہنس کر کہا: "جناب! ہم اڑتی چڑیا کے پر گننے والوں میں سے ہیں، لکڑیوں سے ہمیں کیا مات دو گے!" 😂🌊

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں