سبق نمبر ۱۸: آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ اور رسول کا نام لینا چھوڑ دے


 

سبق نمبر ۱۸: آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ اور رسول کا نام لینا چھوڑ دے

قرآنی آیات (سورہ آل عمران: ۱۸۶-۱۸۹)

لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۝ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۚ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ ۝ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۝

اردو ترجمہ

یقینا تم اپنے جان و مال میں آزمائے جاؤ گے، اور تم بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے، ان سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی اور ان سے بھی جنھوں نے شرک کیا۔ اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔

اور جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا کہ تم اللہ کی کتاب کو پوری طرح لوگوں کے لیے ظاہر کرو گے اور اس کو نہیں چھپاؤ گے، مگر انہوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا اور اس کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا۔ کیسی بری چیز ہے جس کو وہ خرید رہے ہیں۔

جو لوگ اپنے ان کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیے، اس پر ان کی تعریف ہو، ان کو عذاب سے بری نہ سمجھو۔ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اور اللہ ہی کے لیے ہے زمین و آسمان کی بادشاہی، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔


تشریح

ایمان کا سفر آدمی کو ایسی دنیا میں طے کرنا ہوتا ہے جہاں اپنوں اور غیروں کی طرف سے طرح طرح کے زخم لگتے ہیں، مگر مؤمن کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ ردِ عمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ وہ ہر صورتِ حال کا مثبت جواب دیتے ہوئے آگے بڑھتا رہے۔

لوگوں کی طرف سے اشتعال دلانے والے مواقع پیش آتے ہیں، مگر وہ پابند ہوتا ہے کہ ہر قسم کے جھٹکوں کو اپنے اوپر سے گزار دے اور جوابی ذہن کے تحت کوئی کارروائی نہ کرے۔ بار بار ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جب دل کہتا ہے کہ حدودِ خداوندی کو توڑ کر اپنا مدعا حاصل کیا جائے، مگر اللہ کا ڈر اس کے قدموں کو روک دیتا ہے۔

اسی طرح دین کی مختلف ضرورتیں سامنے آتی ہیں اور جان و مال کی قربانی کا تقاضا کرتی ہیں۔ ایسے مواقع پر آسان دین کو چھوڑ کر مشکل دین کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ واقعہ ایمان کے سفر کو ہمت اور عالی حوصلگی کا زبردست امتحان بنا دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ مؤمن بننا اپنے آپ کو صبر اور تقویٰ کے امتحان میں کھڑا کرنا ہے۔ جو اس امتحان میں پورا اُترے، وہی مؤمن بنا جس کے لیے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

آسمانی کتاب کے حامل گروہ کا زوال

آسمانی کتاب کے حامل کسی گروہ پر جب زوال آتا ہے تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ اللہ اور رسول کا نام لینا چھوڑ دے یا اللہ کی کتاب سے اپنی بے تعلقی کا اعلان کر دے۔ دین ایسے گروہ کی نسلی روایات میں شامل ہو جاتا ہے، وہ اس کا پُر فخر قومی اثاثہ بن جاتا ہے۔

اور جس چیز سے اس طرح کا نسلی اور قومی تعلق قائم ہو جائے، اس سے علیحدگی کسی گروہ کے لیے ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم، اس کا یہ تعلق محض رسمی تعلق ہوتا ہے، نہ کہ فی الواقع کوئی حقیقی تعلق۔ وہ اپنی دنیوی سرگرمیاں بھی دین کے نام پر جاری رکھتے ہیں۔ وہ بے دین ہو کر بھی اپنے کو دین دار کہلانا چاہتے ہیں۔

وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ان کو اس کام کا کریڈٹ دیا جائے جس کو انہوں نے کیا نہیں۔

وہ نجاتِ اُخروی سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں اور اس کے ساتھ ایسے عقیدے بنا لیتے ہیں جن کے مطابق ان کو اپنی نجات بالکل محفوظ نظر آتی ہے۔

وہ اپنے گھڑے ہوئے دین پر چلتے ہیں، مگر اپنے کو دینِ خداوندی کا علم بردار بتاتے ہیں۔ وہ دنیوی مقاصد کے لیے سرگرم ہوتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو آخرت کا عنوان دیتے ہیں۔

وہ خود ساختہ سیاست چلاتے ہیں اور اس کو خدائی سیاست ثابت کرتے ہیں۔ وہ قومی مفادات کے لیے اُٹھتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ وہ خیرِ عام کا کردار ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔

مگر کوئی شخص بے دینی کو دین کہنے لگے تو اس بنا پر وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔

آدمی دنیا کی طرف دوڑے اور آخرت سے بے پروا ہو جائے تو یہ صرف گمراہی ہے۔

اور اگر وہ اپنے دنیوی کاروبار کو اللہ اور رسول کے نام پر کرنے لگے تو یہ گمراہی پر ڈھٹائی کا اضافہ ہے، کیونکہ یہ ایسے کام پر انعام چاہتا ہے جس کو آدمی نے انجام ہی نہیں دیا۔

یہ سبق زوال کی وجوہات اور رسمی دین کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔ سوچنے پر مجبور کرنے والا! ⚠️

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں