سبق نمبر 33 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 33: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ فرقان کا خلاصہ

رفعِ موانع سورۂ نور میں دعوتِ الی النور پر روشنی ڈالی گئی۔ اس اتباعِ نورِ الٰہی میں جو رکاوٹیں، موانع اور حجابات آ جاتے ہیں، سورۃ الفرقان میں ان کا ازالہ کیا گیا ہے کہ اصل میں ان لوگوں کو توحیدِ باری تعالیٰ، قرآنِ کریم اور مسئلۂ رسالت میں شک ہے۔ اس سورت میں ان کے اعتراضات اور شکوک و شبہات کو دور کیا جا رہا ہے۔ اب ماننا یا نہ ماننا ان کے اختیار میں ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: مسائلِ ثلاثہ بالا جمال اس رکوع میں اجمالی طور پر مذکورہ تینوں مسائل کو کفار و مشرکین کے اعتراضات کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، مثلاً اللہ کے ساتھ دوسرے معبودانِ باطلہ کو شریک کرنا، حضورِ اکرم ﷺ کو غربت و فقیری اور انسانی و جسمانی ضروریات کے ساتھ وابستہ ہونے کا طعنہ دینا، اور قرآنِ کریم کے یکبارگی نازل نہ ہونے پر اعتراض کرنا۔

رکوع نمبر ۲ کا خلاصہ: تصفیۂ مسئلۂ رسالت اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو حضور ﷺ کو باغات، عمدہ محلات اور دنیاوی ساز و سامان میں ہر قسم کی فراوانی عطا کر دیتے، لیکن یہ مصلحت کے خلاف تھا، کیونکہ اس صورت میں بہت سے جھوٹے، مکار اور قربت کے خواہش مند وزیر پرست حضور ﷺ کے گرد جمع ہو جاتے اور کھرے کھوٹے کا امتیاز نہ رہتا۔ رہی یہ بات کہ حضور ﷺ اپنی جسمانی ضروریات کو پورا کرتے ہیں تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، کیونکہ گزشتہ انبیائے کرام علیہم السلام بھی اپنے جسمانی تقاضوں کو پورا کرتے تھے۔

رکوع نمبر ۳ اور ۴ کا خلاصہ: تصفیۂ مسئلۂ قرآنِ کریم قرآن کریم کی دعوت سے اعراض کرنے والے آج تو اپنے بدبخت دوستوں کے کہنے میں آ کر دعوتِ قرآن کریم کا مذاق اُڑاتے ہیں، کل قیامت کے دن یہی لوگ افسوس، ندامت اور حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو کاٹ کاٹ کھائیں گے، لیکن اس وقت اس حسرت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ دنیا کی زندگی میں مست ہو کر اور اپنے مال و دولت پر نازاں ہو کر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ:

“قرآن کریم یکبارگی ہی نازل کیوں نہیں ہو جاتا؟“ سُنو! یاد رکھیں کہ قرآن کریم کی دعوت مسلمانوں کے دلوں میں جمانا اور اس پر انہیں ثابت قدم رکھنا ایک ایسا مقصد ہے جو اس طرزِ تنزیل سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یکبارگی نازل کرنے سے یہ مقصد فوت ہو جاتا۔ اس کے بعد تذکیر بایامِ اللہ کے ضمن میں مسئلۂ قرآن پر مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ اس سے پہلے کی امتیں الہامی و ربانی تعلیمات کو پسِ پشت ڈالنے، ان کا مذاق اُڑانے اور رسولوں کو استہزاء کا نشانہ بنانے کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں۔ کفار و مشرکین کو خیال کرنا چاہئے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی یہی سلوک نہ ہو۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: تصفیۂ مسئلۂ توحید کفار و مشرکین توحیدِ باری تعالیٰ کا اعتقاد بھی فراموش کر چکے ہیں۔ اس رکوع میں پانچ حسی دلائل قائم کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ جن کے حواسِ خمسہ ظاہرہ درست ہیں، وہ اپنے ان حواس سے کام لے کر اس نتیجے تک بآسانی پہنچ سکتے ہیں کہ اس کائنات کو پیدا کرنے والا ایک ربّ موجود و برحق ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ توحیدِ باری تعالیٰ کے قائل نہیں، ان کے حواس درست اور صحیح نہیں رہے۔

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: اوصافِ عبادُ الرحمٰن مسئلۂ توحید و رسالت اور قرآن کریم کے سلسلے میں شکوک و شبہات واردہ کے جوابات دینے کے بعد جن لوگوں کا مقصد محض وقتی نہ تھا بلکہ حقیقت تک رسائی حاصل کرنا تھا، ان کے حجابات اور موانع و شبہات دور ہو گئے۔ انہوں نے حق کو قبول کر لیا اور موصوف بصفاتِ حمیدہ اور متصف بخصائل و عاداتِ طیبہ ہو گئے۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔


سورۂ شعراء کا خلاصہ

صفتِ عزیز و رحیم کے مظاہر اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ عزیز و رحیم کے مظاہر بیان کیے جا رہے ہیں۔ جو لوگ متبعینِ نورِ الٰہی کی فہرست میں داخل ہوئے، ان کے لیے ہمیشہ صفتِ رحیم متوجہ رہی، اور معاندینِ نورِ الٰہی کے استیصال کے لیے صفتِ عزیز کو استعمال کیا گیا۔ اور ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ مل گیا، کیونکہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتے بلکہ ان کے یہاں لوگوں کے اعمال کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: دین میں جبر نہیں حضور ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ کفار کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر مغموم نہ ہوں کہ اپنی پرواہ بھی نہ کریں۔ اگر ہم چاہیں تو جبراً ان کی گردنیں آپ کے سامنے جھکا دیں، لیکن ہمارا یہ ازلی قانون ہے: "لا إکراہَ فِی الدِّین"۔ اس لیے قبولِ دین کے سلسلے میں کسی پر کسی قسم کا جبر و اکراہ روا نہیں رکھا جا سکتا۔ ہم اپنے کسی قول کے خلاف نہیں کرتے، اس لیے فی الحال یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ تاہم اس سے آپ کو پریشان نہ ہونا چاہیے۔

رکوع نمبر ۲ تا ۱۰ کا خلاصہ: تذکیر بایامِ اللہ حضور ﷺ سے قبل جو امتیں گزری ہیں، ان میں سے بعض بعض سے جرائم کی نوعیت میں مختلف تھیں۔ بعض اقوام میں خدائی کے دعوے دار گزرے اور بعض اجرامِ علویہ کی خدائی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے۔ ہر ایک سے اس کے مناسب سلوک کیا گیا، جو کہ صفتِ عزیز کا ایک مظہر تھا؛ اور انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے اصحاب کو بکمالِ تدبیر اس عذاب سے بچا لیا گیا، جو کہ صفتِ رحیم کا ایک نمونہ تھا۔ چنانچہ تین رکوعات پر مشتمل جلیل القدر اور اولو العزم نبی، کلیم اللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خدائی کے دعوے دار عدوّ اللہ فرعون (علیہ اللعنہ) کا واقعہ انتہائی مفصل ہے، جس میں حضرت موسیٰ و فرعون کا باہمی مکالمہ، جادوگروں سے مقابلہ، جادوگروں کا قبولِ اسلام، فرعون کی دھمکیاں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خروجِ مصر اور فرعون کا اپنی قوم سمیت غرق ہونا وغیرہ مضامین شامل ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی قوم کا ذکر کیا گیا، جو اجرامِ علویہ کو کائنات میں مؤثر مانتی تھی۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام، ان کی دعوت و تبلیغ، اور طوفانِ نوح کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ قومِ عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کو، قومِ ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کو، قومِ لوط نے حضرت لوط علیہ السلام کو اور اصحابِ أَیْکَہ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو جھٹلایا۔ قومِ ثمود نے تو گستاخی کی انتہا کر کے معجزۂ خداوندی ناقۃَ اللّٰہ کو شہید کر ڈالا۔ ان تمام اقوام کی طرف صفتِ عزیز متوجہ ہوئی اور صفحۂ ہستی سے ان کا وجود تک مٹا ڈالا، اور صفتِ رحیم انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین پر ہمیشہ سایہ فگن رہی اور انہیں اپنی حفاظت کے حصار میں لیے رکھا۔ اسی وجہ سے یہ لوگ عذابِ الٰہی سے محفوظ رہے۔

رکوع نمبر ۱۱ کا خلاصہ: مخالفینِ قرآن کو تنبیہ جو لوگ قرآنِ کریم کے مخالف اور حضور ﷺ کے معاند ہیں، اور آپ کو مجنون اور شاعر قرار دیتے ہیں، وہ اچھی طرح کان کھول کر سن لیں کہ اگر انہوں نے اپنی اس معاندانہ روش کو ترک نہ کیا اور دعوتِ حق کو قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی صفتِ عزیز ان سے جدا نہیں ہو گئی کہ وہ اس سے بچ جائیں۔ وہ اسی صفتِ عزیز کے سہارے اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، لیکن یاد رکھیں! کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ عزیز اب بھی اسی آب و تاب سے جلوہ گر ہے اور تا ابد رہے گی، جیسے ہمیشہ تھی۔ سابقہ امتوں کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔

"آج الحمدللہ سورة فرقان اور سورۃ الشعراء کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة نمل شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں