آج کی بات: دوست، کتاب، راستہ اور سوچ غلط ہوں تو ۔ ۔ ۔


 آج کی بات

💬 "دوست، کتاب، راستہ اور سوچ غلط ہوں تو انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں۔"
یہ جملہ صرف چار چیزوں کا ذکر کرتا ہے، لیکن اس کے پیچھے زندگی کی سمت طے کرنے والے چار ستون چھپے ہوئے ہیں۔ اگر یہ چاروں درست ہوں، تو انسان راہِ حق پر گامزن رہتا ہے؛ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی خراب ہو جائے، تو پوری زندگی بھٹکن کا نام بن جاتی ہے۔ 🌫️
آئیے، ہر ایک کو الگ سے سمجھیں — نہ صرف اس لیے کہ ہم غلطی سے بچیں، بلکہ اس لیے کہ ہم خود کو اور دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی طاقت حاصل کریں۔

🤝 1. دوست: روح کا آئینہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ"
(مسند أحمد، صحیح لغیرہ)
"انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، سو ہر ایک تم میں سے غور کرے کہ وہ کس سے دوستی کرتا ہے۔"
دوست صرف وقت گزارنے والا نہیں ہوتا — وہ دل کی آواز، ارادوں کی سمت، اور اخلاق کا نقشہ ہوتا ہے۔
اگر دوست نیک ہے، تو وہ آپ کو نماز کی طرف کھینچے گا۔
اگر دوست بد ہے، تو وہ آپ کو غیبت، فضول بات، اور گناہ کی طرف دھکیلے گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے:
"میں اس شخص سے ڈرتا ہوں جس کے دوست بد ہوں — چاہے وہ خود کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو!"
کیونکہ بری صحبت آہستہ آہستہ دل کو زہر دیتی ہے — جیسے گندگی پانی کو آلودہ کرتی ہے۔

📖 2. کتاب: راہنمائی کا چراغ

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿هَٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾
(سورۃ ابراہیم: 52)
"یہ (قرآن) لوگوں کے لیے پیغام ہے، تاکہ وہ اس سے ڈریں، اور جان لیں کہ بے شک وہی ایک معبود ہے — اور عقل مند اس سے نصیحت حاصل کریں۔"
کتاب صرف کاغذ اور سیاہی نہیں — یہ فکر کی بنیاد، عقیدے کی دیوار، اور راہِ آخرت کا نقشہ ہے۔
اگر کتاب حق پر مبنی ہو (جیسے قرآن و حدیث)، تو وہ راہِ جنت دکھاتی ہے۔
لیکن اگر کتاب غلط فکر، فلسفے، یا منافقانہ تاویلات پر مبنی ہو، تو وہ راہِ گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
آج کے دور میں "کتاب" صرف کتاب ہی نہیں — یہ سوشل میڈیا، بلاگز، پوڈکاسٹس، اور ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
اگر آپ ان میں سے غلط ذرائع منتخب کریں گے، تو آپ کی سوچ بھی غلط ہو جائے گی۔

🛤️ 3. راستہ: عمل کا سفر

اللہ فرماتے ہیں:
﴿وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ﴾
(سورۃ الانعام: 153)
"اور یقیناً یہ میرا سیدھا راستہ ہے، اسی پر چلو — اور دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ تم اس کے راستے سے بھٹک جاؤ گے۔"
راستہ صرف جسمانی نہیں — یہ عمل، عادتیں، اور روزمرہ کے فیصلے ہیں۔
اگر آپ کا راستہ صدق، امانت، اور عبادت پر ہے، تو آپ منزل (جنت) کی طرف جا رہے ہیں۔
لیکن اگر آپ کا راستہ جھوٹ، فریب، اور غفلت پر ہے، تو آپ گمراہی کے گھنے جنگل میں داخل ہو رہے ہیں۔
یاد رکھیں: راستہ چھوٹا ہو یا بڑا — اگر وہ غلط ہو، تو منزل بھی غلط ہو گی۔

💭 4. سوچ: دل کا کمانڈ سنٹر

اللہ فرماتے ہیں:
﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾
(سورۃ محمد: 24)
"کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟"
سوچ ہی وہ چیز ہے جو دوست کا انتخاب، کتاب کا انتخاب، اور راستہ کا انتخاب کرتی ہے۔
اگر سوچ صاف اور ایمانی ہو، تو تمام چیزیں درست ہو جائیں گی۔
لیکن اگر سوچ مادیت، حسد، یا شہوت سے آلودہ ہو، تو ہر چیز غلط ہو جائے گی۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کہتے تھے:
"دنیا کی ہر برائی غلط سوچ سے شروع ہوتی ہے۔"

💡 عملی رہنمائی: چاروں ستونوں کو درست کریں

  1. دوست چنیں:
    وہی رکھیں جو آپ کو اللہ کی یاد دلائیں، نہ کہ غفلت میں ڈالیں۔
  2. کتاب منتخب کریں:
    صرف وہی مواد پڑھیں/سنیں جو قرآن و حدیث کی روشنی میں ہو۔
  3. راستہ درست کریں:
    ہر دن کا مقصد یہ ہو کہ اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔
  4. سوچ کو پاک کریں:
    ہر فیصلے سے پہلے پوچھیں:
    "کیا یہ اللہ کو پسند ہوگا؟"

🌅 خاتمہ: چاروں درست = منزلِ جنت

🌟 "دوست اچھا ہو، تو دل سیدھا رہے گا۔
کتاب درست ہو، تو فکر روشن رہے گی۔
راستہ سچا ہو، تو قدم مضبوط رہیں گے۔
سوچ پاک ہو، تو منزل قریب ہو گی۔
لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی غلط ہو،
تو پوری زندگی گمراہی کا نام بن جائے گی!"
🤲 "اے اللہ! ہمارے دوست ہماری ہدایت کا ذریعہ بنیں،
ہماری کتابیں ہماری راہنمائی کا چراغ بنیں،
ہمارے اعمال ہماری جنت کی کنجی بنیں،
اور ہماری سوچ ہمارے ایمان کی حفاظت کرے۔
کیونکہ ہم جانتے ہیں:
دوست، کتاب، راستہ اور سوچ غلط ہوں تو انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں!"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں