مسلمان مرد کا غیر مسلم لڑکی سے شادی کرنا


 🌹 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌹


سلسلہ مسائل فقہیہ

احکام النکاح

پوسٹ نمبر 09

مسلمان مرد کا غیر مسلم لڑکی سے شادی کرنا

کسی مسلمان مرد کے غیر مسلم عورت سے نکاح کرنے کی چند صورتیں ہیں:

  1. اگر وہ غیر مسلم عورت مسلمان ہوجائے تو اس سے نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہے۔

  2. اگر وہ غیر مسلم عورت اہلِ کتاب (یعنی عیسائی یا یہودی مذہب کی پیروکار) ہو تو اس سے نکاح کرنا مکروہ ہے، کیونکہ موجودہ زمانے میں ان کے ساتھ بود و باش کی صورت میں اپنے یا اپنے بچوں کے دین اور اسلامی روایات کو بچانا مشکل ہے۔

  3. اگر وہ غیر مسلم عورت کسی آسمانی دین کی ماننے والی نہیں، بلکہ دہریہ / مشرکہ ہے تو اس سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

📚 نوٹ: اہلِ کتاب سے نکاح

  • اہلِ کتاب سے نکاح اس وقت جائز ہے جب وہ حقیقتاً آسمانی کتاب کے ماننے والے اور اس کے تابع دار ہوں، دہریے نہ ہوں۔ اگر تحقیق سے کسی عورت کا اہل کتاب ہونا ثابت ہوجائے تو اس سے اگرچہ نکاح جائز ہے، تاہم چند مفاسد کی وجہ سے مکروہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور مبارک میں اس پر سخت ناراضی کا اظہار فرمایا تھا۔

  • مسلمان مرد کو کتابیہ عورت کے ساتھ اس شرط کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے کہ وہ اسلام کی قوی اور روشن حجتوں اور مضبوط دلائل کے ذریعہ کتابیہ عورت اور اس کے خاندان کے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرسکے۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد خود مسلمان مرد اپنے ایمان کو قربان کر بیٹھے گا تو مسلمان مرد کو کتابیہ سے نکاح کی اجازت نہ ہوگی۔

دوسری جانب چونکہ عورت طبعی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی کم زور ہوتی ہے اور شوہر کے تابع ہوتی ہے، اس میں یہ طاقت نہیں کہ مرد کو اپنے تابع بناسکے، اس لیے شریعتِ اسلامیہ نے مسلمان عورت کا کتابی مرد کے ساتھ نکاح کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے، تاکہ اس کا دین سلامت رہے۔

📚 حوالہ جات

  • الفتاوی الہندیہ 281/1

  • معارف القرآن لکاندھلوی رح 447/2

  • فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی 144206200475


مرتب: ✍
مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں