🤍✨🕌📿⭐️ سیرت النبی ﷺ قدم بقدم 🌴36🌴
سرکارِ مدینیہ، سیدِ دو عالم ﷺ کی سیرت کا مکمل اور مفصل تذکرہ
☼الکمونیا ⲯ﹍︿﹍میاں شاہد﹍︿﹍ⲯآئی ٹی درسگاہ☼
✍🏻 عبداللہ فارانی
☰☲☷ گذشتہ سے پیوستہ ☷☲☰
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
معراج کے بعد — پانچ نمازوں کا نفاذ اور عقبہ کی پہلی بیعت
😠 جہنم کے داروغہ مالک کا واقعہ
حضور اقدس ﷺ نے معراج کے دوران جہنم کے داروغہ مالک کو دیکھا — وہ انتہائی سخت طبیعت کا فرشتہ ہے۔ اس کے چہرے پر غصہ اور غضب رہتا ہے۔
آپ ﷺ نے اسے سلام کیا — داروغہ نے سلام کا جواب دیا، خوش آمدید بھی کہا، لیکن مسکرایا نہیں۔
اس پر حضور نبی کریم ﷺ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا:
’’یہ کیا بات ہے کہ میں آسمان والوں میں سے جس سے بھی ملا، اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا — مگر داروغہ جہنم نے مسکرا کر بات نہیں کی۔‘‘
اس پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا:
’’یہ جہنم کا داروغہ ہے — جب سے پیدا ہوا ہے، آج تک کبھی نہیں ہنسا۔ اگر یہ ہنس سکتا تو صرف آپ ہی کے لیے ہنستا۔‘‘
💫 معراج کی حقیقت — خواب نہیں حقیقت
یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ نبی کریم ﷺ کو معراج جاگنے کی حالت میں جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوئی — بعض لوگ معراج کو صرف ایک خواب کہتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں صرف روح گئی تھی، جسم ساتھ نہیں گیا تھا۔
اگر یہ دونوں باتیں ہوتیں تو پھر معراج کے واقعے کی بھلا کیا خصوصیت تھی؟ خواب میں تو عام آدمی بھی بہت کچھ دیکھ لیتا ہے — معراج کی اصل خصوصیت ہی یہ ہے کہ آپ ﷺ جسم سمیت آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ لہٰذا گمراہ لوگوں کے بہکاوے میں مت آئیں۔
اور پھر یہ بات بھی ہے کہ اگر یہ صرف خواب ہوتا، یا معراج صرف روح کو ہوتی — تو مشرکین مکہ مزاق نہ اڑاتے۔ جب کہ انہوں نے ماننے سے انکار کیا اور مزاق بھی اڑایا — خواب میں دیکھے کسی واقعے پر بھلا کوئی کیوں مزاق اڑاتا؟
🤔 اللہ کے دیدار کا مسئلہ
معراج کے بارے میں اس مسئلے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا یا نہیں — اس بارے میں دونوں طرح کی احادیث موجود ہیں۔ اس معاملے میں بہتر یہ ہے کہ ہم خاموشی اختیار کریں — کیونکہ یہ ہمارے اعتقاد کا مسئلہ نہیں ہے، نہ ہم سے قیامت کے دن یہ سوال پوچھا جائے گا۔
⏳ معراج کی معجزانہ رفتار
حضور ﷺ اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے بعد آسمانوں سے واپس زمین پر تشریف لے آئے — جب اپنے بستر پر پہنچے تو وہ اسی طرح گرم تھا جس طرح چھوڑ کر گئے تھے۔
یعنی معراج کا یہ عجیب واقعہ اور اتنا طویل سفر صرف ایک لمحے میں پورا ہو گیا — یوں سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس دوران کائنات کے وقت کی رفتار کو روک دیا، جس کے باعث یہ معجزہ نہایت تھوڑے وقت میں مکمل ہو گیا۔
🕌 پانچ نمازوں کا عملی تعلیم
معراج کی رات کے بعد جب صبح ہوئی اور سورج ڈھل گیا — تو جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے۔ انہوں نے امامت کر کے آپ ﷺ کو نماز پڑھائی — تاکہ آپ کو نمازوں کے اوقات اور نمازوں کی کیفیت معلوم ہو جائے۔
معراج سے پہلے آپ ﷺ صبح شام دو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے اور رات میں قیام کرتے تھے — لہٰذا آپ ﷺ کو پانچ فرض نمازوں کی کیفیت اس وقت تک معلوم نہیں تھی۔
جبرئیل علیہ السلام کی آمد پر حضور ﷺ نے اعلان فرمایا کہ سب لوگ جمع ہو جائیں — چنانچہ آپ ﷺ نے جبرئیل علیہ السلام کی امامت میں نماز ادا کی، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ کی امامت میں نماز ادا کی۔
🕐 پانچ نمازوں کے اوقات کا تعین
1. ظہر کی نماز
یہ ظہر کی نماز تھی — اسی روز اس کا نام ظہر رکھا گیا۔ اس لیے کہ یہ پہلی نماز تھی جس کی کیفیت ظاہر کی گئی تھی — چونکہ دوپہر کو عربی میں ظہیرہ کہتے ہیں، اس لیے یہ بھی ہو سکتا ہے یہ نام اس بنیاد پر رکھا گیا ہو — کیونکہ یہ نماز دوپہر کو پڑھی جاتی ہے۔
اس نماز میں آپ نے چار رکعت پڑھائی اور قرآن کریم آواز سے نہیں پڑھا۔
2. عصر کی نماز
اسی طرح عصر کا وقت ہوا — تو عصر کی نماز ادا کی گئی۔
3. مغرب کی نماز
سورج غروب ہوا — تو مغرب کی نماز پڑھی گئی۔ یہ تین رکعت کی نماز تھی — اس میں پہلی دو رکعتوں میں آواز سے قرأت کی گئی، آخری رکعت میں قرأت بلند آواز سے نہیں کی گئی۔
اس نماز میں بھی ظہر اور عصر کی طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام آگے تھے — آپ ﷺ ان کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، اور صحابہ نبی کریم ﷺ کی امامت میں — اس کا مطلب ہے، حضور ﷺ اس وقت مقتدی بھی تھے اور امام بھی۔
🕋 نماز کا مقام اور قبلہ
رہا یہ سوال کہ یہ نماز کہاں پڑھی گئیں — تو اس کا جواب یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں پڑھی گئیں، اور آپ ﷺ کا رخ بیت المقدس کی طرف تھا — کیونکہ اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ معظمہ میں رہے، اسی کی سمت منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔
جبرائیل علیہ السلام نے پہلے دن نمازوں کے اول وقت میں یہ نماز پڑھائیں، اور دوسرے دن آخری وقت میں — تاکہ معلوم ہو جائے، نمازوں کے اوقات کہاں سے کہاں تک ہیں۔
📿 پانچ نمازوں کی حکمت اور اہمیت
اس طرح یہ پانچ نمازیں فرض ہوئیں — اور ان کے پڑھنے کا طریقہ بھی آسمان سے نازل ہوا۔
آج کچھ لوگ کہتے نظر آتے ہیں: ’’نماز کا کوئی طریقہ قرآن سے ثابت نہیں — لہٰذا نماز کسی بھی طریقے سے پڑھی جا سکتی ہے۔ ہم تو بس قرآن کو مانتے ہیں۔‘‘ — ایسے لوگ صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔
نماز کا طریقہ بھی آسمان سے ہی نازل ہوا — اور ہمیں نماز اسی طرح پڑھنا ہوں گی، جس طرح نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم پڑھتے رہے۔
یہ بھی ثابت ہو گیا کہ فرض نمازیں پانچ ہیں — حدیث کے منکر پانچ نمازوں کا انکار کرتے ہیں، وہ صرف تین فرض نمازوں کے قائل ہیں — لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں صرف تین نمازوں کا ذکر آیا ہے۔
حالانکہ اول تو ان کی یہ بات ہے ہی جھوٹ — دوسرے یہ کہ جب احادیث سے پانچ نمازیں ثابت ہیں، تو کسی مسلمان کے لیے ان سے انکار کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
🧠 پانچ نمازوں کی حکمت
پانچ نمازوں کی حکمت کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے پانچ حواس — یعنی پانچ حسیں — رکھی ہیں:
آنکھ
کان
ناک
منہ
اعضاء و جوارح (ہاتھ پاؤں)
انسان گناہ بھی انہی حسوں کے ذریعے سے کرتا ہے — لہٰذا نمازیں بھی پانچ مقرر کی گئیں — تاکہ ان پانچوں حواسوں کے ذریعے دن اور رات میں جو گناہ انسان سے ہو جائیں، وہ ان پانچوں نمازوں کے ذریعے دھل جائیں۔
اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمتیں ہیں۔
🌌 آسمانوں کی حقیقت — اسلامی اور سائنسی نظریہ
یہ بھی یاد رکھیں کہ معراج کے واقعے میں حضور ﷺ کا آسمانوں پر جانا ثابت کرتا ہے کہ آسمان حقیقت میں موجود ہیں۔
موجودہ ترقی یافتہ سائنس کا یہ نظریہ ہے کہ آسمان کا کوئی وجود نہیں — بلکہ یہ کائنات ایک عظیم خلا ہے — انسانی نگاہ جہاں تک جا کر رک جاتی ہے، وہاں اس خلا کی مختلف روشنیوں کے پیچھے ایک نیلگوں حد نظر آتی ہے — اسی نیلگوں حد کو انسان آسمان کہتا ہے۔
لیکن اسلامی تعلیم نے ہمیں بتایا ہے کہ آسمان موجود ہیں — اور آسمان اسی ترتیب سے موجود ہیں، جو قرآن اور حدیث نے بتائی ہے — قرآن مجید کی بہت سی آیات میں آسمان کا ذکر ہے، بعض آیات میں ساتوں آسمان کا ذکر ہے — جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان ایک اٹل حقیقت ہے — نہ کہ نظر کا دھوکہ۔
الحمدللہ — معراج کا بیان تکمیل کو پہنچا۔
🕋 عقبہ کی پہلی بیعت — تاریخ ساز ملاقات
حج کے دنوں میں مکہ میں دور دور سے لوگ حج کرنے آتے تھے — یہ حج اسلامی طریقے سے نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس میں کفریہ اور شرکیہ باتیں شامل کر لی گئی تھیں — ان دنوں یہاں میلے بھی لگتے تھے۔
نبی کریم ﷺ اسلام کی دعوت دینے کے لیے ان میلوں میں بھی جاتے تھے۔ آپ ﷺ وہاں پہنچ کر لوگوں سے فرماتے تھے:
’’کیا کوئی شخص اپنی قوم کی حمایت مجھے پیش کر سکتا ہے — کیونکہ قریش کے لوگ مجھے اپنے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں۔‘‘
🗣️ مختلف قبائل کو دعوت
نبی کریم ﷺ منی کے میدان میں تشریف لے جاتے — لوگوں کے ٹھکانے پر جاتے اور ان سے فرماتے:
’’لوگو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو، اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔‘‘
نبی کریم ﷺ کا تعاقب کرتے ہوئے ابو لہب بھی وہاں تک پہنچ جاتا، اور ان لوگوں سے بلند آواز میں کہتا:
’’لوگو! یہ شخص چاہتا ہے تم اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دو۔‘‘
🚫 مختلف قبائل کا انکار
نبی کریم ﷺ نے قبیلہ کندہ اور قبیلہ کلب کے کچھ خاندانوں کے پاس گئے — ان لوگوں کو بنو عبداللہ کہا جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:
’’لوگو! لا الہ الا اللہ پڑھ لو — فلاح پا جاؤ گے۔‘‘
انہوں نے بھی اسلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
آپ ﷺ بنو حنیفہ اور بنو عامر کے لوگوں کے پاس بھی گئے — ان میں سے ایک نے آپ ﷺ کا پیغام سن کر کہا:
’’اگر ہم آپ کی بات مان لیں، آپ کی حمایت کریں اور آپ کی پیروی قبول کر لیں — پھر اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے مخالفوں پر فتح عطا فرما دے — تو کیا آپ کے بعد یہ سرداری اور حکومت ہمارے ہاتھوں میں آ جائے گی؟‘‘
یعنی انہوں نے یہ شرط رکھی کہ آپ کے بعد حکمرانی ان کی ہو گی۔
جواب میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’سرداری اور حکومت اللہ کے ہاتھ میں ہے — وہ جسے چاہتا ہے سونپ دیتا ہے۔‘‘
اس کے بعد اس شخص نے کہا:
’’تو کیا ہم آپ کی حمایت میں عربوں سے لڑیں، عربوں کے نیزوں سے اپنے سینے چھلنی کرا لیں — اور پھر جب آپ کامیاب ہو جائیں، تو سرداری اور حکومت دوسروں کو ملے؟ نہیں — ہمیں آپ کی ایسی حکومت اور سرداری کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘
اس طرح ان لوگوں نے بھی صاف انکار کر دیا۔
🕊️ عقبہ کی پہلی ملاقات — خزرج کے چھ افراد
ان تمام تر ناکامیوں کے بعد — آخر کار اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو پھیلانے، اپنے نبی ﷺ کا اکرام کرنے اور اپنا وعدہ پورا کرنے کا ارادہ فرمایا۔
آپ ﷺ حج کے دنوں میں گھر سے نکلے — وہ رجب کا مہینہ تھا۔ عرب حج سے پہلے مختلف رسموں اور میلوں میں شریک ہونے کے لیے مکہ پہنچا کرتے تھے۔ چنانچہ اس سال بھی آپ ﷺ مختلف قبیلوں سے ملنے کے لیے نکلے تھے — آپ ﷺ عقبہ کے مقام پر پہنچے۔
عقبہ ایک گھاٹی کا نام ہے — جس جگہ شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ہیں — یہ گھاٹی ادی مقام پر ہے۔ مکہ سے منی کی طرف جائیں تو یہ مقام بائیں ہاتھ پر آتا ہے — اب اس جگہ ایک مسجد ہے۔
وہاں آپ ﷺ کی ملاقات مدینہ کے قبیلے خزرج کی ایک جماعت سے ہوئی — اوس اور خزرج مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے تھے — یہ اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔
یہ حضرات تعداد میں کل چھ تھے — ایک روایت کے مطابق ان کی تعداد آٹھ تھی۔
🤝 تاریخی بیعت — اسلام کا پہلا قدم مدینہ میں
آپ ﷺ نے انہیں دیکھا — تو ان کے قریب تشریف لے گئے — ان سے فرمایا:
’’میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔‘‘
وہ بولے:
’’ضرور کہیں۔‘‘
فرمایا:
’’بہتر ہو گا کہ ہم لوگ بیٹھ جائیں۔‘‘
پھر آپ ﷺ ان کے پاس بیٹھ گئے — ان لوگوں نے جب آپ کے چہرے کی طرف دیکھا — تو وہاں سچائی ہی سچائی اور بھلائی ہی بھلائی نظر آئی۔
ایسے میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’میں آپ لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں — میں اللہ کا رسول ہوں۔‘‘
یہ سنتے ہی انہوں نے کہا:
’’اللہ کی قسم! آپ کے بارے میں ہمیں معلوم ہے — یہودی ایک نبی کی خبر ہمیں دیتے رہے ہیں، اور ہمیں اس سے ڈراتے رہے ہیں (یعنی وہ کہتے رہے ہیں کہ ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں) — آپ ضرور وہی ہیں — کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے پہلے وہ آپ کی پیروی اختیار کر لیں۔‘‘
📜 یہودیوں کی پیش گوئی کا پس منظر
اصل میں بات یہ تھی کہ جب بھی یہودیوں اور مدینے کے لوگوں میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوتا — تو یہودی ان سے کہا کرتے تھے:
’’بہت جلد ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے — ان کا زمانہ نزدیک آ چکا ہے۔ ہم اس نبی کی پیروی کریں گے اور ان کے جھنڈے تلے اس طرح تمہارا قتل عام کریں گے جیسے قوم عاد اور قوم ارم کا ہوا تھا۔‘‘
ان کا مطلب یہ تھا کہ ’’ہم تمہیں نیست و نابود کر دیں گے۔‘‘
اسی بنیاد پر مدینے کے لوگوں کو آپ ﷺ کے ظہور کے بارے میں معلوم تھا — اور اسی بنیاد پر انہوں نے فوراً آپ ﷺ کی بات مان لی، آپ ﷺ کی تصدیق کی اور مسلمان ہو گئے۔
🕊️ اوس و خزرج کی دشمنی کا خاتمہ
پے در پے ناکامیوں کے بعد یہ بہت زبردست کامیابی تھی — اور پھر یہ کامیابی تاریخی اعتبار سے بھی بہت بڑی ثابت ہوئی — اس بیعت نے تاریخ کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا — گویا اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے ایک زبردست خیر کا ارادہ فرمایا تھا۔
اسلام قبول کرتے ہی انہوں نے عرض کیا:
’’ہم اپنی قوم اوس اور خزرج کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ ان کے درمیان زبردست جنگ جاری ہے — اس لیے اگر اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے ان سب کو ایک کر دے — تو یہ بہت ہی اچھی بات ہو گی۔‘‘
اوس اور خزرج دو سگے بھائیوں کی اولاد تھے — پھر ان میں دشمنی ہو گئی — لڑائیوں نے اس قدر طول کھینچا کہ ایک سو بیس سال تک وہ نسل در نسل لڑتے رہے، قتل پر قتل ہوئے۔
اس وقت انہوں نے اپنی دشمنی کی طرف اشارہ کیا تھا — لہٰذا انہوں نے کہا:
’’ہم اوس اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی اسلام کی دعوت دیں گے — ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کے نام پر انہیں ایک کر دے۔ اگر آپ کی وجہ سے وہ ایک ہو گئے، ان کا کلمہ ایک ہو گیا — تو پھر آپ سے زیادہ قابل عزت اور عزیز کون ہو گا؟‘‘
حضور اکرم ﷺ نے ان کی بات کو پسند فرمایا — پھر یہ حضرات حج کے بعد مدینہ منورہ پہنچے۔
*ⲯ﹍︿﹍︿﹍ⲯ﹍ⲯ﹍︿﹍☼*
cxxx{}::::::::::::جاری ہے:::::::::::::::>

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں