سبق نمبر 40 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 40: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۃ یٰس کا خلاصہ

مسئلہ توحید و رسالت و مجازات اس سورت میں دعوتِ اسلامی کے تین بنیادی عقیدوں کو بیان کیا جا رہا ہے جنہیں اس سے قبل بھی بارہا بیان کیا جا چکا، اہمیت، حیثیت اور افادیت کے پیشِ نظر قلوب میں انہیں مستحکم کرنے کیلئے مکرر ذکر کیا جا رہا ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مسائلِ ثَلَثہ بالاجمال اس رکوع میں مذکورۃُ الصدر تینوں مسائل اجمالی طور پر بیان کئے جا رہے ہیں، آگے آنے والے رکوعات اس کی شرح و تفصیل کیلئے مختص ہوں گے جنہیں کبھی تو واقعات کی روشنی میں واضح کیا جائے گا اور کبھی دلائل کی قوت سے انہیں مدلل اور مبرہن کیا جائے گا۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تفصیلِ مسئلۂ رسالت اس رکوع میں مسئلۂ رسالت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دو قاصدوں کا اہلِ انطاکیہ کو جا کر دعوتِ توحید دینا مذکور ہے جو بعد میں ایک اور کے اضافے سے تین ہو گئے تھے۔ اَوّلاً یہ تینوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قاصد تھے، پھر خدائی قاصد (پیغمبر) کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوئے۔ انہوں نے اپنی دعوت میں اہلِ انطاکیہ پر یہ بات بھی آشکارا کی کہ ہمارا کام تو فقط اس دعوت کو پہنچا دینا ہے، منوانا ہماری ذمہ داری نہیں۔ ان کی دعوت پر ایک آدمی مسلمان ہو گیا اور اپنی قوم میں اس دعوت کی اشاعت کے درپے ہوا۔ قوم نے اس کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کرتے ہوئے اسے شہید کر ڈالا، پھر اس قوم کو چنگھاڑ کی صورت میں ایک عمومی عذاب نے آ پکڑا اور وہ بُجھ کر رہ گئے۔

رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: تفصیلِ مسئلۂ توحید اس رکوع میں مسئلۂ توحید کو دلائل سے مدلل اور براہین سے مبرہن کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ جس خدا کی قدرت کے یہ کرشمے ہیں کہ بنجر زمین کو یک بیک ہرا بھرا اور سرسبز و شاداب بنا دے، اس میں سے سبزیوں اور میوہ جات کا انتظام کر دے، شمس و قمر کا ایسا متحکم نظام قائم فرما دے کہ کوئی بھی اپنے مدار سے ذرہ برابر بھی ہٹنے نہ پائے، سمندر ایسا اس کے تابعِ فرمان ہو کہ بھری ہوئی کشتیوں کو نہ ڈبوئے—کیا اس خدا کو ماننے سے انکار و روگردانی کرنا اعلیٰ درجے کی کم عقلی نہیں؟

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: تفصیلِ مسئلۂ قیامت اس رکوع میں مسئلۂ مجازات کو واضح کیا جا رہا ہے کہ منکرینِ قیامت جب قبروں سے اٹھیں گے تو افسوس و یاس بھری آواز میں پکاریں گے کہ ہمیں کس نے قبروں سے اٹھا کھڑا کیا۔ جب مجرمین کو مومنین کی فہرست سے اور محرومین کو مرحومین سے ممتاز کر کے دوسری صف میں کھڑا کر دیا جائے گا اور ان ہی کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اس وقت ان کی بدحواسی دیکھنے والی ہوگی۔ اور اہلِ جنت کی لذت و عیش کا تو پوچھنا ہی کیا، انہیں تو خود اللہ تعالیٰ سلام فرمائیں گے۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: اعادۂ مسائلِ ثَلَثہ نتیجہ کے طور پر اس رکوع میں دوبارہ انہی تین مسائل کو ذکر کیا جا رہا ہے، چنانچہ حضور ﷺ کا ہم سے شاعر ہونے کی نفی کر کے مسئلۂ رسالت، اللہ تعالیٰ کے بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنے پر قدرت رکھنے سے مسئلۂ توحید، اور بعث بعد الموت کے ذریعے مسئلۂ مجازات کو بیان کیا گیا ہے۔


سورہ صٰفّٰت کا خلاصہ

دعوتُ إلی التوحید اس سورت میں بھی سابقہ کئی سورتوں کی طرح ’’دعوت الی التوحید‘‘ کے مضمون کو ایک نئے اور جداگانہ انداز و اسلوب میں دہرایا جا رہا ہے۔ مختلف انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات بھی اس سورت کا اہم حصہ ہیں اور اہلِ جنت اور اہلِ دوزخ کے حالات بھی اس سورت میں ذکر کئے گئے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: قیامت کا انکار ہی انکارِ توحید کا سبب ہے اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک عقیدہ وقوعِ قیامت اور اس میں اعمال پر مرتب ہونے والی جزا و سزا کو ماننا ہے۔ جو شخص اس عقیدے کا انکار کرتا ہے، اسے عقیدۂ توحید و رسالت کو ماننے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ جب اس کا یہی اعتقاد نہیں کہ مرنے کے بعد اعمال کی جزا و سزا ہوگی تو پھر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی بجا آوری کر کے کیوں اپنے آپ کو قید میں مبتلا کرے گا؟ اس لئے منکرِ قیامت ہمیشہ منکرِ توحید و رسالت ہوتا ہے۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تذکیر بما بعد الموت منکرینِ توحید کو مرنے کے بعد پیش آنے والے دو مختلف حالات سنا کر توحید کی طرف دعوت دی جا رہی ہے کہ قیامت کے دن مجرمین اور منعَمین الگ الگ کر دیئے جائیں گے۔ جہنمی جہنم میں جنت کے کھانوں اور نعمتوں کے حصول کے متمنی ہوں گے لیکن انہیں ان کی یہ تمنا ہرگز کام نہ دے گی۔ اور جو لوگ منکرینِ قیامت کے پھندے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر ادا کریں گے کہ ہمیں ان بدبختوں سے نجات ملی، ورنہ ہمارے لئے بھی زقوم کا درخت اور ماءِ حمیم تیار ہوتا۔

رکوع نمبر ۳ تا ۵ کا خلاصہ: توحید پرستوں کی کامیابی جن لوگوں نے صدائے توحید پر لبیک کہا، راہِ توحید میں آنے والی ہر مشکل اور مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور گھر بار تک چھوڑنے پر تیار ہو گئے، بالآخر کامیابی و کامرانی نے ان ہی کے قدم چومے۔ اور جب بھی انہوں نے اپنے رب کو پکارا، اس نے ان کی پکار کو ضائع نہیں جانے دیا۔ چنانچہ حضرت نوح، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ، ہارون، الیاس، لوط اور یونس علیہم السلام جب بھی مصائبِ آفاقی یا اَنفُسی میں گرفتار ہوئے، پروردگارِ عالم کے سامنے بصد عجز و انکساری دعا و درخواست پیش کی۔ پروردگار نے ان کی دعاؤں کو ہمیشہ شرفِ قبولیت عطا فرمایا—

  • کسی کو طوفان سے نجات دی،

  • کسی کو آتشِ نمرود سے،

  • کسی کو اسماعیل جیسا عظیم فرزند عطا فرمایا،

  • کسی کو کلیم اللہ کا خطاب بخشا،

  • کسی کو محض سفارش پر ہی نبی بنا دیا،

  • کسی کو ابراہیم کی نسل اور بھتیجا بنا کر سرفراز فرمایا،

  • اور کسی کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دے کر ’’ذوالنون‘‘ کا لقب عطا کر دیا۔

"آج الحمدللہ سورة یس اور سورۃ صفت کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة ص شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں