سبق نمبر ۱۵: آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو اللہ کا نام اس کو ہلا دیتا ہے


 

سبق نمبر ۱۵: آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو اللہ کا نام اس کو ہلا دیتا ہے

قرآنی آیت (سورۃ البقرہ: آیت ۷۴)

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْأَنْهُرُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاءُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۝

اردو ترجمہ

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے۔ پس وہ پتھر کے مانند ہو گئے یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں۔ بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض پتھر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔


تشریح

اللہ کے حکم کے بارے میں جو لوگ بحثیں اور تاویلیں کرتے ہیں ان کے اندر دھیرے دھیرے بے حسی کا مرض پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے دل سخت ہوتے چلے جاتے ہیں۔

اللہ کا نام سب سے بڑی ہستی کا نام ہے۔ آدمی کے اندر ایمان زندہ ہو تو اللہ کا نام اس کو ہلا دیتا ہے۔ بولنے سے زیادہ اسے اثر ہوتا ہے۔ چپ لگ جاتی ہے۔

مگر جب دلوں میں جمود اور بے حسی آتی ہے تو اللہ کی باتوں میں بھی اس قسم کی بحثیں اور تاویلیں شروع کر دی جاتی ہیں جو عام انسانی کلام میں کی جاتی ہیں۔

اس قسم کا عمل ان کی بے حسی میں اور اضافہ کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہو جاتے ہیں۔ اب اللہ کا تصور ان کے دلوں کو نہیں پگھلاتا، وہ ان کے اندر تڑپ پیدا نہیں کرتا، وہ ان کی روح کے اندر ارتعاش پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔

پتھروں کا ذکر تمثیل کے طور پر

اللہ نے اپنی کائنات کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ آدمی کے لیے عبرت و نصیحت کا سامان بن گئی ہے۔

یہاں کی ہر چیز خاموش مثال کی زبان میں اسی مرضیِ رب کا عبرت کا سامان ہے۔ ہر چیز میں مرضیِ رب کا عملی نشان ہے۔

قرآن میں الفاظ کے ذریعے یہ بیان کیا گیا کہ پتھروں کے ذریعہ اللہ نے اپنی دنیا میں جو تمثیلات قائم کی ہیں ان میں سے تین چیزوں کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔

پتھروں کی تین تمثیلیں

  1. پہاڑوں پر پتھروں سے پانی کے سوتے
    • پتھروں کے اندر سے پانی کے سوتے بہتے رہتے ہیں، جو بالآخر مل کر دریا کی صورت اختیار کر لیتے ہیں
    • یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہو اور وہ آنسوؤں کی صورت میں اس کی آنکھ سے بہہ پڑتا ہو
  2. خشک چٹانوں سے پانی کا نکلنا
    • جو بظاہر خشک چٹان معلوم ہوتا ہے، مگر جب توڑنے والے اس کو توڑتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے نیچے پانی کا بڑا ذخیرہ موجود تھا
    • ایسی چٹانوں کو توڑ کر کنویں وغیرہ بنائے جاتے ہیں
    • یہ اس انسان کی تمثیل ہے جو بظاہر اللہ سے دور معلوم ہوتا تھا، اس کے بعد اس پر ایک حادثہ گزرا
    • اس حادثے نے اس کی روح کو ہلا دیا۔ وہ آنسوؤں کے سیلاب کے ساتھ اللہ کی طرف دوڑ پڑا
  3. ہبوط (لینڈ سلائیڈ)
    • پہاڑوں کے اوپر سے پتھر کے ٹکڑوں کا لڑھک کر نیچے آ جانا
    • یہ اس انسان کی تمثیل ہے جس نے کسی انسان کے مقابلے میں غلط رویہ اختیار کیا
    • اس کے بعد اس کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا گیا
    • اللہ کا حکم سامنے آتے ہی وہ ڈھے پڑا
    • انسان کے سامنے وہ جھکنے کے لیے تیار نہ تھا، مگر جب انسان کا معاملہ اللہ کا معاملہ بن گیا تو وہ عاجزانہ طور پر اس کے آگے گر پڑا

یہ سبق دل کی بے حسی اور اللہ کے خوف کی خوبصورت تمثیل ہے۔ دل کو نرم کرنے والا! 🤲

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں