✨ آج کی بات ✨
💬 "بلاوجہ شک اور بحث، رشتوں کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔"
یہ جملہ صرف ایک معمولی مشاہدہ نہیں — یہ رشتوں کی تباہی کا وہ زہر ہے جو آہستہ آہستہ دلوں کو الگ کر دیتا ہے۔ 🌫️
دنیا میں لوگ رشتوں کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کے لیے بہت کچھ کرتے ہیں: تحفے دیتے ہیں، مہنگے کھانے کھلاتے ہیں، سفر پر لے جاتے ہیں…
لیکن ایک ہی بلاوجہ شک یا بے جا بحث ان تمام محنتوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔
لیکن ایک ہی بلاوجہ شک یا بے جا بحث ان تمام محنتوں کو خاک میں ملا دیتی ہے۔
کیونکہ شک دل کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا ہے،
اور بے جا بحث زبان کو تیر بناتی ہے —
جو رشتے کے دل میں گھُس جاتا ہے، اور زخم ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
اور بے جا بحث زبان کو تیر بناتی ہے —
جو رشتے کے دل میں گھُس جاتا ہے، اور زخم ہمیشہ کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔
📖 اسلامی تعلیم: شک = گناہ، بحث = فساد
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
(سورۃ الحجرات: 12)
"اے ایمان والو! بے جا گمان سے بچو — بے شک بعض گمان گناہ ہے۔"
یعنی شک صرف ذہنی بات نہیں — یہ گناہ ہے، خاص طور پر جب وہ بغیر کسی ثبوت کے ہو۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ"
(صحیح بخاری: 6115)
"تم بے جا گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے۔"
اور بحث کے بارے میں آپ ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ہر چیز میں احسان (بہترین سلوک) ہی کامیابی کی کنجی ہے — اور بلاوجہ بحث اس کے بالکل برعکس ہے۔)
رسول اللہ ﷺ نے واضح کیا:
"الْمُؤْمِنُ لَا يُسَبُّ وَلَا يَشْتُمُ وَلَا يَفْحَشُ وَلَا يَتَكَلَّمُ بِالْفُحْشِ"
(ترمذی)
"مومن گالی نہیں دیتا، نہ برا بولتا ہے، نہ بے ہودہ بات کرتا ہے۔"
اور بحث کے بارے میں فرمایا:
"مَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ"
(ترمذی: 2694، حسن)
"جو شخص بحث چھوڑ دے — چاہے وہ درست ہو — اللہ اس کے لیے جنت کے اعلیٰ ترین حصے میں گھر بنائے گا۔"
یعنی حق ہونے کے باوجود بحث چھوڑنا، ایمان کی بلند ترین علامت ہے۔
📜 تاریخ کی گواہی: صحابہ کی رواداری
ایک دفعہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو "سودا" (کالا) کہہ دیا۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فوراً حضور ﷺ کے پاس شکایت کی۔
آپ ﷺ نے حضرت ابوذر سے پوچھا:
حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے فوراً حضور ﷺ کے پاس شکایت کی۔
آپ ﷺ نے حضرت ابوذر سے پوچھا:
"کیا تم نے اسے اس کی ماں کی وجہ سے گالی دی؟"
ابوذر رضی اللہ عنہ نے معافی مانگی، اور آپ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کو اس کی ماں کی وجہ سے نہ گالی دے!"
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ چھوٹی سی بات بھی رشتے کو خراب کر سکتی ہے —
لیکن فوری معافی مانگ کر اسے درست کیا جا سکتا ہے۔
لیکن فوری معافی مانگ کر اسے درست کیا جا سکتا ہے۔
💭 نفسیات اور رشتوں کی تباہی
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ "negative communication patterns" (منفی رابطے کے طریقے) جیسے:
- بلاوجہ شک،
- الزام تراشی،
- اور بے جا بحث
— رشتوں کو آہستہ آہستہ زہر دیتے ہیں۔
ایک رشتہ محبت سے نہیں ٹوٹتا —
بلکہ بے اعتمادی اور لڑائی کے ذریعے ٹوٹتا ہے۔
بلکہ بے اعتمادی اور لڑائی کے ذریعے ٹوٹتا ہے۔
اور جب شک داخل ہو جاتا ہے،
تو ہر بات پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے:
تو ہر بات پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے:
"کیا وہ سچ بول رہا ہے؟"
"کیا وہ میرے پیچھے کچھ کر رہا ہے؟"
اور یہی شک، رشتے کی روح کو مار دیتا ہے۔
💡 عملی رہنمائی: رشتوں کو بچانے کے لیے
- بغیر ثبوت کے شک نہ کریں:
اگر کوئی بات دل میں آئے، تو براہ راست پوچھیں — لیکن محبت سے، نہ الزام تراشی سے۔ - حق ہونے کے باوجود خاموش رہیں:
کیا آپ کا مقصد جیتنا ہے یا رشتہ بچانا؟ - فوری معافی مانگیں:
اگر آپ نے کوئی غلطی کی ہو، تو فخر چھوڑ کر معافی مانگیں — یہ کمزوری نہیں، بلکہ قوت ہے۔ - دعا کریں:"اللّٰهم احْفَظْنِي مِنَ الشَّكِّ فِي إِخْوَانِي، وَاجْعَلْنِي سَبَبًا فِي صَلَاحِ رَحِمِي."
"اے اللہ! مجھے اپنے بھائیوں کے بارے میں شک سے بچا، اور مجھے اپنے رشتوں کی اصلاح کا ذریعہ بنا دے۔"
🌅 خاتمہ: رشتہ وہ نازک دھاگہ ہے جو بلاوجہ کھینچنے سے ٹوٹ جاتا ہے
🌟 "شک دل کی آنکھوں پر پردہ ڈالتا ہے،
اور بحث زبان کو تیر بنا دیتی ہے۔
لیکن محبت وہ ہاتھ ہے جو دونوں کو روک لیتا ہے —
اور کہتا ہے: 'رک جاؤ… یہ رشتہ قیمتی ہے!'
🤲 "اے اللہ! ہمارے دلوں کو بے جا شک سے پاک رکھ،
ہماری زبانوں کو بے جا بحث سے بچا،
اور ہمیں وہ حکمت عطا فرما جو ہمیں رشتوں کی قدر کرنے پر مجبور کرے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
بلاوجہ شک اور بحث، رشتوں کو خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں!"

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں