🥛 بیوی کا دودھ پینے کا شرعی حکم اور نکاح پر اثر


 

🥛 بیوی کا دودھ پینے کا شرعی حکم اور نکاح پر اثر

مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)

سلسلہ: احکام النکاح | پوسٹ نمبر: 17


شرعی مسئلہ اور حرمت کی وجہ

بیوی کا دودھ پینے کے حوالے سے شرعی احکام درج ذیل ہیں:

  • حرمت: کسی بھی بالغ مرد کے لیے جان بوجھ کر اپنی بیوی کا دودھ پینا حرام ہے۔

  • وجہ: انسانی دودھ عورت کے بدن کا ایک جزو ہے، اور انسانی اجزاء کا استعمال (بغیر کسی شدید شرعی ضرورت کے) جائز نہیں ہے۔

  • استثنا: بچوں کے لیے مدتِ رضاعت (دودھ چھڑانے کی مدت) کے اندر ضرورت کی بنا پر دودھ پینے کی اجازت دی گئی ہے۔

نکاح کی حیثیت اور توبہ

  • نکاح پر اثر: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا دودھ پی لے، تو اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی حرمتِ مصاہرت ثابت ہوتی ہے۔

  • لازم حکم: چونکہ یہ ایک ناجائز اور حرام فعل ہے، اس لیے اس عمل پر اللہ تعالیٰ کے حضور سچی توبہ اور استغفار کرنا لازم ہے۔


📚 مستند حوالہ جات

  • الدرالمختار مع ردالمحتار: کتاب النکاح، باب الرضاع، صفحہ 204

  • دررالحکام شرح غرر الاحکام: 1/356

  • فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی: 144205201059


📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم

جدید فقہی مسائل اور مستند دینی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں: 🌐 آن لائن بلاگ: [www.alkamunia.com]


🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز

  • Meta Description: کیا بیوی کا دودھ پینے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟ انسانی اجزاء کی حرمت اور توبہ کے احکام جانئے مفتی عرفان اللہ درویش کی اس فقہی تحریر میں۔

  • Keywords: بیوی کا دودھ پینا، احکامِ نکاح، حرمتِ رضاعت، مفتی عرفان اللہ درویش، جامعہ بنوری ٹاؤن، فقہی مسائل، Breast milk during marriage.

  • Hashtags: #Nikah #احکام_نکاح #فقہی_مسائل #حرمت #نکاح #مفتی_عرفان_اللہ #اصلاح_معاشرہ


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں