🌹 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌹
سلسلہ مسائل فقہیہ
احکام النکاح
پوسٹ نمبر 06
شیعہ لڑکی سے نکاح کا حکم
اگر کسی شیعہ کا عقیدہ یہ ہو کہ قرآنِ کریم میں تحریف (ردو بدل) ہوئی ہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتا ہو، یا ان کے بارہ امام کے بارے میں یہ قائل ہو کہ ان کو حلال حرام کا اختیار ہے، یا اللہ تعالیٰ سے غلطی کے صدور کا قائل ہو یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو اس طرح کے عقائد کا حامل کوئی بھی فرد مسلمان نہیں ہے۔ لہذا مذکورہ عقائد رکھنے والی شیعہ خاتون سے سنی لڑکے کا نکاح جائز نہیں ہے، اگر نکاح کر لے تو وہ نکاح کالعدم شمار ہوگا، اور فی الفور علیحدگی لازم ہوگی۔
البتہ اگر شیعہ خاتون اپنے باطل کفریہ عقائد سے صدقِ دل سے توبہ کرکے معتبر گواہوں کے سامنے اسلامی عقائد کے اعتراف کے ساتھ ساتھ شیعہ کے باطل عقائد سے مکمل براءت کا اظہار کرے اور صحیح اسلامی عقائد کا دل و جان سے اقرار کر لے تو اس سے نکاح جائز ہوگا۔
📚 حوالہ جات
بدائع الصنائع 2/270 دارالکتب العلمیہ
الدر المختار مع رد المحتار 3/46
فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی 144206200984
مرتب: ✍
مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفی عنہ

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں