🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴41🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
مدینہ منورہ میں آمد
🥛 ام معبدؓ کے خیمے کا معجزہ
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ایک برتن لاؤ۔"
حضرت ام معبدؓ ایک برتن اٹھا لائیں — وہ اتنا بڑا تھا کہ اس سے آٹھ دس آدمی سیراب ہو سکتے تھے۔
غرض حضور ﷺ نے بکری کا دودھ نکالا — اس کے تھنوں میں دودھ بہت بھر گیا تھا۔
آپ ﷺ نے وہ دودھ پہلے ام معبدؓ کو دیا — انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا — اس کے بعد ان کے گھر والوں نے پیا — آخر میں نبی کریم ﷺ نے خود دودھ نوش فرمایا — اور پھر ارشاد فرمایا:
"قوم کو پلانے والا خود سب سے بعد میں پیتا ہے۔"
سب کے دودھ پی لینے کے بعد — آپ ﷺ نے پھر بکری کا دودھ نکال کر ام معبدؓ کو دے دیا — اور وہاں سے آگے روانہ ہوئے۔
🏠 ام معبدؓ کا شوہر اور حضورﷺ کا حلیہ مبارک
شام کے وقت ام معبدؓ کے شوہر ابو معبدؓ لوٹے — وہ اپنی بکریوں کو چرانے کے لیے گئے ہوئے تھے — خیمے پر پہنچے تو وہاں بہت سا دودھ نظر آیا۔
دودھ دیکھ کر حیران ہو گئے — بیوی سے بولے:
"اے ام معبد! یہ یہاں دودھ کیسا رکھا ہے... گھر میں تو کوئی دودھ دینے والی بکری نہیں ہے؟"
مطلب یہ تھا کہ یہاں جو بکری تھی — وہ تو دودھ دے ہی نہیں سکتی تھی — پھر یہ دودھ کہاں سے آیا؟
حضرت ام معبدؓ بولیں:
"آج یہاں سے ایک بہت مبارک شخص کا گزر ہوا تھا۔"
یہ سن کر حضرت ابو معبدؓ اور حیران ہوئے — پھر بولے:
"ان کا حلیہ تو بتاؤ۔"
جواب میں ام معبدؓ نے حضور ﷺ کا نورانی حلیہ مبارک یوں بیان کیا:
"ان کا چہرہ نورانی تھا — ان کی آنکھیں ان کی لمبی پلکوں کے نیچے چمکتی تھیں — وہ گہری سیاہ تھیں — ان کی آواز میں نرمی تھی — وہ درمیانے قد کے تھے — نہ بہت زیادہ لمبے تھے، نہ چھوٹے — ان کا کلام ایسا تھا جیسے کسی لڑی میں موتی پرو دیے گئے ہوں — بات کرنے کے بعد جب خاموش ہوتے تھے تو ان پر باوقار سنجیدگی ہوتی تھی — اپنے ساتھیوں کو کسی بات کا حکم دیتے تھے تو وہ جلد از جلد اس کو پورا کرتے تھے — وہ انہیں کسی بات سے روکتے تھے تو فوراً رک جاتے تھے — وہ انتہائی خوش اخلاق تھے — ان کی گردن سے نور کی کرنیں پھوٹتی تھیں — ان کے دونوں ابرو ملے ہوئے تھے — بال نہایت سیاہ تھے — وہ دور سے دیکھنے پر نہایت شاندار اور قریب سے دیکھنے پر نہایت حسین و جمیل لگتے تھے — ان کی طرف نظر پڑتی تو پھر دوسری طرف ہٹ نہیں سکتی تھی — اپنے ساتھیوں میں وہ سب سے زیادہ حسین و جمیل اور بارعب تھے — سب سے زیادہ بلند مرتبہ تھے۔"
🤲 ابو معبدؓ کا ایمان لانا
حضرت ام معبدؓ کا بیان کردہ حلیہ سن کر ان کے شوہر بولے:
"اللہ کی قسم! یہ حلیہ اور صفات تو انہی قریشی بزرگ کی ہے — اگر میں اس وقت یہاں ہوتا تو ضرور ان کی پیروی اختیار کر لیتا — اور میں اب اس کی کوشش کروں گا۔"
چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ام معبدؓ اور حضرت ابو معبدؓ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تھے — اور انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔
حضرت ام معبدؓ کی جس بکری کا دودھ آپ ﷺ نے دوہا تھا — وہ بکری حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانے تک زندہ رہی۔
😡 مکہ میں حضرت اسماءؓ پر ظلم
ادھر مکہ میں جب قریش کو نبی کریم ﷺ کا کچھ پتہ نہ چلا — تو وہ لوگ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دروازے پر آئے — ان میں ابوجہل بھی تھا۔
دروازے پر دستک دی گئی — تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بڑی بیٹی حضرت اسماءؓ باہر نکلیں — ابوجہل نے پوچھا:
"تمہارے والد کہاں ہیں؟"
وہ بولیں:
"مجھے نہیں معلوم۔"
یہ سن کر ابوجہل نے انہیں ایک زوردار تھپڑ مارا — تھپڑ سے ان کے کان کی بالی ٹوٹ کر گر گئی۔
اس پر بھی حضرت اسماءؓ نے انہیں کچھ نہ بتایا — ابوجہل اور اس کے ساتھی بڑبڑاتے ہوئے ناکام لوٹ گئے۔
👀 مدینہ والوں کا انتظار اور خوشی کی خبر
ادھر مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ اللہ کے رسول مکہ معظمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف چل پڑے ہیں۔
اب تو وہ بے چین ہو گئے — انتظار کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا — روزانہ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل پڑتے اور حرہ کے مقام تک آ جاتے — جو مدینہ منورہ کے باہر ایک پتھریلی زمین ہے۔
جب دوپہر ہو جاتی اور دھوپ میں تیزی آ جاتی — تو مایوس ہو کر واپس لوٹ آتے۔
پھر ایک دن ایسا ہوا — مدینہ منورہ کے لوگ گھروں سے مقام حرہ تک آئے — جب کافی دیر ہو گئی اور دھوپ میں تیزی آ گئی — تو وہ پھر واپس لوٹنے لگے۔
ایسے میں ایک یہودی حرہ کے ایک اونچے ٹیلے پر چڑھا — اسے مکہ کی طرف سے کچھ سفید لباس والے آتے دکھائی دیے — اس قافلے سے اٹھنے والی گرد سے نکل کر جب آنحضرت ﷺ واضح طور پر نظر آئے — تو وہ یہودی پکار اٹھا:
"اے گروہِ عرب! جس کا تمہیں انتظار تھا، وہ لوگ آ گئے!"
یہ الفاظ سنتے ہی مسلمان واپس دوڑے اور حرہ کے مقام پر پہنچ گئے — انہوں نے حضور اقدس ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو ایک درخت کے سائے میں آرام کرتے پایا۔
ایک روایت میں ہے کہ پانچ سو سے کچھ زائد انصاریوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا۔
🕌 قبا میں قیام اور مسجد قبا کی بنیاد
وہاں سے چل کر حضور اقدس ﷺ قبا تشریف لائے — اس روز پیر کا دن تھا۔
آپ ﷺ نے قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے ایک شخص کلثوم بن معدمؓ کے گھر قیام فرمایا — بنی عمرو کا یہ گھرانہ قبیلہ اوس میں سے تھا — ان کے بارے میں روایت ملتی ہے کہ آپ ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے ہی مسلمان ہو گئے تھے۔
قبا میں حضور ﷺ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی — اس کا نام مسجد قبا رکھا۔
اس مسجد کے بارے میں ایک حدیث میں ہے کہ:
"جس شخص نے مکمل طور پر وضو کیا — پھر مسجد قبا میں نماز پڑھی — تو اسے ایک حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔"
حضور اقدس ﷺ اکثر اس مسجد میں تشریف لاتے رہے — اس مسجد کی فضیلت میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ میں ایک آیت بھی نازل فرمائی۔
🎉 مدینہ منورہ میں استقبال
قبا سے آپ ﷺ مدینہ منورہ پہنچے — جونہی آپ کی آمد کی خبر مسلمانوں کو پہنچی — ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔
حضرت براءؓ فرماتے ہیں:
"میں نے مدینہ والوں کو آنحضرت ﷺ کی آمد پر جتنا خوش دیکھا — اتنا کسی اور موقع پر نہیں دیکھا۔"
سب لوگ آپ ﷺ کے راستے میں دونوں طرف آ کھڑے ہوئے — اور عورتیں چھتوں پر چڑھ گئیں — تاکہ آپ کی آمد کا منظر دیکھ سکیں۔
عورتیں اور بچے خوشی میں یہ اشعار پڑھنے لگے:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا
مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ
وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا
مَا دَعَا لِلّهِ دَاعِ
أَيُّهَا الْمَبْعُوْثُ فِيْنَا
جِئْتَ بِالْأَمْرِ الْمُطَاعِ
ترجمہ:
"چودھویں رات کا چاند ہم پر طلوع ہوا ہے — جب تک اللہ تعالیٰ کو پکارنے والا اس سر زمین پر باقی ہے — ہم پر اس نعمت کا شکر ادا کرنا واجب ہے — اے آنے والے شخص جو ہم میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں — آپ ایسے احکامات لے کر آئے ہیں جن کی پیروی اور اطاعت واجب ہے۔"
🕋 حضرت ابوبکرؓ اور حضورﷺ کا فرق
راستے میں ایک جگہ حضور ﷺ بیٹھ گئے — حضرت ابوبکرؓ حضور ﷺ کے پاس کھڑے ہو گئے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ پر بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو چکے تھے — جب کہ حضور اقدس ﷺ جوان نظر آتے تھے — حضور اقدس ﷺ کے بال سیاہ تھے — اگرچہ آپ ﷺ عمر میں حضرت ابوبکرؓ سے دو سال بڑے تھے۔
اب ہوا یہ کہ جن لوگوں نے پہلے آپ ﷺ کو نہیں دیکھا تھا — انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کے بارے میں خیال کیا کہ اللہ کے رسول یہ ہیں — اور گرم جوشی سے ان سے ملنے لگے۔
یہ بات حضرت ابوبکرؓ نے فوراً محسوس کر لی — اس وقت تک دھوپ بھی حضور اکرم ﷺ پر پڑنے لگی تھی — چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی چادر سے حضور اکرم ﷺ پر سایہ کر دیا — تب لوگوں نے جانا کہ اللہ کے رسول یہ ہیں۔
🐪 اونٹنی کا راستہ اور مدینہ کی پہچان
پھر نبی کریم ﷺ اس جگہ سے روانہ ہوئے — آپ ﷺ اونٹنی پر سوار تھے — اور ساتھ ساتھ بہت سے لوگ چل رہے تھے — ان میں سے کچھ سوار تھے تو کچھ پیدل۔
اس وقت مدینہ منورہ کے لوگوں کی زبان پر یہ الفاظ تھے:
"اللہ اکبر! رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے!"
راستے میں آپ کی خوشی میں حبشیوں نے نیزہ بازی کے کمالات اور کرتب دکھائے۔
ایسے میں ایک شخص نے پوچھا:
"اے اللہ کے رسول! آپ جو یہاں سے آگے تشریف لے جا رہے ہیں — تو کیا ہمارے گھروں سے بہتر کوئی گھر چاہتے ہیں؟"
اس کے جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"مجھے ایک ایسی بستی میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے — جو دوسری بستیوں کو کھائے گی۔"
اس کا مطلب یہ تھا کہ دوسری بستی کے لوگوں پر اثر انداز ہو جائے گی — یا دوسری بستیوں کو فتح کر لے گی۔
یہ جواب سن کر لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کا راستہ چھوڑ دیا — اس بستی کے بارے میں سب کو بعد میں معلوم ہو گیا کہ وہ مدینہ منورہ ہے۔
📜 مدینہ منورہ کا نام اور پہلا جمعہ
مدینہ منورہ کا پہلا نام یثرب تھا — یثرب ایک شخص کا نام تھا — وہ حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے تھا۔
مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کی آمد جمعہ کے روز ہوئی — چنانچہ اس روز پہلا جمعہ پڑھا گیا۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں