🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴38🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
حضرت ابوسلمہؓ کی ہجرت اور کفارِ مکہ کی شوم سازش
😢 حضرت ابوسلمہؓ کی ہجرت — بیوی اور بیٹے کی جدائی
انہوں نے ان کے اونٹ کی مہار پکڑی اور بولے:
’’اے ابوسلمہ! تم اپنے بارے میں اپنی مرضی کے مختار ہو — مگر ام سلمہ ہماری بیٹی ہے، ہم یہ گوارہ نہیں کر سکتے کہ تم اسے ساتھ لے جاؤ۔‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کی لگام کھینچ لی — اسی وقت ابوسلمہ کے خاندان کے لوگ وہاں پہنچ گئے اور بولے:
’’ابوسلمہ کا بیٹا ہمارے خاندان کا بچہ ہے — جب تم نے اپنی بیٹی کو اس کے قبضے سے چھڑا لیا — تو ہم بھی اپنے بچے کو اس کے ساتھ نہیں جانے دیں گے۔‘‘
یہ کہہ کر انہوں نے بچے کو چھین لیا — اس طرح ان ظالموں نے حضرت ابوسلمہؓ کو ان کی بیوی اور بچے سے جدا کر دیا۔
ابوسلمہؓ تنہا مدینہ منورہ پہنچے۔
🕊️ ام سلمہؓ کی ہجرت اور عثمان بن طلحہؓ کا کردار
ام سلمہؓ شوہر اور بچے کی جدائی کے غم میں روزانہ صبح سویرے مکہ سے باہر مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے میں جا کر بیٹھ جاتیں اور روتی رہتیں۔
ایک دن ان کا ایک رشتے دار ادھر سے گزرا — اس نے انہیں روتے دیکھا تو ترس آ گیا — وہ اپنی قوم کے لوگوں میں گیا اور ان سے بولا:
’’تمہیں اس غریب پر رحم نہیں آتا؟ اسے اس کے شوہر اور بچے سے جدا کر دیا — کچھ تو خیال کرو۔‘‘
آخر ان کے دل پسیج گئے — انہوں نے ام سلمہؓ کو جانے کی اجازت دے دی — یہ خبر سن کر ابوسلمہؓ کے رشتہ داروں نے بچہ ام سلمہؓ کو دے دیا — اور انہیں اجازت دے دی کہ بچے کو لے کر مدینہ چلی جائیں۔
اس طرح انہوں نے مدینہ کی طرف تنہا سفر شروع کیا — راستے میں حضرت عثمان بن طلحہؓ ملے — یہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے — کعبہ کے چابی بردار تھے — یہ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے۔
یہ ان کی حفاظت کی غرض سے ان کے اونٹ کے ساتھ ساتھ چلتے رہے — یہاں تک کہ انہیں قبا میں پہنچا دیا — پھر حضرت عثمان بن طلحہؓ یہ کہتے ہوئے رخصت ہو گئے:
’’تمہارے شوہر یہاں موجود ہیں۔‘‘
اس طرح ام سلمہؓ مدینہ پہنچیں — آپ پہلی مہاجر خاتون ہیں جو شوہر کے بغیر مدینہ آئیں۔
حضرت عثمان بن طلحہؓ نے انہیں مدینہ پہنچا کر جو عظیم احسان کیا تھا — اس کی بنیاد پر وہ کہا کرتی تھیں:
’’میں نے عثمان بن طلحہ سے زیادہ نیک اور شریف کسی کو نہیں پایا۔‘‘
🚶♂️ حضرت عمرؓ کی بے خوف ہجرت
اس کے بعد مکہ سے مسلمانوں کی مدینہ آمد شروع ہوئی — صحابہ کرام ایک کے بعد ایک آتے رہے — انصاری مسلمان انہیں اپنے گھروں میں ٹھراتے — ان کی ضروریات کا خیال رکھتے۔
حضرت عمرؓ اور عیاش بن ابو ربیعہؓ بیس آدمیوں کے ایک قافلے کے ساتھ مدینہ پہنچے — حضرت عمرؓ کی ہجرت خاص بات یہ ہے کہ مکہ سے چھپ کر نہیں نکلے — بلکہ باقاعدہ اعلان کر کے نکلے۔
انہوں نے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا — پھر مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کی — اس کے بعد مشرکین سے بولے:
’’جو شخص اپنے بچوں کو یتیم کرنا چاہتا ہے — اپنی بیوی کو بیوہ کرنا چاہتا ہے — یا اپنی ماں کی گود ویران کرنا چاہتا ہے — وہ مجھے جانے سے روک کر دکھائے۔‘‘
ان کا یہ اعلان سن کر سارے قریش کو سانپ سونگھ گیا — کسی نے ان کا پیچھا کرنے کی جرات نہ کی — وہ بڑے وقار سے ان سب کے سامنے روانہ ہوئے۔
🤝 حضرت ابوبکرؓ کی ہجرت کی تیاری
حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی ہجرت کی تیاری کر رہے تھے — ہجرت سے پہلے وہ آرزو کیا کرتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہجرت کریں — وہ روانگی کی تیاری کر چکے تھے۔
ایک دن حضور نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا:
’’ابوبکر! جلدی نہ کرو — امید ہے، مجھے بھی اجازت ملنے والی ہے۔‘‘
چنانچہ حضرت ابوبکرؓ رک گئے — انہوں نے ہجرت کے لیے دو اونٹنیاں تیار کر رکھی تھیں — انہوں نے ان دونوں کو آٹھ سو درہم میں خریدا تھا — اور انہیں چار ماہ سے کھلا پلا رہے تھے۔
😈 دارالندوہ میں کفار کی شوم سازش
ادھر مشرکین نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان مدینہ ہجرت کرتے جا رہے ہیں — اور مدینہ کے رہنے والے بڑے جنگجو ہیں — وہاں مسلمان روز بروز طاقت پکڑتے چلے جائیں گے — تو انہیں خوف محسوس ہوا کہ:
’’اللہ کے رسول بھی کہیں مدینہ نہ چلے جائیں — اور وہاں انصار کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف جنگ کی تیاری نہ کرنے لگیں۔‘‘
تو وہ سب جمع ہوئے — اور سوچنے لگے کہ کیا قدم اٹھائیں۔
یہ قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے تھے — دارالندوہ ان کے مشورہ کرنے کی جگہ تھی — یہ پہلا پختہ مکان تھا جو مکہ میں تعمیر ہوا۔
👹 شیطان کی آمد — انسانی روپ میں
قریش کے اس مشورے میں شیطان بھی شریک ہوا — وہ انسانی شکل میں آیا تھا — اور ایک بوڑھے کے روپ میں تھا — سبز رنگ کی چادر اوڑھے ہوئے تھے — وہ دروازے پر آ کر ٹھر گیا۔
اسے دیکھ کر لوگوں نے پوچھا:
’’آپ کون بزرگ ہیں؟‘‘
اس نے کہا:
’’میں نجد کا سردار ہوں — آپ لوگ جس غرض سے یہاں جمع ہوئے ہیں — میں بھی اسی کے بارے میں سن کر آیا ہوں — تاکہ لوگوں کی باتیں سنوں — اور ہو سکے تو کوئی مفید مشورہ بھی دوں۔‘‘
اس پر قریشیوں نے اسے اندر بلا لیا۔
🗣️ قریش کے مختلف مشورے
اب انہوں نے مشورہ شروع کیا — ان میں سے کوئی بولا:
’’اس شخص (یعنی رسول اللہ ﷺ) کا معاملہ تم دیکھ ہی چکے ہو — اللہ کی قسم! اب ہر وقت اس بات کا خطرہ ہے کہ یہ اپنے نئے اور اجنبی مددگاروں کے ساتھ مل کر ہم پر حملہ کرے گا — لہٰذا مشورہ کر کے اس کے بارے میں کوئی ایک بات طے کر لو۔‘‘
1. ابو البختری کی تجویز — قید کرنا
وہاں موجود ایک شخص ابو البختری بن ہشام نے کہا:
’’اسے بیڑیاں پہنا کر ایک کوٹھری میں بند کر دو — اور اس کے بعد کچھ عرصہ تک انتظار کرو — تاکہ اس کی بھی وہی حالت ہو جائے جو اس جیسے شاعروں کی ہو چکی ہے — اور یہ بھی انہی کی طرح موت کا شکار ہو جائے۔‘‘
اس پر شیطان نے کہا:
’’ہرگز نہیں! یہ رائے بالکل غلط ہے — یہ خبر اس کے ساتھیوں تک پہنچ جائے گی — وہ تم پر حملہ کر دیں گے — اور اپنے ساتھی کو نکال کر لے جائیں گے… اس وقت تمہیں پچھتانا پڑے گا — لہٰذا کوئی اور ترکیب سوچو۔‘‘
2. اسود بن ربیعہ کی تجویز — جلاوطنی
اب ان میں بحث شروع ہو گئی — اسود بن ربیعہ نے کہا:
’’ہم اسے یہاں سے نکال کر جلاوطن کر دیتے ہیں — پھر یہ ہماری طرف سے کہیں بھی چلا جائے۔‘‘
اس پر نجدی — یعنی شیطان — نے کہا:
’’یہ رائے بھی غلط ہے — تم دیکھتے نہیں — اس کی باتیں کس قدر خوبصورت ہیں — کتنی میٹھی ہیں — وہ اپنا کلام سنا کر لوگوں کے دلوں کو موہ لیتا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے جلاوطن کر دیا — تو تمہیں امن نہیں ملے گا — یہ کہیں بھی جا کر لوگوں کے دلوں کو موہ لے گا — پھر تم پر حملہ آور ہو گا… اور تمہاری یہ ساری سرداری چھین لے گا — لہٰذا کوئی اور بات سوچو۔‘‘
3. ابوجہل کی تجویز — اجتماعی قتل
اس پر ابوجہل نے کہا:
’’میری ایک ہی رائے ہے — اور اس سے بہتر رائے کوئی نہیں ہو سکتی۔‘‘
سب نے کہا: ’’اور وہ کیا ہے؟‘‘
ابوجہل نے کہا:
’’آپ لوگ ہر خاندان اور ہر قبیلے کا ایک ایک بہادر اور طاقتور نوجوان لیں — ہر ایک کو ایک ایک تلوار دیں — ان سب کو محمد پر حملہ کرنے کے لیے صبح سویرے بھیجیں — وہ سب ایک ساتھ اس پر اپنی تلواروں کا ایک بھرپور وار کریں… اس طرح اسے قتل کر دیں۔‘‘
اس سے ہو گا یہ کہ:
’’اس کے قتل میں سارے قبیلے شامل ہو جائیں گے — لہٰذا محمد کے خاندان والوں میں اتنی طاقت نہیں ہو گی کہ وہ ان سب سے جنگ کریں… لہٰذا وہ خون بہا (یعنی فدیے کی رقم) لینے پر آمادہ ہو جائیں گے — وہ ہم انہیں دے دیں گے۔‘‘
اس پر شیطان خوش ہو کر بولا:
’’ہاں! یہ ہے اعلیٰ رائے — میرے خیال میں اس سے اچھی رائے کوئی اور نہیں ہو سکتی۔‘‘
چنانچہ اس رائے کو سب نے منظور کر لیا۔
👼 اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبردار کرنا
اللہ تعالیٰ نے فوراً جبرئیل علیہ السلام کو حضور اکرم ﷺ کے پاس بھیج دیا — انہوں نے عرض کیا:
’’آپ روزانہ جس بستر پر سوتے ہیں — آج اس پر نہ سوئیں۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے مشرکین کی سازش کی خبر دی — چنانچہ سورۃ الانفال کی آیت 30 میں آتا ہے:
’’اور اس واقعے کا بھی ذکر کیجیے — جب کافر لوگ آپ کی نسبت بری بری تدبیریں سوچ رہے تھے — کہ آیا آپ کو قید کر لیں، یا قتل کر ڈالیں، یا جلاوطن کر دیں — اور وہ اپنی تدبیریں کر رہے تھے — اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا — اور سب سے مضبوط تدبیر والا اللہ ہے۔‘‘
🌙 رات کا وہ تاریخی لمحہ
غرض جب رات ایک تہائی گزر گئی — تو مشرکین کا ٹولہ حضور اکرم ﷺ کے گھر تک پہنچ کر چھپ گیا — وہ انتظار کرنے لگا کہ کب وہ سوئیں — اور وہ سب یک دم ان پر حملہ کر دیں۔
ان کفار کی تعداد ایک سو تھی…
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں