سبق نمبر 32 خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع


سبق نمبر 32: خلاصۂ قرآن رکوع بہ رکوع

سورۂ مؤمنون کا خلاصہ

تعلق باللہ کی اہمیت دنیا و آخرت کی ہر قسم کی کامیابی و کامرانی اللہ تعالیٰ سے تعلقِ صحیح رکھنے میں مضمر و منحصر ہے اور یہ تعلق جتنا مضبوط ہوگا، اتنی ہی دنیا و آخرت میں کامیابیاں اور عزتیں حاصل ہوں گی۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: متعلقین باللہ کے اوصاف اس رکوع میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھنے والوں کے اوصاف و کمالات بیان کئے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد ”حسن الخالقین“ کی تخلیق کے اعلیٰ شاہکار کے پیدائشی تدریجی مراحل ذکر کر کے تعلق باللہ کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ قانون تو سب کے نزدیک مسلم ہے۔

الانسان عبدُ الإحسان (انسان بندۂ احسان ہے) اور کوئی بھی انسان اللہ تعالیٰ کے احسانات سے کبھی عہدہ برآ نہیں ہو سکتا، اس لئے اس کا شکر گزار رہنا ضروری ہے۔

رکوع نمبر ۲ اور ۳ کا خلاصہ: تذکیر بأیّامِ اللہ جماعتِ انبیاء میں سے حضرت نوح و ہود اور موسیٰ و ہارون علیہم السلام کے واقعات نصیحت کے طور پر ذکر کئے جا رہے ہیں کہ ان انبیاء کرام کی امتوں نے بالخصوص اور دیگر انبیاء کرام کی امتوں نے بالعموم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق صحیح نہ رکھا تو انہیں دنیا میں بھی رسوائی و ذلت کا سامنا کرنا پڑا اور آخرت میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوگی۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: نصب العین اور نتائج تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی کا نصب العین مندرجہ ذیل تین چیزیں ہیں جن کے اختیار کرنے کا انہیں حکم دیا گیا:

  1. طیبات و حلال چیزوں کا استعمال۔

  2. اعمالِ صالحہ میں اپنے شب و روز بسر کرنا۔

  3. تعلق باللہ کو درست رکھنا۔ اس سلسلے میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات یکساں تھیں اور اس کے نتائج برکتوں اور اطمینانِ قلبی کی صورت میں ظاہر ہوتے تھے۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: تذکیر بآلاء اللہ اللہ تعالیٰ کی مختلف اور بے شمار نعمتیں مثلاً ناک، کان، دل، زبان، لیل و نہار اور موت و زیست کا ذکر کر کے تعلق مع اللہ کی درستگی کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اور مختلف چیزوں کے بارے خود ہی سوال کر کے جواب دیا گیا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی ملکیت حاوی ہے جو کہ ہر قسم کے شریک سے منزہ اور مبرا ہے۔

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: قیامت کے دن کی ندامت جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو درست رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی، قیامت کے دن انہیں اپنی اس غلطی کا احساس ہوگا لیکن اس احساسِ غلطی اور اظہارِ ندامت پر ان کی بخشش کا فیصلہ نہیں کر دیا جائے گا بلکہ فیصلہ کا طریقہ اور مدار یہ ہوگا کہ جن لوگوں کا نامۂ اعمال نیکیوں سے پُر ہوگا وہ کامیاب ہوں گے اور جن کا نامۂ اعمال گناہوں کی گندگی سے لتھڑا ہوا ہوگا وہ ناکام و نامراد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے نہ تو رحم و کرم والا کلام فرمائیں گے اور نہ ہی انہیں پاک صاف کر کے جنت میں داخل فرمائیں گے۔ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ


سورۂ نور کا خلاصہ

بداخلاقی کا انسداد اور اس کے قوانین اس سورت کو احکامِ قرآنی میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس سورت کے احکام پر عمل پیر ا ہونا کسی بھی معاشرے کو امن و امان کا گہوارہ بنانے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے، اور اس کے قوانین سے اعراض معاشرے میں فتنہ و فساد، لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

رکوع نمبر ۱ کا خلاصہ: زنا ایک فوجداری جرم زنا و بدکاری اسلام کا ایک فوجداری جرم ہے جو اگر شادی شدہ سے صادر ہو تو اس کی سزا رجم ہے اور اگر غیر شادی شدہ اس کا مرتکب ہو تو اس کی سزا سو کوڑے ہیں جو جرم ثابت ہونے پر لگائے جائیں گے۔ اور جرم ثابت ہونے کے بعد سزا میں کسی قسم کی تخفیف یا نرمی برتنے کی ضرورت نہیں، جب اس ”زانی“ نے قانونِ الٰہی توڑنے میں بہادری دکھا دی تو پھر تم قانونِ الٰہی کو نافذ کرنے میں کیوں بزدلی دکھاؤ؟ یاد رکھو! کہ اب یہ بدکار شخص شرفاء کی مجلس میں بیٹھنے کے قابل نہیں رہا، البتہ ثبوتِ جرم کے لئے تحقیقات مکمل ٹھوس ہونی چاہئیں، گواہوں کی مکمل چھان پھٹک اور ان کی تعداد مکمل ہونا وغیرہ سب چیزیں سزا کے لوازمات میں سے ہیں۔ پھر اگر میاں نے بیوی کے اوپر زنا کی تہمت لگائی ہو لیکن اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو اس کے لئے لعان کا قانون موجود ہے۔

رکوع نمبر ۲ اور ۳ کا خلاصہ: تمہیدِ قانونِ حجاب اس رکوع میں قانونِ حجاب کی تمہید کے طور پر واقعۂ اِفک کو بیان کیا جا رہا ہے کہ کس طرح سرکارِ دو عالم ﷺ کی پاکیزہ زوجہ اور امت کی ماں حضرت صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر گندگی کی تہمت لگائی گئی، صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دلوں کو تڑپایا، ساقیٔ کوثر ﷺ کے قلبِ منور کو زخمی کیا گیا، صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس غم میں بیمار کروایا گیا۔ حتیٰ کہ پروردگارِ عالم کی رحمت کا دریا موج میں آیا اور پوری دس آیات صدیقہ رضی اللہ عنہا کی براءت میں ہمیشہ ہمیش کے لئے قرآنِ کریم کا حصہ بنا دی گئیں۔ اور فرما دیا گیا کہ اگر کوئی شخص کسی پر گندگی کی تہمت لگائے اور اس پر چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے ۸۰ کوڑے مارے جائیں۔ ان لوگوں نے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دل بھی دکھایا جس پر انہوں نے الزام میں ملوث "مِسطَح" کو کچھ نہ دینے کی قسم کھا لی۔ تاہم پروردگارِ عالم نے انہیں اس سے منع فرمایا اور ضابطۂ جدید یہ بیان فرما دیا کہ پاکیزہ مرد و عورت ہی ایک نکاح میں رہ سکتے ہیں اور بدکار و خبیث مرد و عورت ایک دوسرے کا جوڑا بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب حضور ﷺ سب سے بڑھ کر پاکیزہ ہیں تو آپ کی زوجۂ مطہرہ و محترمہ بھی سب سے بڑھ کر پاکیزہ ہیں۔

رکوع نمبر ۴ کا خلاصہ: قانونِ استیذان و حجاب کسی کے گھر میں بلا اجازت داخل ہونے سے روکنا بھی دراصل نگاہوں کے زنا سے حفاظت اور بچاؤ کا ایک اعلیٰ انتظام ہے جس کی گہرائی اور گیرائی کو پانا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد مردوں اور عورتوں کو اپنی اپنی نگاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ یہ زنا کا ذریعہ اور سبب نہ بن جائے، اور عورتوں کو اپنا پورا جسم چھپانے کا حکم دیا گیا۔ مستثنیات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ یہ قانونِ عام بھی بیان کر دیا گیا کہ اگر کسی کے پاس لونڈی یا غلام ہو تو ان کا نکاح کرا دینا چاہئے، جسم فروشی کے گھناونے جرم و کاروبار پر انہیں مجبور نہ کیا جائے۔

رکوع نمبر ۵ کا خلاصہ: تمثیلِ نورِ الٰہی و ظُلمتِ کفر اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنے ”نور“ کی عجیب مثال بیان فرمائی ہے جس سے اس مقام پر تعلیماتِ قرآن مراد ہیں۔ ان تعلیماتِ قرآنیہ کا ذکر ان گھروں میں ہونا چاہئے جو ذکرِ الٰہی کے لئے بنائے گئے ہوں، اور کافروں کے اعمال سراب کی طرح ہیں جو انسان کو دھوکے میں رکھتے ہیں اور ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی، یا جس طرح ایک گہرا اندھیرا دریا ہو، اس پر تہہ بہ تہہ موجیں ہوں اور ان سب کے اوپر ایک ایسا بادل ہو کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو، حتیٰ کہ ہاتھ کو ہاتھ نہ سوجھائی دے۔

رکوع نمبر ۶ کا خلاصہ: مدارجِ استفادہ جس طرح ایک ہی پانی سے زمین پر چلنے پھرنے والے مختلف قسم کے جاندار پیدا ہوتے ہیں، حالانکہ پانی ایک ہی ہوتا ہے لیکن بعض جاندار پیٹ کے بل چلتے ہیں، بعض دو پاؤں پر اور بعض چار ٹانگوں پر۔ اسی طرح علمِ الٰہی بھی ایک ہی ہوتا ہے لیکن جب وہ نازل ہوتا ہے تو ہر شخص اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کرتا ہے۔

رکوع نمبر ۷ کا خلاصہ: خلافتِ ارضی کا وعدہ جو لوگ نورِ الٰہی سے کما حقہٗ مستفید و مستنیر ہوتے ہیں، ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین وعدے ہیں:

  1. خلافتِ ارضی کے مستحق ٹھہرائے جائیں گے۔

  2. دینِ الٰہی کو استحکام نصیب ہوگا۔

  3. خوف کی کیفیت کو امن کی کیفیت سے بدل دیا جائے گا۔ شرط یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے، اطاعتِ خدا و مصطفائے خدا پر دل و جان سے عمل پیرا رہا جائے۔

رکوع نمبر ۸ کا خلاصہ: قانونِ استیذان و حجاب کا تکرار اس رکوع میں دوبارہ قانونِ استیذان و حجاب کو اس کی اہمیت کے پیشِ نظر دہرایا جا رہا ہے تا کہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ نابالغ بچوں کے لئے کم از کم تین اوقات (نمازِ فجر سے قبل، دوپہر کے وقت اور عشاء کے بعد) اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا۔ البتہ قانونِ حجاب میں اتنی نرمی برتی گئی کہ جہاں بداخلاقی کا شائبہ ختم ہو جائے (مثلاً عورت انتہائی بوڑھی ہو جائے) وہاں وجوبِ حجاب بھی ختم ہو جاتا ہے، اور جہاں بداخلاقی کا ادنیٰ سا بھی شائبہ ہو، وہاں فوراً حجاب کی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں۔ نیز انسان اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھر کھانا کھا سکتا ہے بشرطیکہ وہ خوش دلی سے کھلائیں۔

رکوع نمبر ۹ کا خلاصہ: داعیِ نورِ الٰہی کے ساتھ حسنِ صحبت کی تلقین حضورِ اکرم ﷺ جو لوگوں کو نورِ الٰہی کی طرف دعوت دے رہے ہیں، اگر وہ مسلمانوں کے کسی اجتماعی کام میں مشغول ہوں تو بلا اجازت وہاں سے کھسک جانا انتہائی شرمناک حرکت ہے، اور اس سے بھی زیادہ شرمناک حرکت یہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ کو ان کے نام سے پکارا جائے اور آپ کو محض ”محمد“ کہہ کر خطاب کیا جائے۔ مسلمانوں کو ایسے کاموں سے پرہیز کرنا چاہئے اور حضورِ اکرم ﷺ کے ساتھ حسنِ صحبت کا معاملہ کرنا چاہئے تا کہ وہ خوش ہوں۔

"آج الحمدللہ سورة مومنون اور سورۃ نور کی رکوعات کا خلاصہ مکمل ہوا، کل ان شاء اللہ سورة فرقان شروع کرینگے۔"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں