⚠️ شرعی مسئلہ: کیا حرام مال پر زکوٰۃ واجب ہے؟


⚠️ شرعی مسئلہ: کیا حرام مال پر زکوٰۃ واجب ہے؟

مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)

سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 03


حرام مال کی شرعی حیثیت

اگر کسی شخص کے پاس ایسا مال ہو جو مکمل طور پر حرام ذرائع (مثلاً سود، رشوت، چوری، یا غصب وغیرہ) سے حاصل کیا گیا ہو، تو شریعتِ مطہرہ میں اس کا حکم زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں بلکہ کچھ اور ہے:

  1. اصل مالک کو واپسی: حرام مال کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اسے اس کے اصل مالک تک پہنچایا جائے یا اس کے ورثاء کو لوٹایا جائے۔

  2. ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ: اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اسے لوٹانا ناممکن ہو، تو اس پورے مال کو بغیر ثواب کی نیت کے غریبوں میں تقسیم کرنا واجب ہے۔

  3. زکوٰۃ کا حکم: ایسے خالص حرام مال پر زکوٰۃ کا حکم نہیں ہوتا، کیونکہ زکوٰۃ پاکیزہ مال پر دی جاتی ہے اور حرام مال بذاتِ خود ناپاک ہے، جسے ملکیت میں رکھنا ہی جائز نہیں۔

حلال اور حرام مال کا اختلاط

اگر کسی شخص کے پاس حلال اور حرام مال اس طرح مل جائے کہ انہیں الگ کرنا ممکن نہ ہو (مخلوط مال):

  • ایسی صورت میں مجموعی مال پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

  • تاہم، بندے پر لازم ہے کہ وہ حرام مال کی مقدار کا اندازہ لگا کر اسے اپنے سرمائے سے نکالنے کی فکر کرے۔

یاد رکھیں: اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتا ہے۔


📚 حوالہ و ماخذ

  • کتاب: کتاب المسائل، جلد دوم (مع ترمیم)

  • مصنف: حضرت مفتی سید محمد سلمان منصور پوری صاحب


📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم

مستند دینی معلومات اور فقہی ابحاث کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز سے وابستہ رہیں:

🌐 آن لائن بلاگ: www.alkamunia.com

🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم: www.itdarasgah.pk


🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز

  • Meta Description: کیا سود اور رشوت کے مال پر زکوٰۃ دی جا سکتی ہے؟ حرام مال کو ٹھکانے لگانے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ جانئے مفتی سلمان منصور پوری صاحب کی تحقیق۔

  • Keywords: حرام مال کی زکوٰۃ، سود کا حکم، رشوت کا مال، مسائل زکوٰۃ، مفتی عرفان اللہ درویش، کتاب المسائل، Haram Wealth Zakat.

  • Hashtags: #Zakat #حرام_مال #مسائل_زکوٰۃ #سود #رشوت #اسلامی_فقہ #Ramadan2026



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں