سبق نمبر ۱۶: اللہ کی اس کائنات میں اللہ کے سوا کسی کو کوئی زور یا بڑائی حاصل نہیں
قرآنی آیات (سورۃ البقرہ: ۱۶۵-۱۶۷)
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ ۗ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا وَأَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعَذَابِ إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا ۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ ۖ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
اردو ترجمہ
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا برابر ٹھہراتے ہیں، ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنی چاہیے۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے (تو جان لیں گے) کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔
جب وہ لوگ جن کے کہنے پر دوسرے چلتے تھے، ان لوگوں سے الگ ہو جائیں گے جو ان کے کہنے پر چلتے تھے۔ عذاب ان کے سامنے ہوگا اور ان کے سب طرف کے رشتے ٹوٹ چکے ہوں گے۔
وہ لوگ جو پیچھے چلے تھے کہیں گے: کاش! ہمیں دنیا کی طرف لوٹنا نصیب ہو جاتا تو ہم بھی ان سے الگ ہو جاتے جیسے یہ ہم سے الگ ہو گئے۔
اس طرح اللہ ان کے اعمال کو انہیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ سکیں گے۔
تشریح
آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ ایک خارجی سہارا چاہتا ہے، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے اور اس کے لیے اعتماد و یقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اُس کو اپنا معبود بناتا ہے۔
جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اُس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے محبت و عقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہو جاتے ہیں۔
آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ کسی سے دباؤ شدید کرے اور جس سے کوئی دباؤ شدید کرے، وہی اُس کا معبود ہے۔
موجودہ دنیا میں چونکہ اللہ نظر نہیں آتا، اس لیے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو دراصل اللہ کو دینا چاہیے۔
یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جو کسی ظاہری خصوصیت کی بنا پر لوگوں کا مرجع بن جاتے ہیں۔
آدمی کی فطرت کا خلا، جو حقیقتاً اس لیے تھا کہ اس کو ربّ العالمین سے پُر کیا جائے، وہاں وہ کسی سردار یا پیشوا کو بٹھا لیتا ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کسی انسان کے گرد کچھ ظاہری رونق دیکھ کر لوگ اس کو بڑا سمجھ لیتے ہیں۔
- کوئی اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف سے لوگوں کو متاثر کر لیتا ہے
- کوئی کسی گدی پر بیٹھ کر سیکڑوں سال کی روایات کا وارث بن جاتا ہے
- کسی کے یہاں انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے بلند تر کوئی انسان ہے
- کسی کے گرد پُراسرار کہانیوں کا ہالہ تیار ہو جاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی قوتوں کا حامل ہے
مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اس کائنات میں اللہ کے سوا کسی کو کوئی زور یا بڑائی حاصل نہیں۔
انسان کو اللہ کا درجہ دینے کا کاروبار اسی وقت تک ہے جب تک اللہ ظاہر نہیں ہوتا۔
اللہ کے ظاہر ہوتے ہی صورتِ حال اس قدر بدل جائے گی کہ بڑے اپنے چھوٹوں سے بھاگنا چاہیں گے اور چھوٹے اپنے بڑوں سے۔
وہ وابستگی جس پر آدمی دنیا میں فخر کرتا تھا، جس سے وفاداری اور شیفتگی دکھا کر آدمی سمجھتا تھا کہ اس نے سب سے بڑی چٹان کو پکڑ رکھا ہے، وہ آخرت کے دن اس طرح بے معنی ثابت ہوگی جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو۔
آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا اور کچھ نہ کر سکے گا۔
یہ سبق اللہ کی وحدانیت اور غلط معبودوں کی بے بسی کو خوبصورت طریقے سے بیان کرتا ہے۔ دل کو چھو لینے والا! 🤲

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں