سبق نمبر 53: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع سورۃ نازعات تا سورۃ اعلیٰ


سبق نمبر 53: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ نازعات کا خلاصہ

قیامت اور یومِ قیامت عقیدۂ قیامت کی اسلامی عقائد میں بہت اہمیت ہے کہ متعدد سورتوں کا مرکزی موضوع ہی یہی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا استحضار نصیب فرمائے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: رفعِ استبعادِ قیامت اس رکوع میں دو مثالوں کے ذریعے قیامت کے وقوع کا یقینی ہونا ثابت کیا جا رہا ہے۔

  1. انسان کے اس دنیاے فانی سے رخصت ہونے کے وقت ذمہ دار فرشتوں کی قسم کھائی گئی ہے کہ کس طرح دم بھر میں انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، اسی طرح یکایک قیامت بھی برپا ہو جائے گی۔

  2. جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین سے مصر کی طرف روانگی کے دوران اچانک نبوت کے درجات پر فائز کر دیا گیا، اسی طرح قیامت بھی اچانک واقع ہو جائے گی۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: قیامت کے دن انسانوں کی دو قسمیں قیامت کے دن انسان دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے:

  1. جنتی: جو لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور اپنے آپ کو خواہشاتِ نفسانی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

  2. جہنمی: جو لوگ دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہو کر بغاوت و سرکشی کی زندگی گزاریں، وہ جہنمی ہیں۔


سورۂ عبس کا خلاصہ

مساوات در تعلیم انسان اپنی ابتدائی تخلیق میں امارت و غربت کے اعتبار سے کوئی فضیلت نہیں رکھتا۔ ضروریاتِ زندگی سے فائدہ اٹھانا امیر و غریب سب کا یکساں حق ہے، اس لیے تعلیم میں بھی مساوات ہونی چاہیے اور امیری و غریبی کے ہر فرق کو بالائے طاق رکھا جائے۔ یہ معلمین کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق ہے۔


سورۂ تکویر کا خلاصہ

نبی اکرم ﷺ کے لیے حصولِ علم کا ذریعہ حضور ﷺ کو حاصل ہونے والا علم کبھی مرئی طریقے سے (جو دوسروں کو دکھائی دیتا ہے) ہوتا ہے اور کبھی غیر مرئی طریقے سے ہوتا ہے۔ غیر مرئی علم ایک باعزت اور صاحبِ قوت فرشتے کے ذریعے نازل ہوتا ہے۔ مشرکین کو اللہ کے عطا کردہ علم پر بھروسا کر کے حضور ﷺ کی تصدیق کرنی چاہیے۔


سورۂ انفطار کا خلاصہ

تعلق مع اللہ کی اہمیت جس ذات نے انسان کو وجود کی دولت سے مالا مال کیا، اگر انسان اسی سے اپنا تعلق بگاڑ لے تو قیامت کے دن سخت پریشانی ہوگی۔ کراماً کاتبین کی تیار کردہ رپورٹ میں کسی قسم کی غلطی ممکن نہیں، اس لیے تعلق مع اللہ کی درستگی انتہائی ضروری ہے۔


سورۂ مطففین کا خلاصہ

ناپ تول میں کمی پر وعید اس سورت میں تطفیف (ناپ تول میں کمی) پر سخت وعید سنائی جا رہی ہے۔ جو لوگ اس گناہ کا شکار ہیں انہیں توبہ کرنی چاہیے ورنہ ہلاکت مقدر بن سکتی ہے۔ یہاں انسانوں کی دو قسمیں بتائی گئی ہیں: فجار اور ابرار۔ اول الذکر جہنم میں ہوں گے اور مؤخر الذکر جنت کے باغات میں عیش کریں گے۔


سورۂ انشقاق کا خلاصہ

تقسیمِ صحائف و تحائف قیامت کے دن اعمال ناموں کی تقسیم کا طریقہ یہ ہوگا کہ:

  • جو لوگ دنیا کے عیش و عشرت میں مگن رہے اور آخرت سے بے فکر رہے، ان کا نامۂ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں پشت کی طرف سے دیا جائے گا۔

  • جن لوگوں نے آخرت کی تیاری کی، ان کا نامۂ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، جو ان کے لیے کامیابی کی سند ہوگا اور ان سے حساب بھی آسان لیا جائے گا۔


سورۂ بروج کا خلاصہ

خدا کی پکڑ بہت سخت ہے جو لوگ محض دل بہلانے کی خاطر اولیاء اللہ اور خدا پرستوں کی دل آزاری کرتے ہیں، وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے۔ اس کی گرفت نہایت سخت ہے اور جب وہ پکڑتا ہے تو کسی کے چھڑانے کی امید باقی نہیں رہتی۔


سورۂ طارق کا خلاصہ

کیا قیامت کا وقوع ممکن ہے؟ اگر انسان اپنی پہلی پیدائش پر ہی غور کر لے تو اسے قیامت پر یقین آ جائے۔ جس قادرِ مطلق نے انسان کو منی کے ایک بے جان قطرے سے وجود بخشا، کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ یقیناً ایسا ہو کر رہے گا اور پھر کوئی راہِ فرار نہ ہوگی۔


سورۂ اعلیٰ کا خلاصہ

طریقۂ تعلیمِ نبی دنیا میں ہر فرد کا استاد انسان ہوتا ہے، لیکن یہ قاعدہ نبی مکرم ﷺ پر صادق نہیں آتا۔ آپ ﷺ کا استاد کوئی انسان نہیں بلکہ خود جنابِ حق سبحانہ و تعالیٰ ہیں، جو ظاہر و باطن کو جانتے ہیں۔ مشیتِ ایزدی سے علم آپ ﷺ کے قلبِ مطہر میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔


"آج الحمدللہ سورة نازعات، عبس، تکویر، انفطار، مطففین، انشقاق، بروج، طارق، اعلیٰ کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة غاشیہ شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں