سبق نمبر ۱۴: حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتا ہے
قرآنی آیات (سورۃ یونس: ۹۶-۹۸)
إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ آمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا آمَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
اردو ترجمہ
بے شک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پوری ہو چکی ہے، وہ ایمان نہیں لائیں گے، خواہ اُن کے پاس ساری نشانیاں آ جائیں، جب تک کہ وہ دردناک عذاب کو سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔ پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا؟ یونس کی قوم کے سوا۔ جب وہ ایمان لائے، تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا اور انہیں ایک مدت تک بہرہ مند ہونے کا موقع دیا۔
تشریح
انسان کے سامنے جب ایک حق بات آتی ہے تو اس کی عقل گواہی دیتی ہے کہ یہ صحیح ہے، مگر حق کو لینے کے لیے آدمی کو کچھ دینا پڑتا ہے، اور اسی دینے کے لیے آدمی تیار نہیں ہوتا۔ اس کی خاطر آدمی کو دوسرے کے مقابلے میں اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتا ہے، اپنے مفاد کو خطرے میں ڈالنا ہوتا ہے، اپنی رائے اور اپنے وقار کو کھونا پڑتا ہے۔ یہ اندیشے آدمی کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس چیز کا جواب اسے قبولیت اور اعتراف سے دینا چاہیے تھا، اس کا جواب وہ انکار اور مخالفت سے دینے لگتا ہے۔
آدمی کی نفسیات کچھ اس طرح بنی ہے کہ وہ ایک بار جس رُخ پر چل پڑے، اُسی رُخ پر اس کا پورا ذہن چلنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حق سے انحراف کرنے کے بعد بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آدمی دوبارہ حق کی طرف لوٹے، کیونکہ ہر آنے والا دن وہ اپنی فکر میں پختہ تر ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس قابل ہی نہیں رہتا کہ حق کی طرف واپس جائے۔
اس طرح کے لوگ اپنے موقف کو بتانے کے لیے ایسے الفاظ بولتے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ ان کا کیس نظریاتی کیس ہے، مگر حقیقتاً وہ صرف ضد، تعصب اور ہٹ دھرمی کا کیس ہوتا ہے، جو اپنی دنیوی مصلحتوں کی خاطر اختیار کیا جاتا ہے۔ تاہم عذابِ خداوندی کے ظہور کے وقت آدمی کا یہ بھرم کھل جائے گا۔ خوف کی حالت اسے اس چیز کے آگے جھکنے پر مجبور کر دے گی جس کے آگے وہ بے خوفی کی حالت میں جھکنے پر تیار نہ ہوتا تھا۔
پچھلے زمانے میں جتنے رسول آئے، سب کے ساتھ یہ قصہ پیش آیا کہ ان کی مخاطب قوم آخر وقت تک ایمان نہیں لائی۔ البتہ جب وہ عذاب کی پکڑ میں آگئے تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب تک اللہ انہیں دلیل کی زبان میں پکار رہا تھا، انہوں نے نہیں مانا۔ اور جب اللہ نے انہیں اپنی طاقتوں کی زد میں لے لیا، تو کہنے لگے کہ اب ہم مانتے ہیں۔ مگر ایسا ماننا اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ اللہ کو وہ ماننا مطلوب ہے جب آدمی دلیل کے زور پر جھک جائے، نہ کہ وہ طاقت کے زور پر جھکے۔
حضرت یونس علیہ السلام عراق کے ایک قدیم شہر نینویٰ میں بھیجے گئے۔ انہوں نے وہاں تبلیغ کی، مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ آخر حضرت یونس علیہ السلام نے پیغمبروں کی سنت کے مطابق ہجرت کی۔ وہ یہ کہہ کر نینویٰ سے چلے گئے کہ اب تمہارے اوپر اللہ کا عذاب آئے گا۔ حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد عذاب کی ابتدائی علامتیں ظاہر ہوئیں، مگر اُس وقت انہوں نے وہ نہ کیا جو قومِ ہود نے کیا تھا کہ انہوں نے عذاب کا بادل آتے دیکھ کر کہا کہ یہ ہمارے لیے بارش برسانے آ رہا ہے۔ قومِ یونس کے اندر فوراً چَونک پیدا ہو گئی۔ سارے لوگ اپنے مویشیوں، عورتوں اور بچوں کو لے کر میدان میں جمع ہو گئے اور اللہ کے آگے عاجزی کرنے لگے۔ اس کے بعد عذاب اُن سے اُٹھا لیا گیا۔ جس طرح ظہورِ عذاب سے پہلے کا ایمان قابلِ اعتبار ہے، اُسی طرح وقوعِ عذاب کے قریب کا ایمان بھی قابلِ اعتبار ہو سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اتنا کامل ہو جتنا کامل قومِ یونس کا ایمان تھا۔
یہ سبق قبولِ حق کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کو خوبصورت طریقے سے بیان کرتا ہے۔ دل کو چھو لینے والا! 🌟

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں