جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے، تو کیا ہوتا ہے؟
قرآنی آیت (سورۃ المائدہ: آیت ۱۳)
فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ
اردو ترجمہ
پس ان کی عہد شکنی کی بنا پر ہم نے ان پر لعنت کر دی، اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔ وہ کلام کو اس کی جگہ سے بدل دیتے ہیں، اور جو کچھ ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔ اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہو، بجز تھوڑے لوگوں کے۔ ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو، بے شک اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
تشریح
بنی اسرائیل سے ان کے پیغمبر کی معرفت خدا پرستانہ زندگی گزارنے کا عہد لیا گیا، اور ان کے بارہ قبائل سے بارہ سرداران کی نگرانی کے لیے مقرر کیے گئے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیا گیا وہ یہ تھا کہ وہ نماز کے ذریعہ خود کو اللہ والا بنائیں، زکوٰۃ کی صورت میں بندوں کے حقوق ادا کریں، پیغمبروں کا ساتھ دے کر خود کو اللہ کی پکار کی جانب کھڑا کریں، اور اللہ کے دین کی جدوجہد میں اپنا مال خرچ کریں۔
ان کاموں کی ادائیگی اور ان کی نگرانی کا اجتماعی نظام قائم کرنے کے بعد ہی وہ اللہ کی نظر میں اس کے مستحق تھے کہ اللہ ان کا ساتھی ہو، اور وہ ان کو پاک صاف کر کے اس قابل بنائے کہ وہ جنت کی لطیف فضاؤں میں داخل ہو سکیں۔ جنت کسی کو مفت نہیں ملتی، نہ کسی قسم کے نسلی تعلق پر۔
اس عہد میں جن اعمال کا ذکر ہے، یہی دین کے اساسی اعمال ہیں۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمام انسانوں کو اللہ اور اس کی جنت کی طرف لے جانے والی ہے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں بگاڑ آتا ہے تو وہ اس شاہراہ سے دائیں بائیں مڑ جاتی ہیں۔
اب یہ ہوتا ہے کہ خود ساختہ تشریحات کے ذریعہ دین کا تصور بدل دیا جاتا ہے۔ عبادت کے نام پر غیر متعلق باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ نجات کے ایسے راستے تلاش کر لیے جاتے ہیں جو بندوں کے حقوق ادا کیے بغیر آدمی کو منزل تک پہنچا دیں۔ دعوتِ حق کے نام پر ان کے یہاں بے معنی قسم کے دیوی ہنگامے جاری ہو جاتے ہیں۔ وہ دنیوی اخراجات کی بہت سی مدیں بناتے ہیں، اور انہیں ہی دین کے لیے خرچ کا نام دے دیتے ہیں۔
بالفاظِ دیگر، وہ اپنے دنیوی مفادات کے مطابق ایک دین گھڑتے ہیں اور اسی کو اللہ کا دین کہنے لگتے ہیں۔ جب کوئی گروہ بگاڑ کی اس نوبت تک پہنچتا ہے تو اللہ اپنی توجہ اس سے ہٹا لیتا ہے۔ اللہ کی توفیق سے محروم ہو کر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی زبان سمجھتے ہیں اور اسی میں مصروف رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے تاکہ ان کو پکڑ کر اللہ کی عدالت میں پہنچا دے۔
یہ سبق آسمانی کتاب کی حامل قوموں کے زوال کی وجوہات کو بہت خوبصورت بیان کرتا ہے۔ دل کو چھو لینے والا! 🤲

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں