🌍 زکوٰۃ کی منتقلی: ایک شہر سے دوسرے شہر رقم بھیجنے کا شرعی حکم
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
بانی: العرفان آن لائن اکیڈمی، پاکستان
سلسلہ: مسائلِ زکوٰۃ | پوسٹ نمبر: 07
اصل شرعی اصول
زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے مستحب اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ جس شہر یا علاقے میں صاحبِ مال قیام پذیر ہے، وہیں کے فقراء اور مستحقین پر زکوٰۃ خرچ کی جائے تاکہ مقامی ضرورت مندوں کی حاجت روائی پہلے ہو۔
زکوٰۃ دوسرے شہر بھیجنے کی صورتیں
اگرچہ اپنے شہر میں زکوٰۃ دینا بہتر ہے، لیکن درج ذیل صورتوں میں دوسرے شہر یا علاقے میں رقم منتقل کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ زیادہ ثواب کا باعث بھی بن سکتا ہے:
رشتہ داروں کی ضرورت: اگر آپ کے قریبی رشتہ دار کسی دوسرے شہر میں رہتے ہیں اور وہ مستحقِ زکوٰۃ ہیں، تو انہیں زکوٰۃ بھیجنے میں دوہرا ثواب ہے (ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا)۔
زیادہ استحقاق: اگر کسی دوسرے علاقے کے لوگ اپنے شہر کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ پسماندہ اور ضرورت مند ہوں۔
دینی مدارس کا تعاون: بہت سے مدارس ایسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں واقع ہیں جہاں علمِ دین کی بقا کا دارومدار زکوٰۃ و صدقات پر ہوتا ہے۔ ایسے مدارس میں رقم بھیجنا دین کی خدمت میں شامل ہے۔
خلاصہ حکم
زکوٰۃ ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنا بلا کراہت جائز ہے، بشرطیکہ وہاں بھیجنے میں کوئی دینی یا سماجی مصلحت (مثلاً رشتہ داروں کی مدد یا دینی ادارے کی بقا) پیشِ نظر ہو۔
📚 حوالہ جات و فتاویٰ
کتاب: کتاب المسائل، جلد دوم
ماخذ: دارالافتاء، جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر: 143708200033
📢 علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
مستند دینی معلومات اور زکوٰۃ کے درست حساب و کتاب کے لیے ہماری ویب سائٹس وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ:
🏛️ آئی ٹی درسگاہ فورم:
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: کیا زکوٰۃ کی رقم اپنے شہر سے باہر بھیجی جا سکتی ہے؟ رشتہ داروں یا پسماندہ علاقوں کے مدارس کو زکوٰۃ دینے کا شرعی حکم۔
Keywords: زکوٰۃ کی منتقلی، مسائل زکوٰۃ، مفتی عرفان اللہ درویش، زکوٰۃ دوسرے شہر بھیجنا، جامعہ بنوری ٹاؤن، Transferring Zakat.
Hashtags:
#Zakat #مسائل_زکوٰۃ #صدقہ #صلہ_رحمی #اسلامی_فقہ #Ramadan2026 #مدارس_اسلامیہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں