سبق نمبر 41 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 41: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۃ ص کا خلاصہ

بے ادب محروم گشت اُمَمِ سابقہ و سالفہ کی تباہی و بربادی کا سبب تکذیبِ رُسُل (انبیاء کرام علیہم السلام کی تکذیب) تھا، جس کے پسِ پردہ بے ادبی کارفرما تھی۔ اس لئے اگر یہ لوگ بے ادبی اور گستاخی و تکذیبِ انبیاء سے باز آجائیں اور اپنی اصلاح کر لیں تو عذابِ الٰہی سے بچ سکتے ہیں، ورنہ پھر عذابِ الٰہی چکھنے کیلئے تیار رہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: کیا یہ ساحرانہ کلام ہے؟ قرآنِ کریم جو ایک نصیحت آمیز کلام ہے، ہدایت و حکمت اس کتابِ مبین کی خصوصیات ہیں۔ لانے والے اس کے جبریلِ امین اور پہنچائے گئے حضورِ رحمۃٌ للعالمین۔ اس قرآن کو بے ادب و بدنصیب لوگ سحر اور صاحبِ قرآن ﷺ کو ساحر کہہ کر الہامی تعلیمات کا مذاق اُڑا رہے ہیں، تکذیبِ قرآن و گستاخیِ رسول کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ اُمتیں اسی وجہ سے تباہ کر دی گئیں، اب یہ اپنا انجام سوچ لیں۔

رکوع نمبر ۲ تا ۵ کا خلاصہ: ضرورتِ انابت الی اللہ حضرت داؤد و سلیمان، ایوب و ابراہیم، اسحاق و یعقوب، اسماعیل و الیسع اور ذوالکفل علیہم السلام کے واقعات و قصص عبرت پذیری کیلئے ذکر کئے جا رہے ہیں۔ ان حضرات نے جب انابت الی اللہ کے نسخۂ کیمیا پر عمل کیا تو رحمتِ الٰہی پہلے سے زیادہ ان کی طرف متوجہ ہوئی اور توبہ و استغفار نے انہیں منجھے ہوئے برتن کی طرح صاف و شفاف کر دیا۔

پھر کسی کو خلیفۃُ اللہ کا لقب عطا ہوا اور کسی کو ہواؤں پر حکمرانی ملی، کسی پر سونے اور چاندی کی ٹڈیوں کی بارش ہوئی اور کسی کو جدُّ الانبیاء بنا دیا گیا، کسی کو ذبیحُ اللہ بنا دیا اور کسی کو پوری قوم کا پیشوا اور مقتدی بنا دیا۔ پھر جنتیوں اور جہنمیوں کا ذکر کر کے حضرتِ آدم ابو البشر علیہ السلام اور ابلیسِ ابو الجن علیہ اللعنہ کے قصے کو دوبارہ دہرایا جا رہا ہے تا کہ کل عالم کے لوگ ابلیس کو اپنا حقیقی دشمن سمجھیں، ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شیطان اور اس کے پیروکاروں سے جہنم کو بھرنے کی قسم کھا چکے ہیں۔


سورہ زمر کا خلاصہ

اخلاص فی العبادۃ اس سورت میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ عبادت خالصۃً اللہ تعالیٰ کیلئے ہونی چاہئے، اس کی رضا اور اسے دکھانا مقصود ہو۔ اگر غیر اللہ کو راضی کرنا یا اسے دکھانا مقصود ہو تو پھر وہ عبادت کہلانے کے قابل نہیں، وہ ایک شیطانی عمل ہے جو بظاہر نماز، روزہ کی شکل میں جلوہ گر ہے۔ اسی سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ تمام اعمال کی جان اخلاص ہے، اگر یہ ہے تو عبادت، عبادت ہے ورنہ محض خانہ پری۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: تذکیر بآلاء اللہ اللہ تعالیٰ کی مختلف اور متعدد نعمتوں کو ذکر کر کے اس بات کی طرف دعوت دی جا رہی ہے کہ جس طرح پریشانی اور تکلیف کے وقت تم اللہ کی عبادت اخلاص سے کرتے ہو اور اس میں کمالِ عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اسی سے دعائیں کرتے ہو، اسی طرح خوشی اور فراخی کے عالم میں بھی اللہ کی عبادت اخلاص کے ساتھ کیا کرو، ورنہ تم بڑے مطلبی اور خود غرض ہو گے کہ جب تک اپنا مطلب نکلوانا تھا اس وقت تک تو تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ جُڑے رہے اور جوں ہی مطلب پورا ہوا تو ایسے ہو گئے کہ گویا اللہ کو جانتے ہی نہیں۔ تف ہے تمہاری عقلوں پر۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تذکیر بما بعد الموت اس رکوع میں موت کے بعد پیش آنے والے حالات و واقعات ذکر کر کے اخلاص فی العبادۃ کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اور حضور ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ اپنی عبادت میں اخلاصِ کامل پیدا فرما کر ان کیلئے نمونہ قائم فرما دیجئے تا کہ ان کیلئے رہِ عمل میں کوئی رکاوٹ اور دشواری نہ رہے اور ریاکاروں کیلئے عذر کا موقع نہ رہے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: تذکیر بأیّامِ اللہ اجمالی طور پر گزشتہ اقوام اور ان کی ہلاکت پر ایک تبصرہ کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں نے اولاً تو عبادتِ الٰہی کی طرف اپنی توجہ مبذول ہی نہیں کی، جن لوگوں نے توجہ کی بھی تو ان کی عبادت میں اخلاص نہ تھا، اس لئے انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ اگر یہ لوگ بھی اخلاص فی العبادۃ کیلئے کوشاں نہ ہوئے تو گویا عملی طور پر شرک میں مبتلا ہوئے اور شرک بہرحال شرک ہے جیسے سانپ بہرحال سانپ ہوتا ہے اور شرک کی سزا انتہائی خوفناک ہے۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: حمایتِ الٰہی جو لوگ اپنی عبادت کو اخلاص جیسے زیور سے آراستہ کر لیتے ہیں، ان کیلئے اللہ تعالیٰ کی حمایت و نصرت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا، جس سے انہیں کسی معاند و مخالف کی ضرر رسانی کا اندیشہ نہیں رہے گا اور عذابِ الٰہی سے بھی وہ محفوظ رہیں گے۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: سفارش بھی نفع مند نہ ہو سکے گی جن لوگوں نے اپنی عبادت کو خالصۃً لِوجهِ اللہ ادا نہیں کیا، اخلاص کے زیور سے اسے دُور رکھا، انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ کل قیامت کے دن انہیں کسی قسم کی سفارش نفع نہ دے سکے گی۔ دنیا میں محض ڈھکوسلوں کی بنیاد پر جینا عقلمندی نہیں، اعلیٰ درجے کی کم عقلی ہے۔

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: اعلانِ نجات مخلصین فی العبادۃ کیلئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے، لہٰذا انہیں کسی قسم کی مایوسی اور نااُمیدی کی ضرورت نہیں۔ البتہ قرآنِ کریم بھیج کر مخالفین و معاندین کے منہ بند کرنا مقصود ہے تا کہ کل قیامت کو کسی قسم کا عذر اور افسوس کرنے کا موقع نہ رہے۔

رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: ترکِ اخلاص فی العبادۃ کی سزا ترکِ اخلاص فی العبادۃ کی سزا انتہائی سخت ہے جس سے انسان کی زندگی بھر کی ساری محنت رائیگاں اور اکارت چلی جاتی ہے۔ اور وہ سزا ہے حبطِ عمل یعنی جو نیک اعمال وہ زندگی بھر سرانجام دیتے رہے اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ الٹا وہ اعمال ان کیلئے حسرت، ندامت اور افسوس کا سبب بن جائیں گے۔

رکوع نمبر ۸ کا خلاصہ: نتائجِ اُخرویہ جو لوگ اپنی عبادت کے اندر اخلاص کی دولت پیدا نہ کر سکے، وہ جہنم کا ایندھن بنیں گے اور فرشتے انہیں لعنت ملامت کریں گے۔ اور جن لوگوں نے اپنی عبادت میں اخلاص کی اہمیت پیش نظر رکھی وہ جنت کے حقدار اور اس کے وارث بنیں گے۔

"آج الحمدللہ سورۃ ص اور سورۃ زمر کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة مومن شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں