💍 نکاحِ شغار (وٹہ سٹہ شادی) کا شرعی حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: احکام النکاح | پوسٹ نمبر: 15
نکاحِ شغار کی تعریف اور نبوی ممانعت
نکاحِ شغار سے مراد ایسی شادی ہے جس میں ایک لڑکی کے بدلے دوسری لڑکی کا نکاح اس شرط پر کیا جائے کہ ایک لڑکی کا نکاح دوسری لڑکی کا مہر تصور ہو اور الگ سے کوئی مہر مقرر نہ کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے اس طرزِ نکاح سے سختی سے منع فرمایا ہے۔
حدیثِ مبارکہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے "نکاحِ شغار" سے منع فرمایا۔ شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ دوسرا بھی اپنی بیٹی کا نکاح اسے (یا اس کے بیٹے کو) کر کے دے گا اور ان کے درمیان مہر مقرر نہ ہو۔
مختلف صورتیں اور شرعی احکام
جائز صورت: اگر زید اپنی بیٹی کا نکاح خالد سے کرے اور خالد اپنی بیٹی کا نکاح زید سے کرے، لیکن دونوں کے لیے مستقل اور الگ الگ حق مہر طے کیا جائے، تو یہ نکاح درست ہے اور اسے "شغار" نہیں کہا جائے گا۔
ناجائز صورت: اگر نکاح اس شرط پر ہو کہ ایک لڑکی کا نکاح ہی دوسری لڑکی کا مہر ہے (یعنی مہر سرے سے مقرر ہی نہ ہو)، تو یہ ممنوع ہے۔
فقہ حنفی کا موقف: علماءِ احناف کے نزدیک اگر کسی نے ایسا نکاح (بغیر مہر کے وٹہ سٹہ) کر لیا ہے، تو نکاح باطل نہیں ہوگا بلکہ نکاح صحیح ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں عورت کو مہرِ مثل دیا جائے گا اور پیدا ہونے والی اولاد بھی ثابت النسب ہوگی۔
📚 مستند حوالہ جات
الصحیح المسلم: 2/1034
الہدایہ: 2/327
الدرالمختار مع ردالمحتار: 3/105
فتویٰ دارالعلوم دیوبند: جواب نمبر 830
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
جدید فقہی مسائل اور مستند دینی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا وٹہ سٹہ شادی جائز ہے؟ نکاحِ شغار کی تعریف، نبوی ممانعت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مہرِ مثل کے احکام جانئے مفتی عرفان اللہ درویش کی اس تحریر میں۔
Keywords: نکاحِ شغار، وٹہ سٹہ شادی، احکامِ نکاح، مہرِ مثل، مفتی عرفان اللہ درویش، فقہ حنفی، Shighar Marriage in Islam.
Hashtags:
#Nikah #وٹہ_سٹہ #احکام_نکاح #فقہی_مسائل #نکاح_شغار #مفتی_عرفان_اللہ #اصلاح_معاشرہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں