⚠️ احتیاط: ان صورتوں میں زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی!
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 05
عام غلط فہمیاں اور ان کا شرعی حل
ہمارے معاشرے میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے کچھ ایسی غلطیاں رائج ہیں جنہیں لوگ نیکی سمجھ کر کرتے ہیں، حالانکہ ان سے شرعی فریضہ ساقط نہیں ہوتا۔
1. قرض کی معافی کو زکوٰۃ شمار کرنا
اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی غریب کے ذمہ ان کا قرض باقی ہے، تو اسے زکوٰۃ کی نیت سے معاف کر دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔
شرعی حکم: اس طرح زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
درست طریقہ: اگر آپ اس غریب کی مدد کرنا چاہتے ہیں، تو پہلے اسے زکوٰۃ کی رقم اپنے ہاتھ سے دیں (تاکہ وہ اس کا مالک بن جائے)۔ پھر اگر وہ غریب اپنی خوشی سے وہی رقم آپ کو اپنا قرض چکانے کے لیے واپس دے دے، تو آپ کا قرض بھی ادا ہو جائے گا اور زکوٰۃ بھی۔
2. الگ رکھی ہوئی رقم کا ضائع ہو جانا
بعض لوگ سال کے شروع میں زکوٰۃ کی رقم حساب کر کے الگ رکھ دیتے ہیں، لیکن اگر وہ رقم تقسیم کرنے سے پہلے چوری ہو جائے یا ضائع ہو جائے، تو وہ سمجھتے ہیں کہ زکوٰۃ ان کے ذمہ سے اتر گئی۔
شرعی حکم: یہ خیال غلط ہے۔ رقم محض الگ رکھنے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔
وضاحت: زکوٰۃ اس وقت ادا ہوتی ہے جب وہ مستحق کے قبضے میں پہنچ جائے۔ اگر الگ رکھی ہوئی رقم ضائع ہو گئی، تو صاحبِ مال پر دوبارہ اتنی رقم نکال کر مستحقین تک پہنچانا لازم ہے۔
📚 حوالہ و ماخذ
کتاب: اغلاط العوام
مصنف: حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رحمتہ اللہ علیہ)
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
دینی رہنمائی اور مستند فقہی مسائل کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے جڑے رہیں:
🌐 آن لائن بلاگ:
🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم:
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا کسی غریب کو دیا گیا قرض معاف کرنے سے زکوٰۃ ادا ہو جاتی ہے؟ زکوٰۃ کی الگ رکھی ہوئی رقم گم ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ جانئے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تحقیق۔
Keywords: زکوٰۃ کی ادائیگی، قرض کی معافی، اغلاط العوام، مولانا اشرف علی تھانوی، زکوٰۃ کے مسائل، مفتی عرفان اللہ درویش، Zakat Misconceptions.
Hashtags:
#Zakat #اصلاح_معاشرہ #مسائل_زکوٰۃ #حکیم_الامت #اشرف_علی_تھانوی #رمضان_2026 #اسلامی_فقہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں