👁️🗨️🏔️ تلفظ 🏔️👁️🗨️
"آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل"
(Āṅkh ōjhhal pahāṛ ōjhhal) 🗣️🎙️
👁️🗨️🏔️ معانی و مفہوم 🏔️👁️🗨️
یہ محاورہ اس بات کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ:
جو چیز سامنے نہ ہو، نظر سے اوجھل ہو جائے تو اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک ہی بات ہے۔
آنکھ سے غائب ہونے کے بعد اس کی موجودگی کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دیکھنے والے کی نظروں سے دور ہونے پر اس چیز کی اہمیت یا موجودگی بھول جائیں یا نظر انداز کر دیں۔
🔹 سادہ الفاظ میں: جو چیز نظر سے اوجھل ہو گئی، اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ 🟰
👁️🗨️🏔️ موقع و محل 🏔️👁️🗨️
یہ محاورہ ان مواقع پر بولا جاتا ہے جہاں:
کوئی شخص یا چیز نظر سے غائب ہونے کے بعد لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔
کوئی وعدہ، قرض، یا ذمہ داری اوجھل ہو جائے تو لوگ اسے یاد نہ رکھیں۔
طنزیہ یا حقیقت پسندانہ انداز میں کسی کی بے پروائی یا بھولنے کی بات کی جائے۔
مثال:
"وہ تو وعدہ کر کے چلا گیا، اب آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، کوئی پوچھنے والا نہیں۔" 😏
یا
"اس نے قرض لیا اور شہر چلا گیا، اب آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، واپس کب آئے گا؟" 💸
👁️🗨️🏔️ تاریخ و واقعہ 🏔️👁️🗨️
یہ محاورہ ہندی-اردو کی بول چال سے نکلا ہے اور بہت پرانا ہے۔ دیہی زندگی میں جب کوئی پہاڑ یا بڑی چیز نظر سے اوجھل ہو جاتی تھی تو لوگ کہتے تھے کہ اب اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک جیسا ہے۔ اسی سے یہ محاورہ بنا۔ اردو اور ہندی میں یہ بہت عام ہے جب کوئی چیز یا شخص نظر سے دور ہو جائے اور لوگ اسے بھول جائیں یا نظر انداز کر دیں۔ 🕰️📜
👁️🗨️🏔️ پُر لطف قصہ 🏔️👁️🗨️
ایک شخص نے دوست سے کہا: "بھائی، مجھے ۵۰۰۰ روپے دے دو، کل واپس کر دوں گا۔"
دوست نے پیسے دے دیے۔
اگلے دن دوست نے فون کیا: "بھائی، پیسے واپس کرو۔"
وہ بولا: "ارے بھائی، آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل، میں تو شہر چلا گیا!" 😅
دوست ہنس کر بولا: "اچھا، تو میں بھی آنکھ اوجھل کر کے تیرے گھر کا دروازہ توڑ دوں گا!" 😂
آخر میں پیسے واپس ہو گئے، اور دونوں نے مل کر مذاق کیا: "آنکھ اوجھل ہوئی تو پہاڑ بھی اوجھل ہو جاتا ہے!" 😄

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں