💍 حق مہر کے احکامات: شرعی مقدار اور تعین کا طریقہ
مرتب: ✍️ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو (عفی عنہ)
سلسلہ: مسائلِ فقہیہ (احکامِ نکاح) | پوسٹ نمبر: 10
مہر کی شرعی حیثیت
نکاح کے موقع پر مہر عورت کا وہ بنیادی حق ہے جو شوہر پر واجب ہوتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے مہر کے حوالے سے درج ذیل راہنما اصول مقرر کیے ہیں:
1. مہرِ مِثل کا معیار
اصولی طور پر مہر کتنا ہونا چاہیے؟ اس کا معیار "مہرِ مِثل" ہے۔ یعنی اس عورت کے والد کے خاندان (ددھیال) کی وہ لڑکیاں جو اوصاف اور خصوصیات میں اس کے برابر ہوں، ان کا جتنا مہر مقرر کیا گیا تھا، وہی اس عورت کا بھی حق بنتا ہے۔
2. باہمی رضامندی
کمی: اگر لڑکی اور اس کے ولی (والد وغیرہ) اپنی مرضی سے مہرِ مثل سے کم پر راضی ہو جائیں، تو یہ جائز ہے۔
زیادتی: اگر لڑکا اپنی خوشی اور استطاعت کے مطابق مہرِ مثل سے زیادہ دینا چاہے، تو اس کی بھی شرعی اجازت ہے۔
مہر کی کم سے کم مقدار (Minimum Limit)
شریعت نے مہر کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر نہیں کی (تاہم سادگی پسندیدہ ہے)، لیکن کم سے کم مقدار متعین فرمائی ہے تاکہ عورت کے حق کی حفاظت ہو۔
شرعی مقدار: 10 درہم چاندی۔
چاندی کا وزن (تولہ میں): 2 تولہ 7.5 ماشہ چاندی۔
جدید وزن (گرام میں): 30 گرام 618 ملی گرام چاندی۔
اہم نکتہ: مہر کی رقم موجودہ مارکیٹ میں 30.618 گرام چاندی کی قیمت سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے زائد جتنا بھی فریقین طے کریں وہ مہر کہلائے گا۔
📚 مستند حوالہ جات
سنن الدار قطنی: حدیث رقم 3560
الدر المختار مع رد المحتار: جلد 3، صفحہ 101
فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی: 144111200841
🏛️ مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ: علمی و تحقیقی پلیٹ فارم
نکاح، طلاق اور دیگر عائلی مسائل کی شرعی رہنمائی کے لیے ہمارے پلیٹ فارمز وزٹ کریں:
🌐 آن لائن بلاگ:
🌐 ایس ای او (SEO) اور ٹیگز
Meta Description: حق مہر کی کم سے کم مقدار کیا ہے؟ مہرِ مثل سے کیا مراد ہے؟ جانئے نکاح کے اہم مسائل اور چاندی کے گرام کے حساب سے مہر کی قیمت۔
Keywords: حق مہر کے مسائل، مہر کی کم سے کم مقدار، مہر مثل، مفتی عرفان اللہ درویش، احکام نکاح، جامعہ بنوری ٹاؤن فتاویٰ، Minimum Mahr in Islam.
Hashtags:
#احکام_نکاح #حق_مہر #مسائل_فقہیہ #اسلامی_قانون #مہر_کی_مقدار #نکاح #مفتی_عرفان_اللہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں