🦜 محاورہ: "اپنے منھ میاں مٹھو بننا"


 

🦜 محاورہ: "اپنے منھ میاں مٹھو بننا"

🗣️ تلفظ (Apnē muṅh miyāṅ miṭhū bannā) 🎙️

📖 معانی و مفہوم اس محاورے کا استعمال تب ہوتا ہے جب کوئی شخص:

  • اپنی تعریفیں خود اپنے ہی منہ سے کر رہا ہو۔ 🗣️✨

  • اپنی خوبیوں کو مبالغہ آرائی (بڑھا چڑھا کر) کے ساتھ بیان کرے۔

  • دوسروں سے داد پانے کا انتظار کرنے کے بجائے خود ہی اپنی بڑائی کے قصیدے پڑھے۔

🔹 سادہ الفاظ میں: اپنی تعریف آپ کرنا یا ڈینگیں مارنا۔ 👋

📍 موقع و محل یہ محاورہ طنزیہ طور پر ان لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو:

  • محفل میں صرف اپنے ہی کارنامے سناتے رہیں۔

  • جن کی قابلیت دوسروں کو نظر نہ آئے مگر وہ خود اسے بہت اہم سمجھیں۔

  • جب کسی کی خود پسندی (Self-centeredness) کا مذاق اڑانا مقصود ہو۔

مثال: "بھائی! تم تو اپنے منھ میاں مٹھو بن رہے ہو، تمہارا کمال تو تب ہے جب دنیا تمہاری تعریف کرے۔" 🤨

📜 تاریخ و پس منظر پرانے زمانے میں طوطے کو "میاں مٹھو" کہا جاتا تھا۔ طوطا ایک ایسا پرندہ ہے جو وہی الفاظ دہراتا ہے جو اسے سکھائے جاتے ہیں، اور وہ اکثر اپنی ہی آواز اور بولنے کی صلاحیت پر خوش ہوتا رہتا ہے۔ چونکہ طوطا اپنی ہی بولیاں بول کر خود کو خوش کرتا ہے، اسی مناسبت سے جو انسان اپنی تعریف خود کرتا ہے اسے طوطے (میاں مٹھو) سے تشبیہ دی گئی کہ یہ شخص اپنی ہی دھن میں مگن ہے اور خود ہی خود کو سراہ رہا ہے۔ 🕰️📜

🎭 پُر لطف قصہ ایک صاحب نئے نئے پہلوانی کا شوق پال بیٹھے۔ ایک دن دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر بولے: "یارو! کل میں نے اکیلے ہی دس ڈاکوؤں کو پچھاڑ دیا، میری طاقت کا تو پورا علاقہ معترف ہے!" 💪😤 سب دوست خاموش رہے، مگر ایک شرارتی دوست بولا: "خان صاحب! آپ تو اپنے منھ میاں مٹھو بن رہے ہیں، کل تو میں نے آپ کو گلی کے چھوٹے سے کتے سے ڈر کر دیوار پر چڑھتے دیکھا تھا!" خان صاحب نے کھنکھار کر جواب دیا: "وہ تو میں کتے کو اپنی 'اونچی اڑان' دکھا رہا تھا!" 😂🦜

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں