بے خوفی کی نفسیات: اسباب اور اثرات
"بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کا سبب عام طور پر دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک دنیا پرستی، دوسرے اکابر پرستی۔"
سبق نمبر 21
قرآنی آیت اور ترجمہ
وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَٰؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنۢ بَيْنِنَا ۗ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِٱلشَّـٰكِرِينَ (سورۃ الانعام: آیت ۵۳)
ترجمہ: ”اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل ہوا ہے؟ کیا اللہ شکر گزاروں سے خوب واقف نہیں؟“
تشریح و وضاحت
نصیحت ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کارگر ہوتی ہے جو اندیشہ کی نفسیات میں جیتے ہوں۔ جس کو کسی چیز کا کھٹکا لگا ہوا ہو، اس کو اس کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ بے خوفی کی نفسیات میں جی رہے ہوں، وہ نہ نصیحت کے بارے میں سنجیدہ ہوتے ہیں، نہ ہی نصیحت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔
بے خوفی کی نفسیات پیدا ہونے کے دو بنیادی اسباب:
دنیا پرستی: جو لوگ دنیا کی چیزوں میں گم ہوں یا دنیا کی کوئی کامیابی پا کر اس پر مطمئن ہو گئے ہوں، حتیٰ کہ انہیں یہ بھی یاد نہ رہتا ہو کہ ایک روز ان کو مر کر خالق و مالک کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگ آخرت کو کوئی قابلِ لحاظ چیز نہیں سمجھتے، اس لیے آخرت کی یاد دہانی ان کے ذہن میں اپنی جگہ حاصل نہیں کرتی۔ ان کا مزاج ایسی باتوں کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔
اکابر پرستی: دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو آخرت کے معاملے کو سفارش کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں۔ وہ فرض کر لیتے ہیں کہ جن بڑوں کے ساتھ انھوں نے ناطہ جوڑ رکھا ہے، وہ آخرت میں ان کے مددگار اور سفارشی بن جائیں گے اور کسی بھی ناموافق صورتِ حال میں ان کی طرف سے کافی ثابت ہوں گے۔ ایسے لوگ اس بھروسے پر جی رہے ہوتے ہیں کہ انھوں نے مقدس ہستیوں کا دامن تھام رکھا ہے، وہ اللہ کے محبوب و مقبول گروہ کے ساتھ شامل ہیں، اس لیے اب ان کا کوئی معاملہ بگڑنے والا نہیں ہے۔
حق سے دوری کا نتیجہ
یہ نفسیات ان کو آخرت کے بارے میں نڈر بنا دیتی ہے۔
وہ کسی ایسی بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو آخرت میں ان کی حیثیت کو مشتبہ کرنے والی ہو۔
جو لوگ مصلحتوں کی رعایت کرکے دولت و مقبولیت حاصل کیے ہوئے ہوں، وہ کبھی حق کی بے آمیز دعوت کا ساتھ نہیں دیتے، کیونکہ حق کا ساتھ دینا اُن کے لیے یہ معنی رکھتا ہے کہ اپنی مصلحتوں کے بنے بنائے ڈھانچے کو توڑ دیا جائے۔
<u>پھر جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ حق کے گرد معمولی حیثیت کے لوگ جمع ہیں، تو یہ صورت حال ان کے لیے اور زیادہ فتنہ بن جاتی ہے۔</u> ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کا ساتھ دے کر وہ اپنی حیثیت کو گرائیں گے۔ وہ حق کو حق کی کسوٹی پر نہ دیکھ کر اپنی کسوٹی پر دیکھتے ہیں، اور جب حق ان کی اپنی کسوٹی پر پورا نہیں اُترتا، تو وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں