آج کی بات: عقل جیسی کوئی دولت نہیں اور جہالت جیسی ۔ ۔ ۔ ۔


 آج کی بات

💬 "عقل جیسی کوئی دولت نہیں، اور جہالت جیسی کوئی غربت نہیں۔"
یہ جملہ صرف حکمت کا ایک خوبصورت مقولہ نہیں — یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے، جو ہر دور میں، ہر معاشرے میں، اور خاص طور پر اسلامی تعلیمات میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ 🌟
دنیا میں لوگ دولت، شہرت، اور طاقت کو سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔
لیکن اسلام کہتا ہے: جو شخص عقل سے محروم ہو، وہ چاہے کروڑ پتی ہو، غریب ترین غریب ہے۔
اور جو شخص عقل والا ہو، وہ چاہے فاقہ زدہ ہو، حقیقی معنیٰ میں امیر ترین امیر ہے۔

📖 اسلام میں عقل کی عظمت

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں بارہا "عاقلین" (عقل والوں) کو مخاطب کرتے ہیں:
﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَاقِلِينَ﴾
(سورۃ البقرہ: 164)
"بے شک ان میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
یہ اشارہ ہے کہ اللہ کی نشانیاں صرف عقل والوں کو سمجھ آتی ہیں — نہ کہ جو صرف آنکھوں سے دیکھتے ہیں، بلکہ جو دل سے سوچتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ الْعَقْلُ"
(المعجم الأوسط للطبراني)
"عبادت کا سب سے افضل درجہ عقل ہے۔"
اور ایک دوسری حدیث میں:
"مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الْعَقْلِ فَقَدْ أُعْطِيَ خَيْرًا كَثِيرًا"
"جسے عقل کا حصہ دیا گیا، اسے بہت بھلائی دی گئی۔"
یعنی عقل صرف دماغی صلاحیت نہیں — یہ نعمتِ الٰہی ہے، جو ایمان، اخلاق، اور آخرت کی کنجی ہے۔

📜 تاریخ کی گواہی: عقل = ہدایت

حضرت لقمان علیہ السلام کو اللہ نے حکمت (عقل و بصیرت) عطا کی تھی، نہ کہ دولت یا بادشاہی۔
لیکن ان کی نصیحت آج تک دنیا بھر میں پڑھی جاتی ہے:
﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾
(سورۃ لقمان: 13)
"اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا — بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔"
ان کی عقل نے نہ صرف اپنے بیٹے کو، بلکہ لاکھوں نسلوں کو راہِ راست دکھائی۔
اسی طرح، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو "فاروق" (حق و باطل میں تمیز کرنے والا) کہا جاتا تھا —
کیونکہ ان کی عقل ہی تھی جو انہیں ہر معاملے میں حق کی طرف لے جاتی تھی۔

💭 جہالت: وہ غربت جو دولت سے بھی نہیں چھوٹتی

آج کے دور میں بہت سے لوگ تعلیم یافتہ ہیں، لیکن عقل مند نہیں۔
وہ ڈگریاں رکھتے ہیں، لیکن:
— غیبت کرتے ہیں،
— ریا کاری کرتے ہیں،
— اور اپنی نیکیوں کو سوشل میڈیا پر شو کرتے ہیں۔
یہ جہالت کی علامت ہے — کیونکہ جہالت صرف پڑھنے نہ پڑھنے کی نہیں، بلکہ سوچنے نہ سوچنے کی ہے۔
اللہ فرماتے ہیں:
﴿أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا﴾
(سورۃ الفرقان: 44)
"کیا تم گمان کرتے ہو کہ ان میں سے اکثر سننے یا سمجھنے والے ہیں؟ نہیں! یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں — بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ!"
یعنی جہالت صرف علم کی کمی نہیں — یہ ہدایت سے دوری ہے۔

💡 عملی رہنمائی: عقل کیسے بڑھائیں؟

  1. قرآن پر غور کریں:
    ہر آیت پر سوچیں: "اللہ اس سے کیا سکھانا چاہتا ہے؟"
  2. سچائی کو ترجیح دیں:
    عقل والا وہ ہے جو حق کو حق کہے، چاہے اس کے خلاف ہو۔
  3. غصے میں فیصلہ نہ کریں:
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    "غصے میں مت بولو!"
    کیونکہ غصہ عقل کو اندھا کر دیتا ہے۔
  4. دعا کریں:
    "اللّٰهم احْفَظْنِي بِعَقْلِكَ، وَاهْدِنِي بِفَضْلِكَ، وَاجْعَلْنِي مِنَ الرَّاشِدِينَ."
    "اے اللہ! مجھے اپنی عقل سے محفوظ رکھ، اپنے فضل سے ہدایت دے، اور مجھے راشدین (عقل مندوں) میں شامل فرما۔"

🌅 خاتمہ: عقل ہی وہ دولت ہے جو چوری نہیں ہو سکتی

دنیاوی دولت:
— چوری ہو سکتی ہے،
— ضائع ہو سکتی ہے،
— اور موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن عقل کی دولت:
— چوری نہیں ہو سکتی،
— وقت کے ساتھ بڑھتی ہے،
— اور آخرت میں بھی ساتھ دیتی ہے۔
🌟 "دولت والے تو بہت ہیں،
لیکن عقل والے ہی وہ ہیں جو اللہ کی راہ پہچانتے ہیں۔
جہالت والے تو غریب ہیں،
چاہے ان کے پاس سونے کے پہاڑ ہوں!"
🤲 "اے اللہ! ہمیں عقل عطا فرما جو ہمیں دنیا کے فریب سے بچائے،
ہمارے اعمال کو سیدھا کرے،
اور ہمیں جہالت کی غربت سے نجات دے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
عقل جیسی کوئی دولت نہیں، اور جہالت جیسی کوئی غربت نہیں!"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں