📖 زکوٰۃ کے دو اہم مسئلے: مدرسہ فنڈ اور مقروض کا قرض
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 16
1. جس مدرسے میں مصرفِ زکوٰۃ نہ ہو وہاں صرفہ
جس مدرسے یا مکتب میں فی الوقت زکوٰۃ کا کوئی شرعی مصرف (یعنی زکوٰۃ کے مستحق طلباء وغیرہ) موجود نہ ہو، اس کے لیے زکوٰۃ کی رقم بطور چندہ اکٹھا کرنا جائز نہیں ہے۔
2. مقروض کے قرض کو معاف کرنا
حکم: اگر کوئی شخص اپنے مقروض کو اس نیت سے قرض معاف کر دے کہ یہ اس کی زکوٰۃ ہے، تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
درست طریقہ: زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ مقروض کو پہلے زکوٰۃ کی رقم دی جائے، پھر اگر وہ وہی رقم اپنے قرض کی ادائیگی میں واپس کر دے تو یہ صورت درست ہے۔
📚 مستند حوالہ جات
مدرسہ فنڈ: فتاویٰ محمودیہ میرٹھ (14 / 297-298)
قرض کا مسئلہ: کتاب المسائل، جلد دوم
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
زکوٰۃ کے نصاب اور ادائیگی کے درست طریقوں کی شرعی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا مقروض کو قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے؟ جانئے مدارس کے فنڈز اور قرض کی معافی سے متعلق اہم شرعی مسائل۔
Keywords: زکوٰۃ کے مسائل، مقروض کو زکوٰۃ، مدرسہ چندہ، مفتی عرفان اللہ درویش، فتاویٰ محمودیہ، کتاب المسائل۔
Hashtags:
#Zakat #مسائل_زکوٰۃ #شرعی_احکام #مدرسہ_فنڈ #قرض_کی_معافی #مفتی_عرفان_اللہ #رمضان_2026

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں