سبق نمبر 42 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 42: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ مومن کا خلاصہ

دعوتُ اِلَی القرآن پورے قرآنِ کریم کے اندر لفظ ”حم“ سے شروع ہونے والی کل سات سورتیں ہیں جو سب کی سب مکی ہیں اور ان سب کا موضوع ”دعوتُ اِلَی القرآن“ ہے، لیکن ہر ایک میں اندازِ دعوت اور اس کا عنوان علیحدہ، جداگانہ اور اچھوتا ہے جس کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر آ جائے گی۔ اس اعتبار سے سورۂ مومن کا موضوع مخالفینِ قرآن کو تنبیہ ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: تذکیر بأیّام اللہ اس رکوع میں تذکیر بأیّامِ اللہ کے طور پر گزشتہ اقوام و ملل مثلاً قومِ نوح اور دیگر احزابِ کفّار کے واقعات، تکذیبِ رُسل پر ان کی جرأت اور اس پر عذابِ شدید کا نزول بیان کر کے دراصل مخالفینِ قرآن کو ڈرانا مقصود ہے جو قرآنِ کریم کی سچی اور کھری دعوتِ حقّہ کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جہنمی ہیں اور ملائکۂ معصومین کی دعائے رحمت سے محروم ہیں، جو ایمان والوں کے لیے عرشِ عظیم کو اٹھائے ہوئے بھی دست بہ دعا رہتے ہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تذکیر بما بعد الموت قیامت کے یومِ عظیم میں جب ساری حکومتیں، قوتیں، عزتیں، عظمتیں، رفعتیں اور بادشاہتیں اپنے مالکِ حقیقی کی طرف لوٹ جائیں گی، پروردگارِ عالم کی طرف سے "لِمَنِ المُلْکُ الْیَوْم؟" کا سوالیہ جملہ دہرایا جائے گا۔ کوئی جواب دینے والا نہ ہوگا، ہمتیں پست پڑ جائیں گی، زبانیں گنگ ہو جائیں گی، دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہو جائیں گی۔ خود پروردگارِ عالم کی طرف سے جواب ارشاد ہوگا: "لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّار"۔ اس دن کی ہولناکی اور خوفناک کیفیت سے مخالفینِ قرآن کو ڈرنا چاہئے ورنہ ان کا انجام اچھا نہ ہوگا۔

رکوع نمبر ۳ تا ۶ کا خلاصہ: تذکیر بأیّام اللہ و بما بعد الموت رکوع نمبر ۳ میں رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ دوبارہ دہرایا جا رہا ہے۔ رکوع نمبر ۴ اور ۵ میں ان دونوں مضمونوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ رکوع نمبر ۴ میں تذکیر بأیّام اللہ مقدم ہے اور تذکیر بما بعد الموت مؤخر، جبکہ رکوع نمبر ۵ میں اس کا عکس ہے۔ اور رکوع نمبر ۶ میں رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ دہرایا جا رہا ہے۔

چنانچہ:

  • فرعون، ہامان اور قارون وغیرہ کا تعلیماتِ موسوی کو سحر اور کذب کہنا۔

  • حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ساحر و کذّاب کہنا۔

  • فرعون و ہامان کی غرقابی اور قارون کے زمین میں دھنسنے کا واقعہ۔

  • مومنِ آلِ فرعون کا لوگوں کو نصیحت کرنا اور یومِ قیامت سے ڈرانا۔

  • دنیاوی زندگی کے فانی اور آخرت کے باقی رہنے پر دلائل دینا۔

  • قیامت کے دن جہنم میں ذائقۂ عذاب چکھنے کے بعد ایک دن کیلئے تخفیفِ عذاب کی درخواست کا بھی قبول نہ ہونا — یہ سب ان رکوعات کے مضامین ہیں۔

رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: تذکیر بآلاء اللہ اللہ تعالیٰ کی مختلف نعمتیں ذکر کی جا رہی ہیں: زمین کو آرام گاہ اور فرش بنانا، آسمان کو چھت بنانا، حسین مصوری کے ساتھ شکلیں عطا کرنا، طاقتور تدریجی نظام کے تحت وجود و بقا دینا۔ ظاہر ہے کہ ان سب سوالوں کا جواب یہی ہے کہ اللہ نے یہ سب کچھ کیا ہے، پھر اس کے بھیجے ہوئے دستور اور قانون سے اعراض کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟

رکوع نمبر ۸ کا خلاصہ: تذکیر بما بعد الموت اس وقت کا کیا عالم ہوگا جب مخالفینِ قرآن و تعلیماتِ الٰہیہ کی گردنیں بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑی ہوں گی، جہنم کے کھولتے پانی کی طرف سر کے بل گھسیٹے جائیں گے، پھر آگ میں جھونک دیئے جائیں گے، اور مزید اذیت کے لیے کہا جائے گا: "ذرا اپنے معبودوں کو تو بلاؤ، وہ کہاں گئے؟" اس وقت ان کی حسرت و ندامت کا کیا عالم ہوگا؟

رکوع نمبر ۹ کا خلاصہ: تذکیر بآلاء اللہ و بأیّام اللہ جانوروں کے خالق بھی اللہ ہیں اور ان میں انسان کے لئے بے شمار منافع رکھے ہیں — سواری، باربرداری، کشتی رانی، اور دیگر مرئی و غیر مرئی نشانیاں۔ کیا انہوں نے دورانِ سفر گزری ہوئی تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات نہیں دیکھے کہ عبرت پکڑیں؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کی چشمِ بصیرت نابینا ہو چکی ہے۔


سورۂ حم السجدہ کا خلاصہ

دعوتُ اِلَی القرآن اس سورت کا بنیادی و مرکزی موضوع تو "دعوتُ اِلَی القرآن" ہے، لیکن اس سے قبل مخالفینِ قرآن کو اس مخالفت کے سنگین جرم اور نتائج سے ڈرایا گیا ہے۔ اس سورت میں ایک نئے انداز میں بتایا گیا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے تقاضے سے نازل ہوا ہے۔ اس لئے اس کی دعوت کو گوشِ ہوش سے سنو اور اس پر عمل کرو۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: دعوتِ توحید و قرآن کریم اس رکوع میں اصالتاً دعوتِ توحید بیان کی جا رہی ہے، تاہم ضمنی طور پر دعوتِ قرآن بھی بیان ہوئی ہے۔ کفار و مشرکین کہتے ہیں: ہمارے دل تمہاری بات نہیں سمجھتے، ہمارے کانوں میں بوجھ ہے، ہمیں تمہاری بات سنائی نہیں دیتی، ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے کان بند ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری ہے، کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشیر و نذیر بنا کر نازل کیا گیا ہے اور اس کی دعوت سے منہ موڑنا کسی طرح مناسب نہیں۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تذکیر بآلاء اللہ و بأیّام اللہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو صرف دو دن میں تخلیق فرمایا، اس میں پہاڑ بطورِ میخ کے گاڑ دیئے اور ہر قسم کی غذائیں چار دن کے اندر اندر اس میں ودیعت فرما دیں۔ آسمان دھوئیں کی شکل میں تھا، اسے موجودہ حالت پر استوار کیا۔ زمین و آسمان اور ان کی ہر چیز اللہ کی اطاعت خوشی سے کرتی ہے، تم اشرف المخلوقات ہوتے ہوئے اس کی اطاعت سے کیوں گریزاں ہو؟ کیا تم نے پہلی امتوں کے واقعات نہیں سنے؟ وہ لوگ تو قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھے، انہوں نے الہامی تعلیمات اور خدائے واحد و قہار کا انکار کیا تو تباہ ہو گئے۔

رکوع نمبر ۳ اور ۴ کا خلاصہ: تذکیر بما بعد الموت قیامت کے دن زبانوں پر مہر لگا کر اعضاء و جوارح کو قوتِ گویائی بخش کر ان سے کفار و مشرکین کی بداعمالیوں کے بارے میں گواہی طلب کی جائے گی، اور وہ حیران و پریشان اپنے اعضاء و جوارح کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ ذرا سوچئے! اس وقت کا عالم کیا ہوگا اور کیسی شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ آج تو یہ کافر کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی دعوتِ حقہ کو سمعِ قبول سے سنو ہی نہیں کہ عمل کی نوبت آئے، اور تلاوتِ قرآن کے وقت شور مچایا کرو۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: حفاظتِ قرآن کا وعدہ اللہ کی طرف لوگوں کو بلانے والے نیک آدمی سے زیادہ کس کی بات اچھی ہو سکتی ہے؟ اس لئے اس کی بات توجہ سے سننی چاہئے۔ باقی رہا یہ قرآن—سو وہ باطل کے ہر حملے سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ باطل نہ تو قرآنِ کریم کے سامنے سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے گھات لگا سکتا ہے۔ یہ تو ربِّ حکیم و حمید کی طرف سے نازل شدہ ہے، اس میں کسی قسم کی غلطی اور تحریف کا کیا سوال؟

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: یومُ المجازاة کا علم قیامت کے دن کا یقینی اور حتمی علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ کسی مقرب فرشتے، کسی اُولو العزم نبی، کسی باعظمت صحابی اور کسی باوقار تابعی کو اس کا علم نہیں۔ اور جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں، جب قیامت بپا ہو جائے گی تو اس وقت انہیں اس انکار کی ایسی شدید سزا دی جائے گی کہ وہ بھولنا بھی چاہیں تو نہ بھول سکیں گے۔ أعاذنا اللہ منہا۔

"آج الحمدللہ سورة مومن اور سورۃ حم السجدہ کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة شوری شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں