سبق نمبر 46: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


 

سبق نمبر 46: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورہ حجرات کا خلاصہ

مسلمانوں کے باہمی تعلقات اس سورت میں مسلمانوں کے باہمی تعلقات کا دستور العمل بیان کیا جا رہا ہے اور طرزِ معاشرت کا ایک مثالی نمونہ و تصویر ذکر کی جا رہی ہے جس پر عمل پیرا ہونے سے ایک پُرسکون اور آرام دہ معاشرے کی تصویر ابھرتی ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مسلمانوں کے تین قسم کے احوال اس رکوع میں مسلمانوں کے تین احوال ذکر کر کے ان کے ساتھ باہمی تعلقات کی استواری کے سنہرے اصول بتائے گئے ہیں۔

  1. عام مسلمانوں کا اپنے امیر کے ساتھ مودبانہ رویّہ ہونا چاہئے، اس کے سامنے بآوازِ بلند کوئی بات نہ کریں، ان کا نام لے کر نہ پکارا جائے، اگر وہ گھر میں موجود ہوں تو ان کے باہر نکلنے کا انتظار کیا جائے، آوازیں دے کر باہر نکلنے پر مجبور نہ کیا جائے۔

  2. جو لوگ مرکزِ اسلام سے دُور ہیں، اگر ان کی کوئی خبر آئے تو تحقیق کئے بغیر اس پر آنکھیں بند کر کے فیصلہ اور عمل کی راہ متعین نہ کی جائے ورنہ بڑا فساد اور نقصان ہو سکتا ہے۔

  3. جو لوگ رہتے تو مرکزِ اسلام میں ہیں لیکن باہم دست و گریبان ہیں، ان کے درمیان صلح کروائی جائے، اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ان میں سے باغی گروہ کا قلع قمع اور کلی استیصال کرنے کی تمہیں مکمل اجازت ہے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: طرزِ معاشرت مسلمانوں کا باہمی طرزِ معاشرت ایسا ہونا چاہئے کہ کسی وجہ سے بھی باہمی تعلقات میں کشیدگی کی نوبت نہ آنے پائے۔ مثلاً:

  • کسی کا مذاق نہ اُڑایا جائے

  • طعنے نہ دیئے جائیں

  • بُرے ناموں اور غلط القاب سے نہ پکارا جائے

  • بدگمانی سے کلی اجتناب برتا جائے

  • کسی کے عیب اور تجسس میں نہ لگا جائے

  • غیبت سے مکمل احتیاط برتی جائے

اور تقویٰ والی زندگی گزاری جائے کیونکہ اللہ کے یہاں فضیلت اور عزت و تکریم کا دارومدار تقویٰ پر ہے، مالداری اور قوت و شوکت پر نہیں۔


سورہ ق کا خلاصہ

اثباتُ یومِ المجازاة اس سورت میں قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو مکمل طور پر واضح کرتے ہوئے قانونِ جزا و سزا کو دلائل سے ثابت کیا جا رہا ہے نیز جزا اور سزا کی بھی ایک ہلکی سی جھلک دکھائی گئی ہے تاکہ سمجھنے والا اچھی طرح سمجھ جائے اور شہروں کے باشندوں پر اتمامِ حجت ہو جائے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مسئلۂ رسالت میں شک کفار و مشرکین کو اس بات سے بڑا تعجب ہوتا ہے کہ ان کے پاس جو ڈرانے والا آیا ہے، وہ انہی میں سے ہے، اور اس تعجب کی وجہ سے وہ مسئلۂ رسالت میں شک کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ لوگ قرآنِ کریم میں غور و فکر کرتے تو انہیں مسئلۂ رسالت میں کسی قسم کا شک نہ رہتا۔ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قیامِ قیامت اور مجازاتِ اعمال کے منکر ہیں۔ اگر یہ لوگ اممِ سابقہ کی تباہی اور اس کے اسباب پر غور و فکر کرتے تو ان پر یہ بات واضح ہوجاتی کہ وہ کس قدر بے راہ روی کا شکار ہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: بدلے کی تیاریاں یہ لوگ تو بدلہ ملنے کے قائل نہیں اور ہم اس میں کسی قسم کی کوتاہی کرنے کو مائل نہیں۔ ہم نے تو اس کے بڑے وسیع انتظامات کر رکھے ہیں:

  • کندھوں پر دو فرشتے ہر حرکت نوٹ کرنے کے لئے بٹھا رکھے ہیں

  • اعضاء و جوارح کو بھی جاسوسی پر لگا رکھا ہے

  • منہ سے نکلنے والے ہر لفظ کی ریکارڈنگ ہوتی ہے

  • اس کی فلم ساتھ ساتھ تیار ہو رہی ہے

قیامت کے دن یہ سب کروڑہا انسانوں کے سامنے ظاہر کیا جائے گا۔ اس وقت ضالّ اور مغوی ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے لیکن اس مخاصمت سے انہیں کوئی نفع نہ ہوگا۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: جنت اور جہنم قیامت کے دن جہنم کا غیظ و غضب کفار و مشرکین کی بدحواسی میں مزید اضافہ کر دے گا۔ جہنم کا پیٹ بھرے گا ہی نہیں؛ مشرکین اس میں گرتے جائیں گے، اپنے اپنے "مقامِ ناز" پر پہنچتے جائیں گے، لیکن اربہا انسانوں کو ہضم کرنے کے باوجود جہنم کو ذرّہ برابر بھی قرار نہیں آئے گا تا آنکہ قدرتِ خداوندی اس کا پیٹ بھر دے۔ اور دوسری طرف جنت میں ہر قسم کی نعمتوں کی فراوانی ہوگی۔ اس کے حصول کے لئے حضور نبی اکرم ﷺ کو بالخصوص اور عام مسلمانوں کو بالعموم تعلق باللہ کی درستگی اور شب و روز صوم و صلوٰۃ کی پابندی کا تاکیدی حکم دیا جا رہا ہے۔


سورہ ذاریات کا خلاصہ

جزائے اعمال یقینی ہے اس سے قبل دعوتُ الی التوحید اور دعوتُ الی القرآن جیسے مضامین کثرت سے بیان کئے جا چکے ہیں۔ اب قیامت اور اس دن ہونے والی جزا و سزا کے اثبات اور یقین دہانی پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: تعلق باللہ کی درستی پر جزا اللہ تعالیٰ اہلِ عرب کے مزاج کی رعایت کرتے ہوئے مختلف قسمیں کھا کر وقوعِ قیامت کو ثابت فرما رہے ہیں کہ یہ دن ضرور آ کر رہے گا۔ اس دن جن لوگوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے درست نہ ہوگا وہ جہنم میں گرفتار ہوں گے، اور:

  • تہجد گزار

  • شب زندہ دار

  • صوم و صلوۃ کے پابند

  • حقوقِ مالیہ ادا کرنے والے

جنت کی نعمتوں میں شاداں و فرحاں ہوں گے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تذکیر بأیّامِ اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمان نوازی ذکر کرنے کے بعد حضرت لوط، موسیٰ، ہود اور صالح علیہم السلام کی اقوام کا واقعہ بیان کر کے واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کے اعمالِ سَیّئہ کی پاداش میں ان پر عذابِ الٰہی آیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اعمال کا بدلہ ضرور مل کر رہے گا، چاہے دنیا میں کچھ کم ملے لیکن آخرت میں پورا ملے گا۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: جن و انس کی تخلیق کا مقصد آسمان کو چھت بنا کر، زمین کو فرش بنا کر، چاند اور سورج کا نظام قائم فرما کر ان تمام کو انسان کی خدمت میں لگا دیا گیا ہے، اور انسان کو اپنی خدمت کا منصبِ جلیل عطا فرمایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے انسان: اپنے سے ماتحت مخلوقات کا مخدوم اور اپنے خالق کا خادم ہے۔ اب اگر وہ ربِّ جلیل کی عبادت چھوڑ کر مخلوق یا مصنوع کی عبادت میں لگ جائے تو یہ قلبِ موضوع کی بدترین مثال ہے کہ خادم مخدوم بن گیا اور مخدوم خادم۔

"آج الحمدللہ سورة حجرات سورۃ ق اور سورۃ ذاریات کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة طور شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں