🌹 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌹
سلسلہ مسائل فقہیہ
احکام النکاح
پوسٹ نمبر 08
رضاعی بھائی کے بھائی سے نکاح کا حکم
لڑکی کے لیے اپنے رضاعی بھائی کے بھائی سے نکاح اس صورت میں جائز ہے جب کہ وہ مذکورہ لڑکی کا رضاعی بھائی نہ ہو۔ مثلاً اگر زید اور بکر بھائی ہوں اور فاطمہ جو ان کے لیے اجنبی ہو، پھر فاطمہ نے زید کی والدہ کا دودھ پیا تو زید کی والدہ کی تمام اولاد سے فاطمہ کا رضاعت کا رشتہ ہوگیا؛ لہذا اب فاطمہ کا زید کے بھائی بکر سے رشتہ ناجائز ہے۔
البتہ اگر فاطمہ نے زید کی والدہ کا دودھ نہ پیا ہو، بلکہ زید نے فاطمہ کی والدہ کا دودھ پیا ہو تو فاطمہ کا زید کی والدہ کی اولاد سے رضاعت کا رشتہ نہیں ہوگا؛ لہذا اس صورت میں فاطمہ کا زید کے بھائی بکر سے رشتہ کرنا جائز ہے۔
📚 حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار 213/3
فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی 144206201398
مرتب: ✍
مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں