💍 شوہر کا بیوی کی طرف سے زکوٰۃ ادا کرنا
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 17
بنیادی شرعی حکم
زکوٰۃ کی ادائیگی اس شخص کے ذمہ لازم ہوتی ہے جو خود صاحبِ نصاب مال کا مالک ہو۔ اگر بیوی نصاب کی مالک ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی اسی کے ذمہ فرض ہے۔
شوہر کی طرف سے ادائیگی کی صورتیں
شوہر اپنی بیوی کی طرف سے بطورِ وکیل زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے، تاہم اس کی درج ذیل تفصیل ہے:
اجازت اور نیت: ادائیگی سے پہلے بیوی کو علم میں لانا ضروری ہے تاکہ وہ زکوٰۃ کی نیت کر سکے، کیونکہ نیت کے بغیر زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
پیشگی اجازت: اگر بیوی نے پہلے سے شوہر کو اجازت دے رکھی ہو کہ وہ اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کر دیا کرے، تو عین موقع پر بتائے بغیر بھی ادائیگی ہو جائے گی۔
بغیر اجازت ادائیگی: اگر شوہر بیوی کی اجازت یا علم کے بغیر خود سے زکوٰۃ ادا کر دے، تو بیوی کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔
اخلاقی پہلو: شوہر پر بیوی کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے، یہ اس کا ایک تبرع اور احسان ہو سکتا ہے۔
📚 مستند حوالہ
ادارہ: دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 144508101191
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
زکوٰۃ کے نصاب اور ادائیگی کے درست طریقوں کی شرعی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ: [
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا شوہر اپنی بیوی کی زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے؟ جانئے نیت اور اجازت کی شرعی اہمیت اور جامعہ بنوری ٹاؤن کا مستند فتویٰ۔
Keywords: بیوی کی زکوٰۃ، شوہر کی ذمہ داری، زکوٰۃ کے مسائل، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، Zakat on behalf of wife.
Hashtags:
#Zakat #مسائل_زکوٰۃ #بیوی_کی_زکوٰۃ #جامعہ_بنوری_ٹاؤن #اسلامی_فقہ #مفتی_عرفان_اللہ #رمضان_2026

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں