سبق نمبر 37: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع
سورہ لقمان کا خلاصہ
مستفیدین کا بیان قرآنِ کریم نورِ ہدایت، پُر از حکمت و رحمت اور سراپا بشارت و رافت کتابِ الٰہی ہے، لیکن اس سے فائدہ اٹھانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ قسامِ ازل نے ہمیشہ سے جن لوگوں کو محسنین کی فہرست میں جگہ دے دی ہے، وہی اس کتاب سے مستفید و مستفیض ہو سکیں گے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: قرآن کریم کے سچے واقعات قرآنِ کریم ایک لازوال، لاثانی اور لافانی قانون و دستورِ مملکتِ الٰہی ہے جس کی بنیاد پر پورے عالم کی حکومتوں کو بہ حسن و خوبی چلایا جا سکتا ہے۔ اس پر عمل کرنے والے نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت، رحمت اور دانشمندی جیسے نادر جواہرات عطا کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ قرآنِ کریم کے واقعات سچے اور مبنی بر حقیقت ہیں اور رستم و اسفندیار کے قصے فرضی اور لایعنی ہیں۔ قرآنِ کریم کے سامنے ان کی حیثیت سورج کے سامنے چراغ جتنی بھی نہیں، چہ جائیکہ ان کے مقابلے میں رکھے جا سکیں۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: ایک حکیم کا دانشمندانہ طرزِ عمل حضرت لقمانِ حکیم کا اپنے بیٹے کو آبِ زر سے لکھی جانے والی قابلِ قدر اور قیمتی نصیحتوں سے بھرپور تجربۂ زندگی بیان کرنا اس رکوع میں ذکر کیا جا رہا ہے، جس کی قدر قرآنِ کریم نے ہی کی اور اسے ہمیشہ کی زندگی دے دی۔ اس میں اہلِ اسلام کے لیے یہ سبق پوشیدہ ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کی زندہ جاوید تعلیمات پر عمل پیرا ہوں گے وہ لقمان حکیم کی مانند قابلِ تعظیم ہوں گے اور ان کا شمار اللہ کے مقرب بندوں میں ہوگا۔
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: تذکیر بالاءَ اللہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار اور ان گنت نعمتوں میں سے چند ایک کو ذکر کرکے متوجہ کیا جا رہا ہے کہ جس ذاتِ عالی شان کے اس قدر احسانات ہوں کہ فقط ان احسانات کو شمار کرنا ہی انسانی امکان و طاقت سے باہر ہو، کیا اس کے احکام کی تعمیل کرنا کوئی غیر دانشمندانہ عمل ہے؟ اصل میں کفار کی دلیل ہی بودی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد ان ہی کی پیروی کرتے آئے ہیں، اس لیے ہم بھی ان ہی کی پیروی کریں گے۔ ان بیوقوفوں سے کوئی پوچھے تو سہی کہ اگر وہ جہنم میں جا رہے تھے تو تم بھی جہنم میں داخل ہونا چاہتے ہو؟ یا اگر وہ کنویں میں گرے تھے تو تم بھی گرنا چاہتے ہو؟ یہ کیسی احمقانہ اور غیر دانشمندانہ حرکت ہے۔
رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: مفاتح الغیب اس رکوع میں تذکیر بالاءِ اللہ کے بعد پانچ ایسی چیزوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کے پاس نہیں:
قیامت کے حتمی وقت کا علم۔
نزولِ مطر و بارانِ رحمت کا یقینی علم۔
رحمِ مادر میں موجود بچے کی تذکیر و تانیث، مدتِ عمر، رزق و پیشہ، سعادت و شقاوت کا حتمی علم۔
ذریعہ آمدن و معاش کا یقینی علم۔
موت کے وقت کا علم کہ کب اور کہاں مرے گا۔
سورہ سجدہ کا خلاصہ
دعوت الی الکتاب اس سے قبل بھی یہ مضمون متعدد مرتبہ دہرایا جا چکا ہے، دوبارہ تنبیہ، فائدہ اور اتمامِ حجت کے لیے اس مضمون کو دہرایا جا رہا ہے۔
رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: روحانی تربیت اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ، حکمتِ بالغہ اور رحمتِ واسعہ کے ذریعے حقیر مٹی کو مختلف تغیرات سے متغیر کیا، اس کو ذی حس مخلوق "انسان" کی شکل میں ڈھالا، سننے کے لیے کان، دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سمجھنے کے لیے دل و دماغ عطا کیا اور تدریجاً اس کی تربیت کا انتظام کیا۔ تو کیا اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تقاضا نہ تھا کہ تمہاری جسمانی تربیت کی طرح روحانی تربیت کے لیے ہدایات کا سلسلہ شروع کرے؟ سلسلۂ ہدایات کی یہ آخری کڑی اور آخری قسط قرآنِ کریم سرچشمۂ ہدایت بنا کر نازل کر دی گئی ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو۔
رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: قیامت کی ہولناکیاں قیامت کا دن ایسا ہولناک ہوگا جس میں مجرمین سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور اقبالِ جرم کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر دنیا میں بھیجے جانے کی درخواست پیش کریں گے، لیکن یہ درخواست مسترد کر دی جائے گی۔ اور جو لوگ صائمُ النہار، قائمُ اللیل اور شب زندہ دار ہوں گے، ان کے لیے ایسی نعمتیں تیار ہوں گی جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی، نہ کسی کان نے سنی ہوں گی، نہ دل میں ان کا خیال آیا ہوگا۔ اور مجرمین کو سلاسلِ عذاب میں گرفتار کر دیا جائے گا، جس سے نکلنے کا انہیں کوئی راستہ نہیں ملے گا۔
رکوع نمبر ۳ کا خلاصہ: متبعینِ حق کی ایک جماعت جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتابِ ہدایت تورات ملی اور ان کی قوم دو گروہوں میں بٹ گئی:
ماننے والے
نہ ماننے والے تو متبعینِ حق کی ایک جماعت بہرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام کو میسر آ ہی گئی۔ اسی طرح حضورِ ملی الأَسْلَم ﷺ کو بھی مہاجرین و انصار کی صورت میں متبعینِ حق کی ایک مایۂ ناز جماعت میسر آئے گی، جن کے ذریعے پوری دنیا میں اسلام کا جھنڈا غالب ہوگا اور کفر مغلوب ہو جائے گا۔
"آج الحمدللہ سورة لقمان اور سورۃ سجدہ کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة احزاب شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں